کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: با ب ہے اس حاکم کے بیان میں جو آدمی کو کسی سزا کے کام میں مبتلا دیکھے اس حال میں کہ حاکم تنہا تھا کیا اس شخص پر حد قائم کی جائے گی یا نہیں؟
حدیث نمبر: 30807
٣٠٨٠٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن (عبد الكريم) (١) عن عكرمة قال: قال عمر لعبد الرحمن بن عوف: أرأيت لو كنت القاضي والوالي ثم أبصرت إنسانا على حد، أكنت مقيما عليه؟ قال: لا، حتى يشهد معي غيري، قال: أصبت ولو قلت غير (ذلك) (٢) لم (تجد) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت عبدالرحمن بن عوف سے دریافت کیا؍ تمہاری کیا رائے ہے کہ اگر تم قاضی اور حاکم ہو پھر تم کسی شخص کو کسی حد کے کام میں مبتلا دیکھو تو کیا تم اس پر حد قائم کرو گے یا نہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : نہیں، یہاں تک کہ اس کے ساتھ کوئی اور بھی گواہی دے آپ نے فرمایا : تم نے درست بات کی اور اگر تم اس کے علاوہ کوئی بات کہتے تو تم صحیح نہ ہوتے۔
حدیث نمبر: 30808
٣٠٨٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان قال: سمعت حمادا يقول: سمعنا أن الحاكم يجوز قوله فيما اعترف عنده إلا الحدود.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد کو یوں فرماتے ہوئے سنا : یقینا حاکم کا قول ان معاملات میں جائز ہے جس کا اس کے سامنے اعتراف کیا گیا سوائے حدود کے۔