کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی اور عورت کے بیان میں جو دونوں حد کا اقرار کرلیں پھر وہ دونوں انکار کردیں
حدیث نمبر: 30751
٣٠٧٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن حجاج عن الحسن بن سعد عن عبد اللَّه بن شداد أن امرأة رفعت إلى عمر أقرت بالزنا أربع مرات، فقال: إن رجعت لم نقم عليك، فقالت: لا يجتمع علي أمران آتي بالفاحشة ولا يقام علي الحد قال: فأقامه عليها (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن شداد فرماتے ہیں کہ ایک عورت کو حضرت عمر کے سامنے پیش کیا گیا جس نے چار مرتبہ زنا کا اقرار کیا۔ اس پر آپ نے فرمایا : اگر تو واپس لوٹ جائے تو ہم تجھ پر حد قائم نہیں کریں گے اس عورت نے کہا : مجھ پر پھر دو معاملہ جمع ہوجائیں گے ! میں نے فحش کا م کیا اور مجھ پر حد بھی نہیں لگائی گئی تو آپ نے اس پر حد قائم کردی۔
حدیث نمبر: 30752
٣٠٧٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن حجاج عن (نافع عن) (١) سليمان بن يسار أن أبا واقد بعثه عمر إليها -فذكر مثله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ حضرت ابو واقد حضرت عمر کو نے اس عورت کی طرف بھیجا پھر آپ نے ماقبل جیسی حدیث ذکر کی۔
حدیث نمبر: 30753
٣٠٧٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر وعطاء قالا: إذا أقر بحد زنا أو سرقة ثم جحد دُرِئ عنه (الحد) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عامر شعبی اور حضرت عطاء ان دونوں حضرات نے ارشاد فرمایا : جب کوئی حد زنا یا حد سرقہ کا اقرار کرلے پھر وہ انکار کرے تو اس سے سزا ختم کردی جائے گی۔
حدیث نمبر: 30754
٣٠٧٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مبارك عن حماد بن سلمة عن قتادة عن يحيى بن يعمر قال: إن كان قد أقر فقد أنكر، يعني: الذي يقر بالحد، ثم يرجع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت یحییٰ بن یعمر نے ارشاد فرمایا : اگر کسی نے اقرار کیا پھر انکار کردیا یعنی وہ شخص جو حد کا اقرار کرلے پھر رجوع کرلے۔
حدیث نمبر: 30755
٣٠٧٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن الحباب عن حماد بن سلمة عن حميد عن الحسن في الرجل يقر (عند) (١) الناس ثم يجحد، قال: يؤخذ به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حمید فرماتے ہیں کہ حسن بصری سے اس آدمی کے بارے میں مروی ہے جو لوگوں کے سامنے اقرار کرلے پھر انکار کردے آپ نے فرمایا : اس کو اس وجہ سے پکڑا جائے گا۔
حدیث نمبر: 30756
٣٠٧٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن أبي عدي عن أشعث عن الحسن في الرجل يقر بالحد دون السلطان ثم يجحد إذا رفع: لم ير أن يلزمه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ حسن بصری سے اس آدمی کے بارے میں مروی ہے جو بادشاہ کی غیر موجودگی میں حد کا اقرار کرلے پھر وہ انکار کردے جب اسے پیش کیا جائے۔ تو آپ نے یہ رائے نہیں رکھی کہ اس پر لازم کردیا جائے۔
حدیث نمبر: 30757
٣٠٧٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: أخبرني إسماعيل عن ابن شهاب قال: من اعترف مرارا كثيرة بسرقة أو بحد ثم أنكر: لم (يجز) (١) (عليه شيء) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل فرماتے ہیں کہ حضرت ابن شھاب نے ارشاد فرمایا : جو شخص کئی مرتبہ چوری یا حد کا اعتراف کرلے پھر وہ انکار کردے تو اس پر کوئی چیز نافد نہیں ہوگی۔