حدیث نمبر: 30791
٣٠٧٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مبارك (عن أبي بكر) (١) بن أبي مريم عن حكيم بن عمير قال: كتب عمر بن الخطاب ألا يجلدن أمير جيش ولا سرية أحدا الحد، حتى يطلع (٢) الدرب (لئلا) (٣) تحمله حمية الشيطان أن يلحق بالكفار (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکیم بن عمیر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے خط لکھا : خبر دار ! ہرگز امرہ لشکر یا امیر گروہ کسی ایک کو حد کے کوڑے مت مارے یہاں تک کہ شہر کا راستہ ظاہر ہوجائے کہیں ایسا نہ ہو کہ شیطان کی حمیت و غیرت اس پر حملہ کردے اور وہ کفار سے جا ملے۔
حدیث نمبر: 30792
٣٠٧٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مبارك عن أبي بكر بن عبد اللَّه بن أبي مريم عن حميد بن فلان بن رومان أن أبا الدرداء نهى أن يقام على أحد حد في أرض العدو (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید بن فلان بن رومان فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الدرداء نے کسی پر بھی دشمن کے علاقہ میں حد قائم کرنے سے منع فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 30793
٣٠٧٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: غزونا أرض الروم ومعنا حذيفة وعلينا رجل من قريش فشرب الخمر، فأردنا أن نحده فقال حذيفة: أتحدون أميركم وقد دنوتم من عدوكم فيطمعون فيكم؟ (فقال) (١): (لأشربنها) (٢) وإن كانت محرمة، ولأشربن علي رغم من (رغم) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ ہم رومیوں سے جنگ کر رہے تھے۔ ہمارے ساتھ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ ایک قریشی ہمارا امیر تھا۔ اس نے شراب پی ہم نے اس پر حد جاری کرنا چاہی تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا تم اپنے امیر پر حد قائم کرو گے حالانکہ تم اپنے دشمن کے قریب ہو۔ اس طرح تو وہ تم پر حاوی ہوجائے گا۔ اس پر وہ امیر کہنے لگا کہ میں شراب پیوں گا ضراہ وہ حرام ہے۔