کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کے بیان میں جس کے منہ سے شراب کی خوشبو محسوس ہو تو اس پر کیا سزا جاری ہوگی؟
حدیث نمبر: 30536
٣٠٥٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن ابن أبي ذئب عن الزهري عن السائب بن يزيد أن عمر كان يضرب في الريح (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سائب بن یزید فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بو میں بھی سزا دیا کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 30537
٣٠٥٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: قرأ عبد اللَّه سورة يوسف (بحمص) (١)، فقال رجل: ما هكذا أنزلت، فدنا منه عبد اللَّه فوجد منه ريح الخمر فقال له: تكذب بالحق وتشرب الرجس، واللَّه (لهكذا) (٢) أقرأنيها رسول اللَّه ﷺ، لا أدعك حتى (أحدك) (٣)، فجلده الحد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے حمص میں سورة یوسف کی تلاوت فرمائی اس پر ایک آدمی کہنے لگا یہ آیت ایسے نازل نہیں ہوئی ، پس حضرت عبداللہ بن مسعود اس کے قریب ہوئے تو آپ نے اس سے شراب کی بو پائی، آپ نے اس سے فرمایا : تو حق بات کی تکذیب کرتا ہے اور ناپاک چیز پیتا ہے ! اللہ کی قسم ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے یہ آیت اسی طرح پڑھائی ہے میں تجھے نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ میں تجھ پر حد لگاؤں گا پھر آپ نے اس پر حد لگائی۔
حدیث نمبر: 30538
٣٠٥٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا كثير بن هشام عن جعفر بن برقان عن يزيد ⦗٤٥٩⦘ ابن الأصم أن ذا قرابة لميمونة دخل عليها، فوجدت منه ريح شراب (فقالت) (١): إن لم تخرج إلى المسلمين فيحدونك أو يطهرونك لا تدخل علي بيتي أبدا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یزید بن اصم فرماتے ہیں کہ حضرت میمونہ کا ایک قریبی رشتہ دار آپ کے پاس آیا آپ نے اس سے شراب کی بو محسوس کی، آپ نے فرمایا : اگر تم مسلمانوں کے پاس جاؤ گے تو وہ تم پر حد لگائیں گے یا وہ تمہیں پاک کردیں گے تم میرے گھر کبھی داخل مت ہونا۔
حدیث نمبر: 30539
٣٠٥٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن ابن أبي مليكة قال: كتبت إلى ابن الزبير أسأله عن الرجل يوجد منه (ريح) (١) الشراب، فقال: إن كان مدمنًا فحده (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن زبیر کو خط لکھ کر ان سے اس آدمی کے متعلق سوال کیا جس سے شراب کی بو محسوس ہو ؟ آپ نے فرمایا : اگر وہ عادی ہو تو اس پر حد لگائے۔
حدیث نمبر: 30540
٣٠٥٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن محمد بن شريك عن ابن أبي مليكة قال: أتيت برجل (وجدت) (١) منه ريح الخمر، وأنا قاض على الطائف، فأردت أن أضربه، فقال: إنما أكلت فاكهة، فكتبت إلى (ابن الزبير فكتب إليَّ) (٢): إن كان من الفاكهة ما يشبه ريح الخمر فادرأ عنه (الحد) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن شریک فرماتے ہیں حضرت ابن ابی ملیکہ نے ارشاد فرمایا : میرے پاس ایک آدمی لایا گیا جس سے شراب کی بو آرہی تھی اور میں اس وقت طائف کا قاضی تھا میں نے اسے مارنے کا ارادہ کیا تو وہ کہنے لگا : بیشک میں نے تو پھل کھایا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن زبیر کو خط لکھا تو آپ نے مجھے جواب لکھا : اگر پھلوں میں سے کسی پھل کی بو شراب کی بو کے مشابہ ہو تو تم اس سے سزا کو ختم کردو۔
حدیث نمبر: 30541
٣٠٥٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن ابن جريج عن عطاء وعمرو بن دينار قالا: لا حد في ريح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضر ت عطاء اور حضرت عمرو بن دینار نے ارشاد فرمایا : بو میں حد نہیں ہوگی۔
حدیث نمبر: 30542
٣٠٥٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن ابن جريج عن عطاء أنه كان لا يرى في الريح حدًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء بو کی صورت میں حد لگانے کی رائے نہیں رکھتے تھے۔