کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: پائوں کاٹنے کے بیان میں، جو یوں کہے: ایڑی چھوڑ دی جائے گی
حدیث نمبر: 30498
٣٠٤٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن محمد بن إسحاق عن (حكيم) (١) بن حكيم بن عباد بن حنيف عن النعمان بن مرة الزرقي أن عليا قطع سارقا من (الخصر: خصر) (٢) القدم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نعمان بن مرہ زرقی فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے چور کے پاؤں کا تلوا کا ٹ دیا۔
حدیث نمبر: 30499
٣٠٤٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم عن إسماعيل الحنفي عن أم رزين قال: سمعت ابن عباس يقول: أيعجز امراؤنا هؤلاء أن يقطعوا كما قطع هذا الأعرابي -يعني (نجدة) (١) - فلقد قطع فما أخطأ، يقطع الرجل و (يذر عاقبها) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام رزین فرماتی ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کیا ہمارے حکمران اس سے عاجز آگئے ہیں کہ وہ اس طرح کاٹیں جیسا اس دیہاتی نجدہ نے کاٹا ہے۔ یعنی اس نے کاٹا ہے اور بالکل غلطی نہیں کی : اس نے پاؤں کاٹ دیا اور اس کی ایڑی چھوڑ دی۔
حدیث نمبر: 30500
٣٠٥٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن هاشم و (عبد الرحيم) (١) بن ⦗٤٥٠⦘ سليمان (عن) (٢) عبد الملك عن عطاء قال: سئل عن القطع، قال: أما الرجل فيترك له عقبه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالملک فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء سے کاٹنے کے متعلق پوچھا گیا ؟ آپ نے فرمایا : جہاں تک پاؤں کا تعلق ہے تو اس کی ایڑی چھوڑ دی جائے گی۔
حدیث نمبر: 30501
٣٠٥٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة عن العلاء بن عبد الكريم عن أبي جعفر قال: الرجل (تقطع) (١) من وسط القدم (من) (٢) مفصل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علاء بن عبدالکریم فرماتے ہیں کہ حضرت ابو جعفر نے ارشاد فرمایا : پاؤں قدم کے درمیان والے جوڑ سے کاٹا جائے گا۔
حدیث نمبر: 30502
٣٠٥٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن العلاء عن أبي جعفر بنحوه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو جعفر کا ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 30503
٣٠٥٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن (ميسر) (١) عن ابن جريج عن عمرو بن دينار عن عكرمة أن عمر بن الخطاب قطع اليد من المفصل، وقطع علي القدم (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے جوڑ سے ہاتھ کاٹا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پاؤں کاٹا، حضرت عمرو بن دینار نے پاؤں کے نصف حصہ کی طرف اشارہ کیا۔
حدیث نمبر: 30504
٣٠٥٠٤ - وأشار عمرو إلى شطرها.