کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: سزائوں میں جانچ پڑتال کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 30178
٣٠١٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم وعبد (الرحيم) (١) عن مجالد عن عامر قال: لا امتحان في حد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجالد فرماتے ہیں کہ حضرت عامر نے ارشاد فرمایا، حد میں جانچ پڑتال نہیں ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30178
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30178، ترقيم محمد عوامة 28886)
حدیث نمبر: 30179
٣٠١٧٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن عمران بن (حدير) (١) عن أبي مجلز قال: المحنة في (الظنة) (٢) أن (يوعده) (٣) و (يجلب) (٤) عليه، وإن ضربته سوطًا واحدًا فليس اعترافه بشيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمران بن حدیر فرماتے ہیں کہ حضرت ابو مجلز نے ارشاد فرمایا : تہمت اور آدمی پر عیب لگانے مں ٢ آزمائش یہ ہے کہ یوں کہے : تو نے اسے ڈرایا ہوگا اور اسے نقصان پہنچایا ہوگا اور اگر میں نے اسے ایک کوڑا بھی مارا تو اس کا اعتراف قابل قبول نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30179
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30179، ترقيم محمد عوامة 28887)
حدیث نمبر: 30180
٣٠١٨٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سعيد بن زيد (عن واصل) (١) مولى أبي (عيينة) (٢) عن (أبي) (٣) (عيينة) (٤) بن المهلب قال: سمعت عمر ابن عبد العزيز يقول: من أقر بعد ما ضرب سوطًا واحدًا فهو كذاب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عیینہ بن مھلب فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز کو یوں فرماتے ہوئے سنا : جس شخص نے ایک کوڑا کھانے کے بعد اقرار کرلیا تو وہ شخص جھوٹا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30180
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30180، ترقيم محمد عوامة 28888)
حدیث نمبر: 30181
٣٠١٨١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن جابر عن عامر والحكم (قالا) (١): المحنة بدعة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عامر اور حضرت حکم نے ارشاد فرمایا، آزمائش بدعت ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30181
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30181، ترقيم محمد عوامة 28889)
حدیث نمبر: 30182
٣٠١٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن المسعودي عن القاسم عن شريح قال: القيد كره، والسجن كره، والوعيد كره.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ حضرت شریح نے ارشاد فرمایا : بیڑی ڈالنا مشقت ہے جیل مشقت ہے اور ڈرانا بھی مشقت و سختی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30182
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30182، ترقيم محمد عوامة 28890)
حدیث نمبر: 30183
٣٠١٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن الشيباني عن علي بن حنظلة عن أبيه قال: قال عمر: ليس الرجل بأمين على نفسه: إن أجعته أو (أخفته) (١) أو حبسته (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حنظلہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : آدمی اپنے نفس پر اعتماد نہیں کرے گا اگر تم اسے تکلیف دو گے یا اسے ڈراؤ گے یا اسے قید کردو گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30183
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30183، ترقيم محمد عوامة 28891)
حدیث نمبر: 30184
٣٠١٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: قال ابن شهاب في رجل اعترف بعد ما جلد قال: ليس عليه حد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت ابن شھاب سے ایسے آدمی کے بارے میں مروی ہے کہ جس نے کوڑے کھانے کے بعد اعتراف کر لاد ہو۔ آپ نے فرمایا : اس پر حد نہیں ہوگی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30184
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30184، ترقيم محمد عوامة 28892)
حدیث نمبر: 30185
٣٠١٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن مبارك عن الحسن قال: قال عمر: (روع) (١) السارق ولا (تراعه) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حسن بصری فرماتے ہیں کہ حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : تم چور کو ڈراؤ اور اس کے ساتھ نرمی مت کرو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30185
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30185، ترقيم محمد عوامة 28893)
حدیث نمبر: 30186
٣٠١٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا بن أبي ذئب عن الزهري عن طارق الشامي (١) أنه أتي برجل في سوقة فضربه، (فأقر) (٢) فبعث ⦗٣٨٢⦘ إلى ابن عمر (يسأله) (٣) عن ذلك فقال له ابن عمر: لا تقطعه فإنه إنما أقر بعد ضربك إياه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زھری فرماتے ہیں کہ طارق شامی کے پاس ایک آدمی لایا گیا جسے چوری کے معاملہ میں پکڑا گیا تھا پس آپ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس کسی کو بھیجا کہ ان سے اس بارے میں پوچھو ؟ اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ان سے فرمایا : تم اس کا ہاتھ مت کاٹو اس لئے کہ ہوسکتا ہے اس نے تمہاری مار کھانے کے بعد اس کا اقرار کرلیا ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30186
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30186، ترقيم محمد عوامة 28894)