کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کے بیان میں جو اپنی بیوی پر کسی آدمی کے ساتھ تہمت لگا دے اور اس بندے کا نام بھی لے
حدیث نمبر: 30769
٣٠٧٦٩ - حدثنا أبو بكر، قال: حدثنا حفص عن أشعث عن الحسن قال: إذا قذف الرجل امرأته برجل مسمى أقيم عليه الحد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعت فرماتے ہیں کہ حسن بصری نے ارشاد فرمایا : جب آدمی اپنی بیوی پر کسی آدمی کا نام لے کر الزام لگائے تو اس پر حد قذف قائم کی جائے گی۔ اور حضرت ابن سیرین نے فرمایا : اس پر حد لاگو نہیں ہوگی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے شخص سے لعان کروایا تھا جس نے اپنی بیوی پر ابن سحماء کے ساتھ بدکاری کی تہمت لگائی تھی۔
حدیث نمبر: 30770
٣٠٧٧٠ - وقال ابن سيرين: لا حدَّ عليه، كان الذي لاعن به النبي ﷺ قذفها بابن سحماء.
حدیث نمبر: 30771
٣٠٧٧١ - حدثنا أبو بكر، قال: حدثنا يزيد بن هارون عن محمد بن سالم عن الشعبي قال: إذا قذف الرجل امرأته برجل (مسمى) (١)، لم يكن عليه لهما إلا حدٌّ واحد، قال: أيهما (أحده) (٢) بحده لم يكن للآخر حد، إن بدأت المرأة ملاعنته لم يضرب للرجل، وإن ضُرب للرجل لم يُلاعن للمرأة﴾ (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سالم فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا : جب اپنی بیوی پر کسی آدمی کا نام لے کر تہمت لگائے تو اس پر ان دونوں کی وجہ سے صرف ایک ہی حد لاگو ہوگی۔ آپ نے فرمایا : ان دونوں میں سے جس نے بھی اس کو اپنی سزا کے لیے پکڑ لیا تو دوسرے کے لے ف سزا کا اختیار نہیں ہوگا۔ اگر عورت نے ابتدا کرلی تو وہ اپنے خاوند سے لعان کرے گی اور آدمی کی وجہ سے اسے کوڑے نہیں مارے جائیں گے اور اگر اسے آدمی کی وجہ سے کوڑے مارے جائیں گے تو عورت سے لعان نہیں ہوگا۔