کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: زانی کے بیان میں: اس کو کتنی مرتبہ لوٹایا جائے گا؟ اور اس کے اقرار کر لینے کے بعد اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا؟
حدیث نمبر: 30682
٣٠٦٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن المجالد عن الشعبي عن جابر قال: جاء ماعز بن مالك إلى النبي ﷺ (١) فقال: إنه قد زنى فقال: "أما لهذا أحد" فرده، ثم جاء ثلاث (مرار) (٢) فقال: " (أما) (٣) لهذا أحد" فرده، فلما كانت الرابعة قال: "ارجموه" (٤)، فرماه ورميناه، وفر واتبعناه، قال عامر: فقال لي جابر: (فهاهنا) (٥) قتلناه (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت ماعز بن مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا : بیشک میں نے زنا کیا ہے آپ نے پوچھا کیا اس کا کوئی گواہ ہے ؟ سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں واپس لوٹا دیا پھر وہ تین مرتبہ آئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا اس کا کوئی گواہ ہے ؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو واپس لوٹا دیا جب وہ چوتھی مرتبہ آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ اس کو سنگسارکر دو سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور ہم نے اسے پتھر مارے اور وہ بھاگنے لگے تو ہم نے ان کا پیچھا کیا۔ حضرت عامر نے فرمایا : حضرت جابر نے مجھ سے فرمایا : ہم نے یہاں ان کو مارا تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30682
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ مجالد ضعيف، وأصل الخبر أخرجه البخاري (٦٨٢٠)، ومسلم (١٦٩١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30682، ترقيم محمد عوامة 29361)
حدیث نمبر: 30683
٣٠٦٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن هشام بن سعد قال: حدثني يزيد ابن نعيم بن هزال عن أبيه قال: كان ماعز بن مالك في حجر أبي فأصاب جارية ⦗٤٩٠⦘ من الحي، فقال له أبي: أئت رسول اللَّه ﷺ فأخبره بما صنعت يستغفر لك، وإنما يريد بذلك ليجعل له محرجًا، فأتاه فقال: يا رسول اللَّه، إني قد زنيت، فأقم علي كتاب اللَّه (فأعرض عنه، ثم أتاه، حتى ذكر أربع مرات، ثم أتاه الرابعة فقال: يا رسول اللَّه إني قد زنيت فأقم علي كتاب اللَّه) (١) فقال: رسول اللَّه ﷺ (٢): "أليس قلتها أربع مرات فبمن؟ " قال: بفلانة، قال: "هل ضاجعتها؟ "، قال: نعم، قال: "باشرتها؟ " قال: نعم، قال: "هل جامعتها؟ " قال: نعم، قال: فأمر به ليرجم، فأخرج إلى الحرة فلما وجد مس الحجارة خرج يشتد فلقيه عبد اللَّه بن أنيس وقد أعجز أصحابه فانتزع له بوظيف بعير فرماه به فقتله، ثم أتى النبي ﷺ (٣) فذكر ذلك له فقال: "هلا تركتموه لعله يتوب، فيتوب اللَّه عليه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعیم بن ھزال فرماتے ہیں کہ ماعز بن مالک میرے والد کی پرورش میں تھے انہوں نے قبیلہ کی ایک باندی سے زنا کرلیا تو میرے والد نے ان سے کہا : تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ اور جو تم نے کیا ہے اس بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلاؤ وہ تمہارے لیے استغفار کریں گے۔ اور میرے والد نے اس سے یہ ارادہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے لیے کوئی راستہ نکالیں گے۔ پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! بیشک میں نے زنا کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ پر کتاب اللہ کا حکم قائم فرما دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اعراض کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے یہاں تک کہ راوی نے چار مرتبہ کا ذکر کیا۔ پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چوتھی بار آئے اور کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! بیشک میں نے زنا کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ پر کتا باللہ کا حکم قائم فرما دیں اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم نے یہ بات چار مرتبہ نہیں کہی ؟ پس کس عورت سے کیا ؟ انہوں نے کہا : فلاں عورت سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم نے اس سے ہمبستری کی ؟ انہوں نے کہا، جی ہاں ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا : کیا تم نے اس سے وطی کی ؟ انہوں نے کہا، جی ہاں، ٓپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پھر پوچھا ! کیا تم نے اس سے جماع کیا ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں، راوی کہتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا تو اس کو سنگسار کیا گیا اور اسے حرہ کی زمین کی طرف لے جایا گیا جب انہوں نے پتھروں کی سختی محسوس کی وہ کراہتے ہوئے تکلیف سے نکلنے لگے۔ حضرت عبداللہ بن انیس اس سے ملے اور تحقیق اس کو مارنے والے ساتھی عاجز آگئے تھے انہوں نے اپنے اونٹ کی پنڈلی کا پتلا حصہ اکھیڑا اور ان کو اس سے مار کر انہیں قتل کردیا۔ پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس بات کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم نے اس کو چھوڑ کیوں نہیں دیا شاید کہ وہ توبہ کرلیتا اور اللہ اس کی توبہ قبول کرلیتے ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30683
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ نعيم صحابي على الصحيح؛ وهشام بن سعد ويزيد صدوقان، أخرجه أحمد (٢١٨٩٠)، وأبو داود (٤٤١٩)، والنسائي في الكبرى (٧٢٧٨)، والحاكم ٤/ ٣٦٣، والطحاوي في شرح المشكل (٤٩٤٤)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٣٩٣)، والدلابي ١/ ١٠٥، وابن قانع ٣/ ١٥٠، والروياني (١٤٦٨)، والطبراني ٢٢/ (٥٣١)، وابن عبد البر في التمهيد ٢٣/ ١٢٦، وعبد الرزاق (١٣٣٤٢)، والبيهقي ٣/ ٣٣٠.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30683، ترقيم محمد عوامة 29362)
حدیث نمبر: 30684
٣٠٦٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن محمد بن عمرو عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: جاء ماعز بن مالك إلى النبي ﷺ (١) فقال: إني قد زنيت فأعرض عنه، حتى أتاه أربع مرار، فأمر به أن يرجم، فلما أصابته الحجارة أدبر يشتد، فلقيه رجل بيده لحي جمل، (فضربه) (٢) فصرعه، فذكر ⦗٤٩١⦘ للنبي ﷺ (٣) فراره حين مسته الحجارة، فقال: "هلا تركتموه" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ماعز بن مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے : بیشک میں نے زنا کیا ہے ! سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اعراض کیا یہاں تک کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چوتھی مرتبہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیاتو ان کو سنگسار کیا گیا جب انہں پ پتھروں کی تکلیف پہنچی تو وہ تکلیف سے بھاگنے لگے اتنے میں اسے ایک آدمی ملا جس کے ہاتھ میں اونٹ کا جبڑا تھا پس اس نے اسے مارا اور اسے نیچے گرا دیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ان کے بھاگنے کا معاملہ ذکر کیا گیا جب انہیں پتھروں کی تکلیف محسوس ہوئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم نے اس کو چھوڑ کیوں نہیں دیا ؟ ’
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30684
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن عمرو صدوق، أخرجه أحمد (٩٨٠٩)، والترمذي (١٤٢٨)، والنسائي في الكبرى (٧٢٠٤)، وابن ماجه (٢٥٥٤)، وابن حبان (٤٤٣٩)، وابن الجارود (٨١٩)، والبيهقي ٨/ ٢٩٨، وأصله عند البخاري (٦٨١٥)، ومسلم (١٦٩١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30684، ترقيم محمد عوامة 29363)
حدیث نمبر: 30685
٣٠٦٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر عن ابن أبزى عن أبي بكر قال: أتى ماعز بن مالك النبي ﷺ، فأقر عنده ثلاث مرات فقلت: إن (أقررت) (١) عنده الرابعة، فأمر به فحبس، يعني (يرجم) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوبکر فرماتے ہیں کہ ماعز بن مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تین مرتبہ اقرار کیا میں نے کہا : اگر تم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چوتھی مرتبہ اقرار کرو تو سزا ہوگی ! سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے اسے قید کردیا گیا یعنی سنگسار کردیا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30685
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ جابر هو الجعفي ضعيف؛ أخرجه أحمد (٤١)، والبزار (٥٥)، وأبو يعلى (٤٠)، والطحاوي ٣/ ١٤١، والمروزي في سنن أبي بكر (٧٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30685، ترقيم محمد عوامة 29364)
حدیث نمبر: 30686
٣٠٦٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن الشعبي قال: شهد ماعز على نفسه أربع مرات أنه قد زنى فأمر به رسول اللَّه ﷺ أن (يرجم) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا : ماعز بن مالک نے اپنے خلاف زنا کرنے کی چار مرتبہ گواہی دی تھی سو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے ان کو سنگسار کردیا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30686
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ الشعبي تابعي، وتقدم متصلًا في الذي قبله.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30686، ترقيم محمد عوامة 29365)
حدیث نمبر: 30687
٣٠٦٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شبابة بن سوار قال: حدثنا شعبة عن سماك عن جابر بن سمرة قال: رأيت رسول اللَّه ﷺ حين أتي بماعز بن مالك أتي برجل اشعر (ذي) (١) عضلات في إزاره، فرده مرتين، ثم أمر برجمه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر بن سمرہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا جب ماعز بن مالک کو لایا گیا تو ایک زیادہ بالوں والے اور مضبوط پیٹھے والے شخص کو لایا گیا جو تہہ بند پہنے ہوئے تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے دو مرتبہ واپس لوٹایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو سنگسار کرنے کا حکم دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30687
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ سماك صدوق، أخرجه مسلم (١٦٩٢)، وأحمد (٢٠٩٨٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30687، ترقيم محمد عوامة 29366)
حدیث نمبر: 30688
٣٠٦٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن نمير قال: حدثنا (بشير) (١) قال: حدثني عبد اللَّه بن بريدة عن أبيه أن ماعز بن مالك الأسلمي أتى رسول اللَّه ﷺ فقال: إني قد ظلمت نفسي وزنيت، و (إني) (٢) أريد أن تطهرني، فرده فلما كان (الغد) (٣) أتاه (أيضًا) (٤) فقال: يا رسول اللَّه إني قد زنيت فرده الثانية فأرسل رسول اللَّه ﷺ إلى قومه فقال: "أتعلمون بعقله بأسا تنكرون منه شيئًا؟ فقالوا: لا نعلمه إلا وفي العقل من صالحينا فيما نرى قال: فأتاه الثالثة فأرسل إليهم (أيضًا) (٥) فسأل عنه فأخبروه أنه لا بأس به ولا بعقله، فلما كان الرابعة حفر له حفرة ثم أمر به فرجم (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بریدہ فرماتے ہیں کہ حضرت ماعز بن مالک اسلمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور عرض کی : بیشک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے اور میں نے زنا کیا ہے، اور میں چاہتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے پاک کردیں، سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو واپس کردیا جب اگلا دن آیا تو وہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگئے اور عرض کی : یا سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! بیشک میں نے زنا کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو دوسری مرتبہ بھی واپس لوٹا دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی قوم کی طرف قاصد بھیجا اور فرمایا : کیا تم اس کی عقل میں کوئی حرج سمجھتے ہو ؟ کیا تم اس میں کوئی غلط چیز دیکھتے ہو ؟ انہوں نے کہا : ہم اس کے بارے میں نہیں جانتے مگر یہ کہ اس کی عقل ہمارے نیک لوگوں کی طرح ہے جیسا کہ ہمیں دکھائی دیا۔ راوی کہتے ہیں : پس وہ تیسری بار نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی قوم کی طرف پھر قاصد بھیجا اور اس کے بارے میں سوال کیا ؟ ان لوگوں نے بتلایا کہ اس میں اور اس کی عقل میں کوئی حرج والی بات نہیں، پس جب وہ چوتھی مرتبہ آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے ایک گڑھا کھودا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے انہیں سنگسار کردیا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30688
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف بشير بن مهاجر.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30688، ترقيم محمد عوامة 29367)
حدیث نمبر: 30689
٣٠٦٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معاوية بن هشام قال: حدثنا سفيان عن داود عن أبي نضرة عن أبي سعيد الخدري قال: جاء ماعز بن مالك فاعترف بالزنا ثلاث مرات، فسأل عنه، ثم أمر به فرجم، فرميناه بالخزف والجندل (والعظام) (١)، وما حفرنا له، ولا أوثقناه فسبقنا إلى الحرة واتبعناه فقام إلينا، فرميناه حتى سكت، فما استغفر له النبي ﷺ ولا سبه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو سعید خدری فرماتے ہیں ماعز بن مالک آئے اور انہوں نے تین مرتبہ زنا کا اعتراف کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے متعلق سوال کیا ؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے انہیں سنگسار کردیا گیا، سو ہم نے انہیں ٹھیکری، چھوٹے چھوٹے پتھر اور ہڈیاں ماریں اور نہ ہم نے ان کے لیے کوئی گڑھا کھودا اور نہ ہم نے ان کو باندھا پس وہ ہم سے آگے حرہ مقام کی طرف دورڑے اور ہم نے ان کاپیچھا کیا سوو ہ ہماری طرف متوجہ ہو کر کھڑے ہوگئے پھر ہم نے انہیں پتھر مارے یہاں تک کہ وہ ساکت ہوگئے اور نہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے استغفار کیا اور نہ ہی ان کو برا بھلا کہا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30689
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٦٩٤)، وأحمد (١١٥٨٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30689، ترقيم محمد عوامة 29368)
حدیث نمبر: 30690
٣٠٦٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن حجاج عن عبد الملك بن مغيرة الطائفي عن ابن شداد عن أبي ذر قال: كنا مع النبي ﷺ في سفر، فجاء رجل فأقر أنه قد زنا فرده النبي ﷺ (١) ثلاثًا، فلما كانت الرابعة ونزل، أمر به النبي ﷺ فرجم، (وشق) (٢) ذلك عليه، حتى (عرفته) (٣) في وجهه، فلما سري عنه الغضب قال: "يا أبا ذر إن صاحبكم قد غفر له" قال: وكان يقال: إن توبته أن يقام عليه الحد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ذر فرماتے ہیں کہ کسی سفر میں ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک آدمی آیا اور اس نے زنا کا اقرار کیا سو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کو تین بار واپس لوٹا دیا جب وہ چوتھی بار آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اترے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا سو اسے سنگسار کردیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یہ بات بہت ہی ناگوار گزری یہاں تک کہ اس کا اثر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ میں محسوس کیا جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا غصہ ختم ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابو ذر ! تمہارے ساتھی کی مغفرت کردی گئی، راوی نے فرمایا : یوں کہا جاتا تھا، بیشک اس کی توبہ یہ ہے کہ اس پر حد قائم کردی جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30690
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30690، ترقيم محمد عوامة 29369)
حدیث نمبر: 30691
٣٠٦٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن مسهر عن الشيباني عن ابن أبي أوفى قال: قلت له: رجم رسول اللَّه ﷺ؟ قال: نعم، (قال) (١): قلت: (بعد ما) (٢) (أنزلت) (٣) سورة النور أو قبلها؟ قال: لا أدري (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شیبانی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن ابی اوفی سے دریافت کیا : کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنگسار کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں، میں نے دریافت کیا : سورة نور کے نازل ہونے کے بعد یا اس سے پہلے ؟ انہوں نے فرمایا : مجھے نہیں معلوم۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30691
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٨١٣)، ومسلم (١٧٠٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30691، ترقيم محمد عوامة 29370)
حدیث نمبر: 30692
٣٠٦٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عبيد اللَّه عن ابن عباس قال: قال عمر: قد خشيت أن يطول بالناس زمان حتى يقول القائل: ما نجد الرجم في كتاب اللَّه فيضلوا بترك فريضة أنزلها اللَّه، ألا وإن الرجم حق إذا أحصن (الرجل) (١) (أو) (٢) قامت البينة أو كان حمل أو اعتراف وقد قرأتها: ⦗٤٩٤⦘ "الشيخ والشيخة (إذا زنيا) (٣) فارجموهما البتة"، رجم رسول اللَّه ﷺ، ورجمنا بعده (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : مجھے ڈر ہے کہ لوگوں پر لمبازمانہ گزرے گا یہاں تک کہ کہنے والا کہے گا : ہم تو رجم کے حکم کو کتاب اللہ میں نہیں پاتے ! سو وہ گمراہ ہوں گے ایک فریضہ کو چھوڑنے کی وجہ سے جس کا حکم اللہ نے نازل کیا ہے خبردار ! رجم کا حکم برحق ہے جب آدمی شادی شدہ ہو یا بینہ قائم ہوجائے یا حاملہ ہو یا اعتراف کیا ہو اور تحقیق میں نے اس کی تلاوت کی ہے ترجمہ :۔ شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورت جب دونوں زنا کریں تو تم ان کو لازمی طور پر سنگسار کرو۔ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد ہم نے سنگسار کیا ہے حضرت سفیان سے پوچھا گیا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنگسار کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30692
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٨٣٥)، ومسلم (١٦٩١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30692، ترقيم محمد عوامة 29371)
حدیث نمبر: 30693
٣٠٦٩٣ - قيل لسفيان: رجم (رسول) (١) اللَّه ﷺ؟ قال: نعم (٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30693
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30693، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 30694
٣٠٦٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن حماد قال: سألته عن الرجل يقر بالزنا، كم يرد؟ قال: مرة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حماد سے اس آدمی کے متعلق سوال کیا جو زنا کا اقرر کرتا ہو کہ اس کو کتنی مرتبہ لوٹا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا : ایک مرتبہ اور میں نے حضرت حکم سے سوال کیا ؟ تو آپ نے فرمایا : چار مرتبہ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30694
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30694، ترقيم محمد عوامة 29372)
حدیث نمبر: 30695
٣٠٦٩٥ - وسألت الحكم فقال: أربع مرات.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30695
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30695، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 30696
٣٠٦٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب أن ماعز بن مالك أتى أبا بكر فأخبره أنه زنى، فقال له أبو بكر: (ذكرت هذا لأحد غيري؟ قال: لا، قال أبو بكر) (١): استتر يستر اللَّه، وتب إلى اللَّه فإن الناس يغيرون، ولا يعيرون، واللَّه يقبل التوبة عن عباده فلم تقر نفسه حتى أتى عمر فذكر مثل ما ذكر لأبي بكر، فقال له عمر مثل ما قال له أبو بكر، فلم تقر نفسه حتى أتى رسول اللَّه ﷺ فأخبره أنه قد زنى، فأعرض عنه حتى قال (له) (٢) ذلك مرارًا، فلما أكثر بعث إلى قومه فقال لهم: "هل اشتكى؟ أبه جنة؟ " فقالوا: لا واللَّه يا رسول اللَّه إنه (صحيح) (٣) قال: "أبكر أم ثيب؟ " (قالوا: ⦗٤٩٥⦘ بل ثيب) (٤)، فأمر به فرجم (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت ماعز بن مالک حضرت ابوبکر کے پاس آئے اور انہیں اطلاع دی کہ میں نے زنا کیا ہے تو حضرت ابوبکر نے ان سے فرمایا : کیا تم نے اس بات کو میرے علاوہ کسی سے ذکر کیا ہے ؟ انہوں نے کہا : نہیں حضرت ابوبکر نے ان سے فرمایا : تم اللہ کی ستر پوشی کی وجہ سے اپنا عیب چھپاؤ اور اللہ سے توبہ کرو بیشک لوگ عار دلائے جاتے ہیں لیکن غیرت نہیں کھاتے کریں گے اور اللہ رب العزت اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے۔ پس ان کے نفس کو قرار نہیں آیا یہاں تک کہ وہ حضرت عمر کے سامنے ذکر کی تھی حضرت عمر نے بھی ان کو وہی جواب دیا جو حضرت ابوبکر نے دیا تھا۔ ان کے نفس کو قرار نہیں آیا یہاں تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اطلاع دی کہ بیشک میں نے زنا کیا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے اعراض کیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے کئی مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کہا جب بہت زیادہ ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی قوم کی طرف ایک قاصد بھیجا اور ان سے کہا : کیا یہ بیمار ہے ؟ یا اس کو جنون لاحق ہے ؟ انہوں نے عرض کی : نہیں، اللہ کی قسم ! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! بیشک یہ بالکل صحیح ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا ! غیر شادی شدہ ہے یا شادی شدہ ؟ انہوں نے کہا : بلکہ شادی شدہ ہے ۔ سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم سے ان کو سنگسار کردیا گیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30696
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ سعيد بن المسيب تابعي، أخرجه مالك ٢/ ٨٢٠، وعبد الرزاق (١٣٣٤٢)، والبيهقي ٨/ ٢٢٨، وأخرجه من طريق ابن المسيب عن أبي هريرة البخاري (٦٨١٥)، ومسلم (١٦٩١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30696، ترقيم محمد عوامة 29373)
حدیث نمبر: 30697
٣٠٦٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا داود عن سعيد بن المسيب عن عمر قال: رجم رسول اللَّه ﷺ ورجم أبو بكر ورجمت (أنا) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنگسار کیا ہے، حضرت ابوبکر صدیق نے سنگسار کیا ہے اور میں نے سنگسار کیا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30697
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٤٩)، والترمذي (١٤٣١)، وأصله في الصحيحين كما تقدم [٣٠٧٤٤].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30697، ترقيم محمد عوامة 29374)
حدیث نمبر: 30698
٣٠٦٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن أشعث عن علي بن زيد عن يوسف بن مهران عن ابن عباس قال: قال عمر: الرجم حد من حدود اللَّه فلا تخدعوا عنه، و (آية) (١) ذلك أن رسول اللَّه ﷺ، رجم ورجم أبو بكر، ورجمت أنا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : رجم کرنا اللہ کی سزاؤں میں سے ایک سزا ہے پس تم لوگوں کو اس کے متعلق دھوکہ میں مت ڈالا جائے اور اس کی نشانی یہ ہے کہ : بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سنگسار کیا حضرت ابوبکر نے سنگسار کیا اور میں نے بھی سنگسار کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30698
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف أشعث وعلي بن زيد، أخرجه أحمد (١٥٦)، وعبد الرزاق (١٣٣٦٤)، والطيالسي (٢٥)، وأبو يعلى (١٤٦)، وابن أبي عاصم في السنة (٣٤٣)، والمروزي في السنة (٣٥٤)، والحارث (٧٥١/ بغية).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30698، ترقيم محمد عوامة 29375)
حدیث نمبر: 30699
٣٠٦٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن محمد بن إسحاق عن محمد بن إبراهيم عن أبي عثمان بن نصر عن أبيه قال: كنت فيمن رجم ماعزًا، فلما وجد مس الحجارة قال: ردوني إلى رسول اللَّه ﷺ (فأنكرت ذلك) (١) فأتيت عاصم ⦗٤٩٦⦘ ابن عمر فقال: قال الحسن بن محمد بن الحنفية: لقد بلغني فأنكرته، فأتيت جابرًا فقلت: لقد ذكر (الأسلمي) (٢) شيئًا من قول ماعز بن مالك: ردوني، فأنكرته فقال: أنا فيمن رجمه فقال: إنه وجد مس الحجارة قال: ردوني إلى رسول اللَّه ﷺ فإن قومي آذوني وقالوا: (ائت) (٣) (رسول اللَّه ﷺ) (٤) فإنه غير قاتلك، فما (أقلعنا) (٥) عنه حتى قتلناه، فلما ذكر شأنه للنبي ﷺ (فقال) (٦): "ألا تركتموه حتى أنظر في شأنه" (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان بن نصر فرماتے ہیں کہ میرے والد نے ارشاد فرمایا : میں ان لوگوں میں تھا جنہوں نے حضرت ماعز کو سنگسار کیا تھا پس جب انہوں نے پتھروں کی تکلیف محسوس کی تو کہنے لگے : تم لوگ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس لوٹا دو پس میں نے اس بات سے انکار کردیا راوی کہتے ہیں میں حضرت عاصم بن عمر کے پاس آیا اور کہا : حضرت حسن بن محمد ابن حنفیہ فرماتے ہیں : تحقیق مجھے خبر پہنچی ہے کہ ! پس میں نے اس کا انکار کردیا میں پھر حضرت جابر کے پاس آیا اور میں نے کہا : تحقیق حضرت اسلمی نے ماعز بن مالک کے قول میں سے کچھ ذکر کیا ہے کہ ؟ تم لوگ مجھے لوٹا دو میں اس کا انکار کرتا ہوں ! سو انہوں نے جواب دیا : میں ان لوگوں میں تھا جنہوں نے ان کو سنگسار کیا تھا اور آپ نے فرمایا : بیشک انہوں نے پتھروں کی تکلیف محسوس کی اور کہا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لوٹا دو بیشک میری قوم نے مجھے تکلیف میں ڈالا، اور لوگوں نے کہا : تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چلے جاؤ وہ تمہیں قتل نہیں کریں گے پس ہم لوگوں نے انہیں نہیں چھوڑا یہاں تک کہ ہم نے ان کو مار دیا پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ان کی حالت کا ذکر کیا گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم نے اس کو چھوڑکیوں نہیں دیا یہاں تک کہ میں اس حالت میں غور کرلیتا ؟
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30699
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30699، ترقيم محمد عوامة 29376)
حدیث نمبر: 30700
٣٠٧٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هوذة بن خليفة قال: حدثنا عوف عن مساور بن (عبيد) (١) عن أبي برزة قال: رجم رسول اللَّه ﷺ رجلا منا يقال: له ماعز ابن مالك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو برزہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم میں سے ایک آدمی کو سنگسار کیا، جس کا نام ماعز بن مالک تھا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30700
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30700، ترقيم محمد عوامة 29377)
حدیث نمبر: 30701
٣٠٧٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن الحسن عن محمد بن سليم (١) أبي هلال عن نجيح (أبي علي عن النبي ﷺ) (٢) قال: رجم رسول اللَّه ﷺ ورجم أبو بكر وعمر وأمرهما سنة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نجیح ابو علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی زانی کو سنگسار کیا اور حضرت ابوبکر و عمر نے بھی زانی کو سنگسار کیا اور ان دونوں کا طریقہ بھی دین ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30701
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل مجهول؛ نجيح مجهول، لم تثبت له صحبة، وأخرجه أبو يعلى (٤٢١٥) متصلًا من حديث أنس، وانظر: المطالب العالية (١٨٦٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30701، ترقيم محمد عوامة 29378)
حدیث نمبر: 30702
٣٠٧٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم عن سفيان عن زيد بن أسلم عن يزيد بن نعيم عن أبيه قال: جاء ماعز بن مالك إلى النبي ﷺ ﷺ (١) فقال: يا رسول اللَّه (٢) إني قد زنيت فأقم فيَّ كتاب اللَّه، فأعرض عنه، ثم قال: إني قد زنيت فأقم في كتاب اللَّه، فأعرض عنه، حتى ذكر أربع مرات، قال: "اذهبوا (٣) فارجموه"، فلما (مسته) (٤) (مس) (٥) الحجارة اشتد، (فخرج) (٦) عبد اللَّه بن أنيس -أو ابن أنس- من باديته، فرماه بوظيف جمل، فصرعه، فرماه الناس حتى قتلوه، فذُكر (ذلك) (٧) للنبي ﷺ فراره (فقال) (٨): " (فهلا) (٩) ⦗٤٩٨⦘ تركتموه (١٠) يتوب فيتوب اللَّه عليه، يا [(هزال أو يا هزان) (١١) لو سترته بثوبك كان خيرا لك مما صنعت] (١٢) (١٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعیم فرماتے ہیں کہ حضرت ماعز بن مالک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : بیشک میں نے زنا کیا ہے سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ پر کتاب اللہ کا حکم قائم کردیں آپ نے ان سے اعراض کیا انہوں نے پھر کہا : بیشک میں نے زنا کیا ہے سو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ پر کتاب اللہ کا حکم قائم کردیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر ان سے اعراض کیا یہاں تک انہوں نے چار مرتبہ ذکر کردیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اس کو لیجاؤ اور اسے سنگسار کردو پس جب ان کو پتھروں کی تکلیف بہت زیادہ محسوس ہوئی تو وہ دوڑے اتنے میں حضرت عبداللہ بن انیس یا ابن انس اپنے جنگل سے نکلے اور انہوں نے اس کو اونٹ کی پنڈلی مار کر ان کو نیچے گرادیا سو لوگوں نے ان کو پتھر مارے یہاں تک کہ ان کو قتل کردیا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ان کے بھاگنے کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم نے اس کو چھوڑ کیوں نہیں دیا کہ وہ توبہ کرلیتا اللہ اس کی توبہ قبول کرلیتے اے ھزال یایوں فرمایا : اے ھزان ! اگر تو اپنے کپڑے سے اس کو چھپا لیتا تو یہ تیرے لیے بہتر تھا اس کام سے جو تو نے کیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30702
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ يزيد صدوق، أخرجه أحمد (٢١٨٩٢)، وأبو داود (٤٣٧٧)، والنسائي في الكبرى (٧٢٠٥)، والحاكم ٤/ ٣٦٣، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٣٩٣)، وابن قانع ٣/ ١٥٠، والبيهقي ٣/ ٣٣٠، وسبق ١٠/ ٧١ برقم [٣٠٦٨٢].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30702، ترقيم محمد عوامة 29379)