کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کے بیان میں جو آدمی پر تہمت لگاتا ہے پس اس پر حد قائم کردی جاتی ہے پھر بھی وہ اس پر تہمت لگا تا ہے
حدیث نمبر: 30251
٣٠٢٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة عن سعيد عن قتادة عن الحسن قال: إذا قذف الرجلُ (الرجلَ) (١) أقيم عليه الحد، فإن (أعاد) (٢) عليه القذف فلا حد عليه إلا أن يحدث له (قذفًا) (٣) آخر.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حسن بصری نے ارشاد فرمایا : جب ایک شخص نے آدمی پر تہمت لگائی تو اس پر حدقذف قائم کردی جائے گی۔ پس اگر وہ دوبارہ اس پر تہمت لگائے تو اس پر حد قذف جاری نہیں ہوگی۔ مگر یہ کہ وہ ایک دوسری تہمت نئے سرے سے اس پر لگائے۔
حدیث نمبر: 30252
٣٠٢٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن علية عن عيينة بن عبد الرحمن عن أبيه أن عمر لما أمر بأبي بكرة وأصحابه فجلدوا، فعاد أبو بكرة فقال: زنى المغيرة فأراد عمر ⦗٣٩٥⦘ أن يجلده، فقال (علي: علام) (١) تجلده؟ وهل قال: إلا ما قد قال، فتركه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے جب حضرت ابو بکرہ اور ان کے ساتھیوں کے متعلق حکم دیا تو ان کو کوڑے مارے گئے پھر حضرت ابو بکرہ نے دوبارہ کہا : مغیرہ نے زنا کیا ہے۔ تو حضرت عمر نے ان کو کوڑے مارنے کا ارادہ کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ سے فرمایا : کس بات پر آپ اسے کوڑے ماریں گے ؟ کیا انہوں نے جو کہنا تھا وہ کہہ نہیں چکے ! تو آپ نے ان کو چھوڑ دیا۔
حدیث نمبر: 30253
٣٠٢٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عفان قال: حدثنا حماد بن سلمة عن حجاج عن فضيل عن إبراهيم في رجل قذف رجلًا فجلد، ثم قذفه (أيضًا، قال: لا يجلد) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فضیل فرماتے ہیں کہ ابراہیم سے ایسے شخص کے بارے میں مروی ہے جس نے ایک آدمی پر تہمت لگائی پس اسے کوڑے مارے گئے پھر بھی وہ اس پر تہمت لگاتا ہے۔ آپ نے فرمایا : اسے کوڑے نہیں مارے جائیں گے۔