حدیث نمبر: 30195
٣٠١٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان عن سعيد عن قتادة عن سعيد بن المسيب في الرجل يقول لامرأته: لم أجدك عذراء، قال سعيد: حد، ولا ملاعنة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قتادہ فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن مسیب سے ایسے آدمی کے بارے میں مروی ہے جو اپنی بیوی کو یوں کہہ دے میں نے تجھے باکرہ نہیں پایا ؟ حضرت سعید نے فرمایا : حد ہوگی اور لعان نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 30196
٣٠١٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن (الحباب) (١) عن ابن (لهيعة) (٢) عن عبد اللَّه بن هبيرة عن رجل قد سماه أن زيد بن ثابت وابن عمر سئلا عن رجل قال لامرأته: لم أجدك عذراء، (قالا) (٣): إن تبرأ جلد الحد وكانت امرأته، وإن لم يتبرأ ⦗٣٨٤⦘ لاعنها وفوق بينهما (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن ھبیرہ ایک آدمی سے جس کا آپ نے نام لیا اس سے مروی ہے کہ حضرت زید بن ثابت اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک آدمی کے متعلق سوال کیا گیا جس نے اپنی بیوی کو یوں کہہ دیا : میں نے تجھے باکرہ نہیں پایا ؟ ان دونوں حضرات نے فرمایا : اگر اس نے علیحدگی اختیار کرلی تو اس کو حداً کوڑے مارے جائیں گے اور وہ اس کی بیوی رہے گی اور اگر اس نے علیحدگی اختیار نہ کی تو ان دونوں کے درمیان لعان ہوگا اور ان دونوں کے درمیان تفریق کردی جائے گی۔
حدیث نمبر: 30197
٣٠١٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حماد بن خالد عن ابن أبي ذئب عن الزهري قال: إذا دخل الرجل بالمرأة، ثم قال: لم أجدها عذراء، قال: يضرب الحد ولا يلاعن، لأنه لم (يقل) (١) إني رأيتك تزنين.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی ذئب فرماتے ہیں کہ حضرت زھری نے ارشاد فرمایا : جب آدمی نے عورت سے دخول کرلیا پھر اس نے کہا ! میں نے اسے باکرہ نہیں پایا، اس پر حد لگائی جائے گی اور لعان نہیں کیا جائے گا۔ اس لیے کہ اس نے یوں نہیں کہا : بیشک میں نے تجھے زنا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔