حدیث نمبر: 30245
٣٠٢٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن حماد عن إبراهيم قال: من قذف (به) (١) إنسانًا جلد، ويبتغى فيه من الشهود كما يبتغى في شهود الزنى.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : جو شخص کسی انسان پر یہ تہمت لگائے تو اسے کوڑے مارے جائیں گے اور اس میں گواہوں کو ایسے ہی تلاش کیا جائے گا جیسا کہ زنا کے گواہوں میں کیا جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 30246
٣٠٢٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري قال: إذا قذف الرجل الرجل بعمل قوم لوط أو بالبهيمة جلد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معمر فرماتے ہیں کہ حضرت زہری نے ارشاد فرمایا : جب آدمی ایک شخص پر قوم لوط کے عمل کی یا جانور کے ساتھ بدفعلی رضی اللہ عنہ کی تہمت لگائے تو اسے کو ڑے مارے جائیں گے۔
حدیث نمبر: 30247
٣٠٢٤٧ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن عبد الخالق عن حماد قال: عليه الحد] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالخالق فرماتے ہیں کہ حضرت حماد نے ارشاد فرمایا : اس پر حد قذف جاری ہوگی۔
حدیث نمبر: 30248
٣٠٢٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سعيد بن حسان عن (عبد الحميد) (١) بن (جبير) (٢) أن رجلًا قال لرجل: يا لوطي؟ فرفع إلى عمر بن عبد العزيز فجعل يقول: يا لوطي، يا محمدي، قال: فضربه بضعة عشر سوطًا، ثم أخرجه من الغد فأكمل له الحد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالحمید بن جبیر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی آدمی کو کہا : اے لوطی، یہ معاملہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے یوں کہنا شروع کردیا : اے لوطی ! اے محمدی ! راوی کہتے ہیں : پھر آپ نے اسے دس سے اوپر کوڑے مارے پھر اگلے دن اسے نکالا اور اس کی سزا کو مکمل کیا۔
حدیث نمبر: 30249
٣٠٢٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبي هلال عن الحسن وعكرمة، قال الحسن: ليس عليه حد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو ہلال فرماتے ہیں کہ حسن بصری نے ارشاد فرمایا : اس پر حد قذف جاری نہیں ہوگی اور حضرت عکرمہ نے ارشاد فرمایا : اس پر حد قذف جاری ہوگی۔
حدیث نمبر: 30250
٣٠٢٥٠ - وقال عكرمة: عليه الحد.