کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جو یوں کہے: اپنی بیوی کی باندی سے وطی کرنے میں حد نہیں ہے
حدیث نمبر: 30449
٣٠٤٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن مغيرة عن الهيثم بن بدر عن (حرقوص) (١) عن علي أن رجلًا وقع على جارية [(امرأته فدرأ عنه الحد) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حرقوس فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کی باندی سے وطی کرلی تو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اس سے حد کو ختم کردیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30449
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30449، ترقيم محمد عوامة 29139)
حدیث نمبر: 30450
٣٠٤٥٠ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن زكريا عن الشعبي عن عبد اللَّه أنه قال: لا (حد) (١) عليه] (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا : اس پر حد جاری نہیں ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30450
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30450، ترقيم محمد عوامة 29140)
حدیث نمبر: 30451
٣٠٤٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل عن الشعبي (قال: جاء رجل إلى عبد اللَّه) (١) فقال: إني وقعت على جارية امرأتي] (٢)، فقال: اتق اللَّه ولا تعد (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس آیا اور کہنے لگا : بیشک میں نے اپنی بیوی کی باندی سے وطی کرلی ہے۔ اس پر آپ نے فرمایا : اللہ سے ڈر اور دوبارہ ایسی حرکت نہ کرنا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30451
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30451، ترقيم محمد عوامة 29141)
حدیث نمبر: 30452
٣٠٤٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا سفيان عن منصور عن ربعي عن عقبة بن (جبار) (١) عن عبد اللَّه قال: لا حد عليه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ بن جبار فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا : اس پر حد جاری نہیں ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30452
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30452، ترقيم محمد عوامة 29142)
حدیث نمبر: 30453
٣٠٤٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد القطان عن سفيان عن الشيباني عن الشعبي عن (عامر بن مطر) (١) عن عبد اللَّه في الرجل يقع على جارية امرأته، قال: إن استكرهها فهي حرة، وعليه مثلها (لسيدتها) (٢)، (وإن) (٣) كانت طاوعته فهي له (وعليه) (٤) مثلها لسيدتها (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر بن مطر فرماتے ہیں کہ حضرت عبدا للہ بن مسعود سے اس شخص کے بارے میں مروی ہے جس نے اپنی بیو ی کی باندی سے جماع کرلیا تھا۔ آپ نے فرمایا : اگر اس نے اسے بدکاری پر مجبور کیا تھا تو وہ باندی آزاد ہوگی اور اس شخص جیسی باندی اس مالکہ کے لیے لازم ہوگی اور اگر وہ باندی اس کے ہم نوا تھی تو یہ باندی اس شخص کی ہوجائے گی اور اس شخص پر اس جیسی باندی اس کی مالکہ کے لےْ لازم ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30453
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ عامر بن مطر صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30453، ترقيم محمد عوامة 29143)
حدیث نمبر: 30454
٣٠٤٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو (داود) (١) الطيالسي عن جرير عن قيس عن عطاء قال: لا حد عليه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء نے ارشاد فرمایا : اس شخص پر حد جاری نہیں ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30454
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30454، ترقيم محمد عوامة 29144)
حدیث نمبر: 30455
٣٠٤٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام عن هشام عن الحسن عن سلمة بن محبق أن رجلًا وقع على جارية امرأته فدرأ عنه النبي ﷺ الحد (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ بن محبّق فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کی باندی سے وطی کرلی تھی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے حد کو زائل کردیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30455
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30455، ترقيم محمد عوامة 29145)