کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: تعزیر کا بیان کتنی سزا ہوگی؟ اور کتنی حد تک پہنچائے جا سکتے ہیں؟
حدیث نمبر: 30800
٣٠٨٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا سفيان بن عيينة عن حميد الأعرج عن يحيى بن عبد اللَّه بن صيفي أن عمر كتب إلى أبي موسى ألا تبلغ في تعزير أكثر من ثلاثين (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن عبداللہ بن صیفی فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے حضرت ابو موسیٰ کو خط لکھا ؟ تعزیر میں تیس سے زیادہ مقدار میں کوڑے نہ ہوں۔
حدیث نمبر: 30801
٣٠٨٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن جامع عن أبي وائل أن ⦗١٣⦘ رجلًا كتب إلى أم سلمة في دين له قبلها (يُحرج) (١) عليها فيه، فأمر عمر بن الخطاب أن يضرب ثلاثين جلدة، قال بعض أصحابنا: كلها يبضع و (يحدر) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ام سلمہ کو خط لکھا اپنے قرض کے بارے میں جوان پر لازم تھا اس نے اس خط میں آپ کو پریشان کیا۔ تو حضرت عمر نے حکم دیا کہ اس شخص کو تیس کوڑے مارے جائیں گے۔
حدیث نمبر: 30802
٣٠٨٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن أشعث عن الشعبي قال: التعزير ما بين السوط إلى الأربعين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا : تعزیر کی مقدار ایک کوڑے سے چالیس کوڑوں کے مابین ہے۔
حدیث نمبر: 30803
٣٠٨٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن صدقة بن عبد اللَّه (عن) (١) الحارث بن عتبة أن عمر بن عبد العزيز أتي برجل يسب عثمان فقال: ما حملك على أن سببته؟ قال: أبغضه قالوا: وإن أبغضت رجلًا سببته؟ قال: فأمر به فجلد ثلاثين جلدة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حارث بن عتبہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پا س ایک آدمی لایا گیا جو حضرت عثمان کو گالیاں دیتا تھا، آپ نے پوچھا ! کس بات نے تجھے ان کو گالیاں دینے پر ابھارا ؟ اس نے کہا : میں ان سے بغض رکھتا ہوں آپ نے فرمایا : اگر تو کسی آدمی سے بغض رکھے گا تو اس کا مطلب ہے کہ تو اسے گالی دے ؟ تو آپ کے حکم سے اس کو تیس کوڑے مارے گئے۔
حدیث نمبر: 30804
٣٠٨٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن طلحة بن يحيى قال: كنت جالسًا عند عمر بن عبد العزيز فجاءه رجل فسأله الفريضة، فلم يفرض له، فقال: هو كافر باللَّه إن لم يفرض له، قال: فضربه ما بين العشرة إلى الخمسة عشر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت طلحہ بن یحییٰ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس بیٹھا ہوتا تھا کہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور اس نے آپ سے روزینہ مقرر کرنے کا سوال کیا آپ نے اس کے لیے حصہ مقرر نہیں کیا تو وہ کہنے لگا : وہ اللہ کے ساتھ کفر کرنے والا ہے اگر وہ حصہ مقرر نہ کرے ! راوی کہتے ہیں ! پس آپ نے اسے دس سے پندرہ کوڑے مارے۔
حدیث نمبر: 30805
٣٠٨٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شبابة قال: حدثنا ليث بن سعد عن يزيد ابن أبي حبيب عن بكير بن عبد اللَّه عن سليمان بن يسار عن عبد الرحمن بن جابر عن أبي بردة بن نيار قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يجلد فوق عشرة أسواط إلا في حد" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو بردہ بن نیار فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دس سے زیادہ کوڑے نہیں مارے جائیں گے مگر کسی حد میں۔
حدیث نمبر: 30806
٣٠٨٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن إسماعيل بن أبي خالد عن عمران عن الشعبي أنه سئل عن أربعة شهدوا على رجل أنه ليس ابن فلان، وشهد أربعة أنه ابن فلان، فقال: ادرأ عن هؤلاء، (لأنهم) (١) (أربعة) (٢)، (وأُصدّق) (٣) الآخرين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی سے ان چار آدمیوں کے متعلق سوال کیا گیا جنہوں نے ایک آدمی پر گواہی دی کہ وہ فلاں کا بیٹا نہیں ہے اور چار آدمیوں نے یہ گواہی دی کہ بیشک وہ فلاں شخص کا بیٹا ہے ان کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا : میں ان سے سزا ختم کردوں گا اس لیے کہ وہ چار ہیں اور میں دوسرے کی تصدیق کروں گا۔