کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ایک آدمی کے بیان میں جس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی پس وہ اس کے ساتھ جماع کرتا ہوا پایا گیا اور اس کے خلاف گواہی بھی دے دی گئی اور وہ طلاق دینے سے انکار کرتا ہے
حدیث نمبر: 30384
٣٠٣٨٤ - حديث أبو بكر قال: حدثنا سهل بن يوسف عن عمرو عن الحسن في أربعة شهدوا على رجل أنه طلق امرأته ثلاثًا فأنكر وأقر بغشيان المرأة، فقال: لا حد عليه؛ لأنه مخاصم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو فرماتے ہیں کہ حسن بصری سے ان چار آدمیوں کے بارے میں جنہوں نے ایک آدمی کے خلاف گواہی دی کہ بیشک اس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں پس اس شخص نے انکار کردیا اور بیوی سے جماع کا اقرار کیا۔ آپ نے فرمایا : اس پر حد نہیں ہوگی اس لیے کہ وہ انکار کررہا ہے۔
حدیث نمبر: 30385
٣٠٣٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن سعيد عن قتادة عن جابر ⦗٤٢١⦘ ابن زيد وهو قول قتادة أنهما قالا: يفرق بينهما بشهادة اثنين وثلاثة، ويرجم بشهادة أربعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ اور حضرت جابر بن زید نے ارشاد فرمایا : ان دونوں کے درمیان دو اور تین آدمیوں کی گواہی سے تفریق ڈال دی جائے گی اور چار لوگوں کی گواہی سے اسے سنگسار کردیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 30386
٣٠٣٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن سعيد قال: نبؤوا عن (حبيب) (١) بن أبي ذئب عن عمر قال: يفرق بينهما (٢) بشهادة أربعة (فأكثر) (٣)، فإن عاد (رجم) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید فرماتے ہیں کہ لوگوں نے حضرت حیبی بن ابی ذئب کے حوالہ سے خبر دی ہے کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : ان دونوں کے درمیان چار یا اس سے زیادہ آدمیوں کی گواہی سے تفریق کردی جائے گی پس اگر وہ دوبارہ لوٹے تو اسے سنگسار کردیا جائے۔
حدیث نمبر: 30387
٣٠٣٨٧ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن سعيد قال: نبؤوا عن إبراهيم قال: يفرق بينهما بشهادة أربعة، وأكثر من ذلك رجم] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید فرماتے ہیں کہ لوگوں نے ابراہیم کے حوالے سے خبر دی ہے کہ آپ نے فرمایا : ان دونوں کے درمیان چار آدمیوں کی گواہی سے تفریق کردی جائے گی اور اس سے زیادہ کی صورت میں اسے سنگسار کیا جائے۔
حدیث نمبر: 30388
٣٠٣٨٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (هشيم) (١) عن محمد بن سالم عن الشعبي أنه سئل عن رجل شهد (عليه) (٢) شهود: أنه (طلق امرأته) (٣) ثلاثًا، فجحد ذلك، و (إنه) (٤) كان يغشاها، قال: فقال (الشعبي) (٥): يدرأ عنه الحد لإنكاره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن سالم فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی سے ایک آدمی کے متعلق پوچھا گیا : جس کے خلاف چند گواہوں نے گواہی دی کہ بیشک اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے پس اس نے اس کا انکار کردیا اور وہ اس سے جماع کرتا تھا، اس کا کیا حکم ہے ؟ حضرت شعبی نے فرمایا : اس کے انکار کرنے کی وجہ سے اس سے سزا کو ختم کردیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 30389
٣٠٣٨٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الضحاك بن مخلد عن ابن جريج عن عطاء في رجل طلق امرأته فأشهد شاهدين، ثم قدم القرية التي بها المرأة، فغشيها وأقر بأن ⦗٤٢٢⦘ قد أصابها، وأنكر أن يكون (١) طلقها، فقال (عطاء: تجوز) (٢) شهادتهما، ويفرق بينهما، ولا يحد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء سے ایک آدمی کے بارے میں مروی ہے جس نے اپنی بیو ی کو طلاق دی پس دو گواہوں نے گواہی بھی دے دی پھر وہ شخص اس بستی میں آیا جہاں اس کی بیوی تھی اور اس نے اس سے جماع کیا۔ وہ شخص اس سے جماع کا اقرار کرتا ہے اور اس کو طلاق دینے کا انکار کرتا ہے۔ حضرت عطاء نے فرمایا : ان دونوں گواہوں کی گواہی جائز ہوگی اورا ن کے درمیان تفرق کردی جائے گی اور اس شخص پر حد نہیں لگائی جائے گی۔
حدیث نمبر: 30390
٣٠٣٩٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة عن سعيد عن قتادة أن رجلًا طلق امرأته ثلاثًا، ثم جعل يغشاها بعد ذلك، فسئل عن ذلك عمار فقال عمار: لئن قدرت على هذا لأرجمنه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں پھر اس نے اس کے بعد اس سے جماع کرنا شروع کردیا تو اس بارے میں حضرت عمار سے پوچھا گیا ؟ آپ نے فرمایا : اگر مجھے اس پر قدرت ہوتی تو میں ضرور اس کو سنگسار کردیتا۔
حدیث نمبر: 30391
٣٠٣٩١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن سواء عن سعيد عن قتادة عن خلاس عن عمار بنحوه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خلاس سے بھی حضرت عمار کا مذکورہ ارشاد منقول ہے۔
حدیث نمبر: 30392
٣٠٣٩٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن جرير بن حازم عن عيسى بن عاصم قال: خرج قوم في سفر، فمروا برجل فنزلوا به، فطلق امرأته ثلاثًا، فمضى القوم في سفرهم، ثم عادوا فوجدوه معها، فقدموه إلى شريح فقالوا: إن هذا طلق امرأته ثلاثًا ووجدناه معها، فأنكر، [فقالت: شهدون أنه زان، فأعادوا عليه (القول كما قالوا، فقالت: شهدون أنه زان؟ فأعادوها عليه) (١) ففرق بينهما، ولم يحدهما، وأجاز (شهادتهما) (٢)] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عیسیٰ بن عاصم فرماتے ہیں کہ چند لوگ سفر میں نکلے ان کا گزر ایک آدمی کے پاس سے ہواتو انہوں نے اس کے پاس قیام کیا اس دوران اس آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں پھر وہ واپس لوٹے تو انہوں نے اس کو اس عورت کے ساتھ پایا سو انہوں نے اس کو حضرت شریح کے سامنے پیش کیا اور کہنے لگے : بیشک اس شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں اور ہم نے اسے اس عورت کے ساتھ پایا ہے اور وہ آدمی انکار کررہا تھا۔ اس پر آپ نے فرمایا : کیا تم گواہی دیتے ہو کہ یہ شخص زانی ہے ؟ پس انہوں نے اپنے قول کو دھرایا جیسا انہوں نے کہا تھا پھر آپ نے پوچھا : کیا تم گواہی دیتے ہو کہ یہ شخص زانی ہے ؟ انہوں نے پھر اپنی بات دھرائی سو آپ نے ان کے درمیان تفریق کردی اور ان دونوں پر حد نہیں لگائی اور ان کی گواہی کو جائز قرار دیا۔