کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان روایات کا بیان جو حد میں مارنے کی کیفیت کے بارے میں منقول ہیں
حدیث نمبر: 30581
٣٠٥٨١ - حدثنا (أبو) (١) بكر قال: حدثنا مروان بن معاوية عن عاصم عن أبي عثمان قال: أتي عمر برجل في حد، فأتي بسوط فقال: أريد ألين من هذا، فأتي بسوط فيه لين فقال: أريد أشد من هذا، فأتي بسوط بين السوطين فقال: اضرب ولا يرى إبطك، وأعط كل عضو حقه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عثمان فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس کسی سزا کے معاملے میں ایک آدمی لایا گیا اور کو ڑا بھی لایا گیا۔ آپ نے فرمایا : میں اس سے نرم خوچاہتا ہوں تو ایک کوڑا لایا گیا جس میں نرم خوئی تھی آپ نے فرمایا : میں اس سے زیادہ سخت چاہتا ہوں تو ان دونوں کوڑوں کے درمیان ایک کوڑا لایا گیا۔ آپ نے فرمایا : تو مار اور تیری بغل دکھائی مت دے اور تو ہر عضو کو اس کا حق عطا کر۔
حدیث نمبر: 30582
٣٠٥٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن أبي الحارث التيمي عن أبي ماجد عن عبد اللَّه أنه دعا جلادا فقال: أجلد، وأرفع يدك، وأعط كل عضو ⦗٤٦٩⦘ حقه، قال: فضربه الحد ضربًا غير مبرح (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ماجد فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے جلاد کو بلایا اور فرمایا : کوڑے مار اور اپنا ہاتھ بلند کر اور ہر عضو کو اس کا حق عطا کر راوی فرماتے ہیں : پس اس نے حد میں ایسی ضرب لگائی جو اذیت رساں نہیں تھی۔
حدیث نمبر: 30583
٣٠٥٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن ابن أبي ليلى عن عدي بن ثابت عن المهاجر بن (عميرة) (١) عن علي قال: أتي برجل سكران أو في حد فقال: اضرب، وأعط كل عضو حقه، واتق الوجه والمذاكير (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مہاجر بن عمیرہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس نشہ میں دھت یا کسی اور حد میں ایک آدمی لایا گیا آپ نے فرمایا : مارو اور ہر عضو کو اس کا حق دو اور چہرے اور شرمگاہوں پر مارنے سے بچو۔
حدیث نمبر: 30584
٣٠٥٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا إسماعيل بن إبراهيم عن أشعث عن أبيه قال: شهدت أبا برزة أقام الحد على أمة له في دهليزه وعنده نفر من أصحابه، فقال: اجلدها جلدًا بين الجلدين، وليس بالممطى (١) ولا بالتخفيف (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث کے والد فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو برزہ کے پاس حاضر تھا کہ آپ نے گھر کی دہلیز میں اپنی ایک باندی پر حد جاری کی درآنحالیکہ آپ کے پاس آپ کے اصحاب کا ایک گروہ تھا آپ نے فرمایا : دونوں کوڑوں کے درمیان درمیانی حالت میں اسے کوڑے مارو نہ ہی بالکل پیچھے سے ہاتھ لا کر اور نہ ہی بالکل ہلکا۔
حدیث نمبر: 30585
٣٠٥٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن عمران عن أبي المجلز قال: الجلاد (١) لا يخرج إبطه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران فرماتے ہیں کہ حضرت ابو مجلز نے ارشاد فرمایا : جلاد کی بغل باہر نہ نکلے۔
حدیث نمبر: 30586
٣٠٥٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن عاصم قال: شهدت الشعبي (و) (١) ضرب نصرانيا قذف (مسلمًا) (٢) فقال: (اضرب) (٣) وأعط كل عضو حقه، ولا ترين إبطك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عاصم فرماتے ہیں کہ میں حضرت شعبی کے پاس حاضر تھا آپ نے ایک عیسائی کو کوڑے مارے جس نے ایک مسلمان پر تہمت لگائی تھی آپ نے فرمایا : مارو، اور ہر عضو کو اس کا حق دو اور تمہاری بغل ہرگز دکھائی مت دے۔
حدیث نمبر: 30587
٣٠٥٨٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الضحاك بن مخلد عن ابن جريج عن عطاء قال: حد الفرية وحد الخمر أن تجلد، ولا ترفع يدك.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء نے ارشاد فرمایا : جھوٹی تہمت کی حد اور شراب کی حد یہ ہے کہ تم کوڑے مارو اور اپنے ہاتھ کو بلند مت کرو۔
حدیث نمبر: 30588
٣٠٥٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: يضرب الزاني ضربًا شديدًا، ويقسم الضرب بين أعضائه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : زانی کو سخت شدید ضرب لگائی جائے گی اور ضرب اس کے مختلف اعضاء پر لگائی جائے گی۔
حدیث نمبر: 30589
٣٠٥٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (أبو عاصم عن ابن جريج عن عطاء قال) (١): حد الزنا أشد من حد الخمر، و (حد) (٢) الخمر والفرية واحد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء نے ارشاد فرمایا : زنا کی سزا شراب کی سزا سے زیادہ سخت ہے شراب اور جھوٹی تہمت کی سزا ایک جیسی ہے۔
حدیث نمبر: 30590
٣٠٥٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن إسماعيل عن الحسن قال: يضرب الزاني أشد من ضرب الشارب ويضرب الشارب أشد من ضرب القاذف.
مولانا محمد اویس سرور
اسماعیل فرماتے ہیں کہ حسن بصری نے ارشاد فرمایا : زانی کو شرابی سے زیادہ سخت کوڑے مارے جائیں گے اور شرابی کو تہمت لگانے والے سے زیادہ سخت کوڑے مارے جائیں گے۔