کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کے بیان میں جس کے خلاف دو گواہ گواہی دیں پھر وہ دونوں چلے جائیں
حدیث نمبر: 30750
٣٠٧٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص بن غياث عن ابن جريج (عن ⦗٥١٣⦘ عطاء) (١) قال: أتي علي برجل وشهد عليه رجلان أنه سرق فأخذ (في) (٢) شيء من أمور الناس، وتهدد شهود الزور، (قال: لا) (٣) (أوتى) (٤) بشاهد زور إلا فعلت به كذا وكذا، قال: ثم طلب الشاهدين فلم يجدهما، فخلى سبيله (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی لایا گیا اور اس کے خلاف دو گواہوں نے گواہی دی کہ اس نے چوری کی ہے۔ پس آپ لوگوں کے معاملات میں سے کسی کے کام میں مشغول ہوگئے اور آپ نے جھوٹے گواہوں کو ڈانٹ پلائی اور فرمایا : میرے پاس کسی جھوٹے گواہ کو نہ لایا جائے مگر میں اس کے ساتھ ایسا اور ایسا معاملہ کروں گا راوی نے فرمایا : پھر آپ نے ان دونوں گواہوں کو طلب کیا تو ان کو نہ پایا سو آپ نے اس شخص کو آزاد چھوڑد یا۔