حدیث نمبر: 30310
٣٠٣١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (معمر) (١) بن سليمان (الرقي) (٢) عن حجاج عن عبد الجبار بن وائل عن أبيه قال: استكرهت امرأة على عهد (رسول) (٣) اللَّه ﷺ فدرأ عنها الحد (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وائل بن عمر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک عورت کو بدکاری کرنے پر مجبور کیا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس عورت سے سزا ختم کردی۔
حدیث نمبر: 30311
٣٠٣١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن عبيد اللَّه عن نافع عن ابن عمر (أن عمر) (١) أُتي بإماء من إماء الإمارة استكرههن غلمان من غلمان الإمارة، فضرب الغلمان ولم يضرب الإماء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس حکومت کی باندیوں میں سے چند باندیاں لائی گئیں جن کو حکومت کے غلاموں میں سے چند غلاموں نے بدکاری پر مجبور کیا تھا تو آپ نے ان غلاموں کو کوڑے مارے اور ان باندیوں کو نہیں مارا۔
حدیث نمبر: 30312
٣٠٣١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن عبيد اللَّه عن نافع أن رجلًا أضاف أهل بيت، فاستكره منهم امرأة، فرفع ذلك إلى أبي بكر فضربه ونفاه ولم (يضرب) (١) المرأة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی گھر والوں کی دعوت کی پس اس نے ان میں سے ایک عورت کو بدکاری پر مجبور کیا، یہ معاملہ حضرت ابوبکر کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے اس شخص کو کوڑے لگائے اور اس کو جلاوطن کردیا اور آپ نے اس عورت کو کوڑے نہں د مارے۔
حدیث نمبر: 30313
٣٠٣١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (معمر) (١) (بن) (٢) سليمان (الرقي) (٣) عن حجاج أن حبشيًا استكره امرأة (منهم) (٤)، فأقام عليه عمر بن عبد العزيز الحد وأمكنها من رقبته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حجاج فرماتے ہیں کہ ایک حبشی نے اپنے میں سے کسی عورت کو بدکاری پر مجبور کیا تو حضرت عمر بن عبدالعزیز نے اس پر حد قائم فرمائی۔ اور آپ نے اس عورت کو اس کی ملکیت پہ قدرت دے دی۔
حدیث نمبر: 30314
٣٠٣١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن أشعث عن الزهري والشعبي والحسن قالوا: ليس على مستكرهة حد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ حضرت زھری ، حضرت شعبی اور حسن بصری ان سب حضرات نے ارشاد فرمایا : بدکاری پر مجبور کی گئی عورت پر حد نہیں جاری ہوگی۔
حدیث نمبر: 30315
٣٠٣١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن أشعث عن الحسن والزهري قالا: ليس على مستكرهة حد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ حسن بصری اور زھری نے ارشاد فرمایا : بدکاری پر مجبور کی گئی عورت پر حد جاری نہیں ہوگی۔
حدیث نمبر: 30316
٣٠٣١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (هشيم) (١) عن أبي حرة عن الحسن قال: استكره عبد امرأة فوطئها، فاختصما إلى الحسن -و (هو قاض يومئذ) (٢) - فضربه الحد وقضى بالعبد للمرأة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حرہ فرماتے ہیں کہ حسن بصری نے ارشاد فرمایا : ایک غلام نے کسی عورت کو بدکاری پر مجبور کیا اور اس نے اس سے وطی کرلی، پھر وہ دونوں جھگڑا لے کر حسن بصری کی خدمت میں آئے اس حال میں کہ آپ ان دنوں قاضی تھے پس آپ نے اس غلام پر حد لگائی اور اس غلام کا عورت کے حق میں فیصلہ دے دیا۔
حدیث نمبر: 30317
٣٠٣١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شبابة (بن) (١) سوار عن شعبة قال: سألت الحكم وحمادًا عن مملوك (افترع) (٢) جارية، (فقالا) (٣): عليه الحد، وليس عليه الصداق.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے ایک غلام کے متعلق دریافت کیا جس نے ایک لونڈی کی بکارت زائل کردی تھی ؟ ان دونوں حضرات نے فرمایا : اس پر حد جاری ہوگی اور اس پر مہر لازم نہیں ہوگا۔