کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کے بیان میں جو اپنی بیوی پر تہمت لگائے پھر وہ اسے طلاق دے دے، اس پر کیا سزا لاگو ہوگی؟
حدیث نمبر: 30784
٣٠٧٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي في رجل قذف ثم طلق ثلاثًا قال: يلاعنها ما كانت في العدة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن ابی خالد فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی سے ایک آدمی کے بارے میں مروی ہے جس نے تہمت لگائی پھر اس نے تین طلاقیں دے دیں آپ نے فرمایا : وہ اپنی بیوی سے لعان کرے گا جب تک وہ عدت میں ہو۔
حدیث نمبر: 30785
٣٠٧٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا كان يملك الرجعة لاعن، وإن كان لا يملك الرجعة جلد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : جب تک وہ حق رجعت کا مالک نہ ہو تو اسے کوڑے مارے جائیں گے۔
حدیث نمبر: 30786
٣٠٧٨٦ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان قال: سمعت حمادًا يقول: لا حد ولا لعان] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد کو یوں فرماتے ہوئے سنا نہ حد ہوگی اور نہ ہی لعان۔
حدیث نمبر: 30787
٣٠٧٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن غيلان عن الحكم قال: يضرب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت غیلان فرماتے ہیں کہ حضرت حکم نے ارشاد فرمایا : اس کو کوڑے مارے جائیں گے۔
حدیث نمبر: 30788
٣٠٧٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن ابن أبي عروبة عن عامر عن مكحول أنه قال: إذا قذف ثم طلق لاعن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ حضرت مکحول نے ارشاد فرمایا : جب وہ تہمت لگائے پھر وہ طلاق دے تو وہ لعان کرے گا۔