کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اس آدمی کے بیان میں جو اپنی بیوی کی باندی سے جماع کرلے
حدیث نمبر: 30436
٣٠٤٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن أبي بشر (عن) (١) حبيب بن سالم أن رجلًا وقع بجارية امرأته فأتت امرأته النعمان بن بشير فأخبرته فقال: أما إن عندي في (ذلك) (٢) (خبرًا شافيًا) (٣) (أحدثه) (٤) عن رسول اللَّه ﷺ: إن كنت أذنت له جلدته مائة، وإن كنت لم تأذني له رجمته (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبیب بن سالم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کی باندی سے وطی کرلی سو اس کی بیوی حضرت نعمان بن بشیر کے پاس آئی اور آپ کو اس بارے میں خبر دی آپ نے فرمایا : بیشک اس بارے میں میرے پاس ایک مکمل خبر ہے جو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالہ سے بیان کرتا ہوں وہ یہ ہے کہ : اگر تو نے اس کو اجازت دی ہے تو میں اسے سو کوڑے ماروں گا، اور اگر تو نے اس کو اجازت نہیں دی تو میں اسے سنگسار کردوں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30436
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30436، ترقيم محمد عوامة 29126)
حدیث نمبر: 30437
٣٠٤٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مسهر عن الشيباني عن عكرمة قال: جاءت امرأة إلى علي (فقالت) (١): إن زوجي وقع على وليدتي، فقال: إن تكوني ⦗٤٣٤⦘ صادقة رجمناه، وإن تكوني كاذبة جلدناك، ثم (تضرب) (٢) الناس حتى اختلطوا، فذهبت المرأة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی، میرے شوہر نے میری باندی سے وطی کرلی ہے آپ نے فرمایا : اگر تو سچی ہے تو میں اسے سنگسار کروں گا اور اگر تو جھوٹی ہے تو میں تجھے کوڑے ماروں گا۔ لوگ اس بارے میں اضطراب کا شکار ہوئے اور ایک دوسرے سے الجھنے لگے اور وہ عورت چلی گئی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30437
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30437، ترقيم محمد عوامة 29127)
حدیث نمبر: 30438
٣٠٤٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن مبارك بن عمارة قال: جاءت امرأة إلى علي فقالت: يا ويلها، إن زوجها وقع على جاريتها، فقال: إن كنت صادقة رجمناه، وإن (كنت) (١) كاذبة جلدناك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مبارک بن عمارہ فرماتے ہیں کہ ایک عورت حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آ کر کہنے لگی : ہائے افسوس ! میرے شوہر نے میری باندی سے وطی کرلی ہے آپ نے فرمایا : اگر تو سچی ہے تو میں اس کو سنگسار کروں گا اور اگر تو جھوٹی ہے تو میں تجھے کوڑے ماروں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30438
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30438، ترقيم محمد عوامة 29128)
حدیث نمبر: 30439
٣٠٤٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن حجاج عن مكحول قال: قال (عمر) (١): لا أؤتى برجل وقع على جارية امرأته إلا فعلت وفعلت (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : میرے پاس کوئی بندہ نہ لایا جائے جس نے اپنی بیوی کی باندی سے وطی کی ہو ورنہ میں اس کے ساتھ ایسا اور ایسا معاملہ کروں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30439
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30439، ترقيم محمد عوامة 29129)
حدیث نمبر: 30440
٣٠٤٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن هشام عن الحسن وابن سيرين كانا إذا سئلا عن الرجل (يقع) (١) على جارية امرأته (يتلوان) (٢) هذه الآية: ﴿وَالَّذِينَ هُمْ لِفُرُوجِهِمْ حَافِظُونَ (٥) إِلَّا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ فَإِنَّهُمْ غَيْرُ مَلُومِينَ﴾ [المؤمنون: ٥ - ٦].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حسن بصری اور حضرت محمد بن سیرین سے اس آدمی کے متعلق پوچھا گیا جو اپنی بیوی کی باندی سے وطی کرلے تو ان دونوں حضرا ت نے اس آیت کی تلاوت فرمائی۔ ترجمہ : اور وہ لوگ جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ وہ سوائے اپنی بیویوں اور باندیوں کے کہیں نہیں جاتے۔ اس بارے میں وہ قابل ملامت نہیں ہیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30440
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30440، ترقيم محمد عوامة 29130)
حدیث نمبر: 30441
٣٠٤٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (بشير) (١) بن (سلمان) (٢) قال: ⦗٤٣٥⦘ سمعت إبراهيم يقول: (يعزر) (٣) ولا حد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بشیر بن سلمان فرماتے ہیں کہ میں نے ابراہیم کو یوں فرماتے ہوئے سنا : حد سے کم سزا ہوگی حد نہیں ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30441
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30441، ترقيم محمد عوامة 29131)
حدیث نمبر: 30442
٣٠٤٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن سماك عن معبد وعبيد (ابني) (١) حمران عن ابن مسعود أنه ضربه دون الحد (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معبد اور حضرت عبید بنی حمران دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود نے اس پر حد سے کم سزا لگائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30442
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30442، ترقيم محمد عوامة 29132)
حدیث نمبر: 30443
٣٠٤٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن الأعمش (عن إبراهيم) (١) قال: قال علقمة: ما أبالي وقعت على جارية امرأتي أو جارية عوسجة رجل من الحي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ حضرت علقمہ نے ارشاد فرمایا : میں پروا نہیں کرتا کہ میں اپنی بیوی کی باندی سے وطی کروں یا عوسجہ کی باندی سے (ان کے قبلہھ کا ایک آدمی)
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30443
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30443، ترقيم محمد عوامة 29133)
حدیث نمبر: 30444
٣٠٤٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن أبي إسحاق عن أبي ميسرة في رجل يأتي جارية امرأته أنه قال: ما أبالي أتيتها أو جارية من الطريق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت ابو میسرہ سے ایک آدمی کے بارے میں مروی ہے جس نے اپنی بیوی کی باندی سے وطی کرلی تھی۔ آپ نے فرمایا : میں پروا نہیں کرتا میں اس سے وطی کروں یا راہ چلتی باندی سے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30444
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30444، ترقيم محمد عوامة 29134)
حدیث نمبر: 30445
٣٠٤٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن هشام عن الحسن قال: عليه الحد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ حسن بصری نے ارشاد فرمایا : اس پر حد جاری ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30445
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30445، ترقيم محمد عوامة 29135)
حدیث نمبر: 30446
٣٠٤٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن عامر عن سالم عن ابن عمر قال: قال عمر: لو أتيت برجل وقع على جارية امرأته لرجمته (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : اگر میرے پاس ایسا آدمی لایا گیا جس نے اپنی بیوی کی باندی سے وطی کی ہو تو میں ضرور اسے سنگسار کروں گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30446
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30446، ترقيم محمد عوامة 29136)
حدیث نمبر: 30447
٣٠٤٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) ابن أبي عروبة عن إياس بن معاوية عن نافع، قال: (جاءت) (٢) جارية إلى عمر فقالت: ⦗٤٣٦⦘ يا أمير المؤمنين إن المغيرة يطأني، وإن امرأته تدعوني زانية، فإن كنت لها (فانهه) (٣) عن غشياني، وإن كنت له فانه امرأته عن قذفي، فأرسل إلى المغيرة فقال: تطأ هذه الجارية؟ قال: نعم، قال: من أين؟ قال: وهبتها لي امرأتي، قال: واللَّه، لئن (لم) (٤) تكن وهبتها لك (لا ترجع) (٥) إلى أهلك (إلا) (٦) مرجوما، ثم (دعا رجلين رقيقين) (٧) (فقال) (٨): انطلقا إلى امرأة المغيرة فأعلماها: لئن لم تكوني وهبتها (له) (٩) لنرجمنه، قال: فأتياها فأخبراها فقالت: (يا لهفاه) (١٠) أتريد أن يرجم بعلي، لاها اللَّه إذن لقد وهبتها له، قال: (فخلى) (١١) عنه (١٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ ایک باندی حضرت عمر کے پاس آئی اور کہنے لگی : اے میرا لمومنین ! بیشک حضرت مغیرہ مجھ سے وطی کرتے ہیں اور ان کی بیوی مجھے زانیہ پکارتی ہے پس اگر میں ان کی بیوی کی ملکیت ہوں تو آپ ان کو مجھ سے وطی کرنے سے روک دیں اور اگر میں مغیرہ کی ملکیت ہوں تو آپ ان کی بیوی کو مجھ پر تہمت لگانے سے باز کریں۔ اس پر آپ نے قاصد بھیج کر حضرت مغیرہ کو بلایا اور پوچھا : کیا تم اس باندی سے وطی کرتے ہو ؟ انہوں نے فرمایا : جی ہاں، آپ نے پوچھا : تمہیں کہاں سے ملی ؟ انہوں نے فرمایا : یہ میری بیوی نے مجھے ہبہ کی ہے آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر اس نے یہ باندی تمہیں ھبہ نہ کی ہو تو تم آج گھر نیں و لوٹو گے مگر کوڑے کھا کر۔ پھر آپ نے فلاں اور فلاں کو حکم دیا اور ارشاد رفرمایا : تم دونوں آدمی مغیرہ کی بیوی کے پاس جاؤ، اور اسے اس بارے میں بتلاؤ، اگر تو نے یہ باندی اس کو ھبہ نہیں کی تو ہم ضرور اسے سنگسار کردیں گے۔ پس وہ دنوں آدمی حضرت مغیرہ کی بیوی کے پاس آئے اور اسے اس بارے میں خبر دی۔ اس نے کہا : اے افسوس ! کیا وہ میرے شوہر کو سنگسار کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ! تب اللہ اس سے جھگڑے، تحقیق اس کو میں نے وہ باندی ھبہ کی تو آپ نے انہیں چھوڑ دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30447
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30447، ترقيم محمد عوامة 29137)
حدیث نمبر: 30448
٣٠٤٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن مغيرة (عن إبراهيم) (١) قال: أتى رجل ابن مسعود فقال: إني وقعت على جارية امرأتي، فقال: قد ستر اللَّه عليك (فاستتر) (٢)، فبلغ ذلك عليًا فقال: لو أتاني الذي أتى ابن أم عبد لرضخت رأسه بالحجارة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود کی خدمت میں ایک آدمی آیا اور کہنے لگا ! بیشک میں نے اپنی بیوی کی باندی سے جماع کرلیا۔ اس پر آپ نے فرمایا : تحقیق اللہ نے تیری ستر پوشی فرمائی ہے تو تو بھی ستر پوشی کر۔ یہ بات حضرت علی رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو آپ نے فرمایا : اگر میر سے پاس وہ شخص آتا جو حضرت ابن ام عبد کے پاس آیا تھا تو میں ضرور اس کا سر پتھروں سے کچل دیتا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30448
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30448، ترقيم محمد عوامة 29138)