کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: زانی عورت اور مرد کا بیان کہ ان دونوں کے کپڑے اتار لیے جائیں گے یا ان کپڑوں میں ہی کوڑے مارے جائیں گے؟
حدیث نمبر: 30208
٣٠٢٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن (الحي) (١) أن امرأة من (الصبيريين) (٢) زنت، فألبسها أهلها درعا من (حرير) (٣)، فرفعت إلى علي فضربها وهو عليها (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ میرے قبیلہ کے ایک آدمی سے مروی ہے کہ صبیریین علاقہ کی ایک عورت نے زنا کیا تو اس کے گھر والوں نے اسے لوہے کی ذرہ پہنا کر اسے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کیا تو آپ نے اسے پہننے کی حالت میں ہی کوڑے مارے۔
حدیث نمبر: 30209
٣٠٢٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن أشعث (١) (بن) (٢) السوار عن أبيه قال: شهدت أبا برزة يضرب أمة له فجرت وعليها ملحفة (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سوار فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو برزہ کے پاس حاضر تھا کہ انہوں نے اپنی باندی کو مارا جس نے زنا کیا تھا درآنحالیکہ اس نے اوڑھنی پہنی ہوئی تھی۔
حدیث نمبر: 30210
٣٠٢١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن حماد قال: أما الزاني فيخلع عنه ثيابه وتلا: ﴿وَلَا تَأْخُذْكُمْ بِهِمَا رَأْفَةٌ فِي دِينِ اللَّهِ﴾ [النور: ٢]، (قلت) (١): هذا في الحكم (قال: هذا في الحكم) (٢) والجلد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ حضرت حماد نے ارشاد فرمایا : جہاں تک زانی کا تعلق ہے تو اس کے کپڑے اتار دیے جائیں گے اور آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : ترجمہ :۔ اور ان دونوں کے سلسلہ میں تمہیں ترس کھانے کا جانب دامن گیر نہ ہو اللہ کے دین کے معاملہ میں۔ راوی کہتے ہں ک : میں نے عرض کی : یہ آیت تو حکم کے بارے میں ہے۔ آپ نے فرمایا : یہ حکم اور کوڑے کے بارے میں ہے۔
حدیث نمبر: 30211
٣٠٢١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن حجاج عن الوليد (بن) (١) أبي مالك قال: (أتي) (٢) أبو عبيدة برجل قد زنى فقال: إن هذا الجسد المذنب لأهل أن يضرب، (قال) (٣): فنزع عنه قباءه، فأبى أن يضرب ورد عليه قباءه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ولید بن ابو مالک فرماتے ہیں کہ حضرت ابو عبیدہ بن جراح کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے زنا کیا تھا وہ کہنے لگا یہ گناہ گار جسم اس قابل ہے کہ اسے مارا جائے پھر اس نے اپنا جبہ اتار دیا پس آپ نے اس طرح مارنے سے انکار کیا اور اس پر اس کے جبہ کو واپس پہنا دیا۔