حدیث نمبر: 30277
٣٠٢٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد اللَّه بن مبارك عن سعيد بن أبي أيوب ⦗٤٠٠⦘ عن معروف بن سويد أن قومًا كانوا يسرقون (رقيق) (١) الناس بإفريقية، فقال علي ابن (رباح) (٢): ليس عليهم قطع، قد كان هذا على عهد عمر بن الخطاب فلم ير عليهم قطعًا، وقال: هؤلاء خلابون (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معروف بن سوید فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ افریقہ سے لوگوں کے غلام چوری کرتے تھے، حضرت علی رضی اللہ عنہ بن رباح نے فرمایا : اس پر ہاتھ کاٹنے کی سزا جاری نہیں ہوگی تحقیق یہ حضرت عمر بن خطاب کے زمانے کی بات ہے۔ تو آپ نے بھی ان پر ہاتھ کاٹنے کی سزا کی رائے نہیں رکھی اور فرمایا : یہ لوگ چالاک وحیلہ باز ہیں۔
حدیث نمبر: 30278
٣٠٢٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن سعيد عن عمرو (عن الحسن) (١) قال: من سرق (صغيرًا) (٢) (قطع) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو فرماتے ہیں کہ حسن بصری نے ارشاد فرمایا، جو کسی چھوٹے بچہ کو چوری کرلے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔
حدیث نمبر: 30279
٣٠٢٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معن بن عيسى عن ابن أبي ذئب عن الزهري في الذي يسرق الصبيان والأعاجم: (تقطع) (١) يده.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ذئب فرماتے ہیں کہ حضرت زھری سے اس شخص کے بارے میں مروی ہے جو بچوں اور عجمیوں کو چوری کرتا تھا۔ آپ نے فرمایا : اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔
حدیث نمبر: 30280
٣٠٢٨٠ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: أخبرني معن أو معمر عن ابن شهاب قال: سألته عن رجل سرق عبدًا أعجميًا؟ قال: تقطع يده] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معن یا حضرت معمر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن شھاب سے اس آدمی کے متعلق سوال کیا جس نے عجمی غلام چوری کیا تھا : اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔
حدیث نمبر: 30281
٣٠٢٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: أخبرت أن عمر بن الخطاب قطع رجلًا في غلام سرقه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ مجھے خبر دی گئی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے ایک لڑکے کے معاملے میں ایک آدمی کا ہاتھ کاٹ دیا جسے اس نے چوری کیا تھا۔