کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اس آدمی کے بارے میں جو چوری کا اقرار کرے کتنی مرتبہ اس کی تردید کی جائے گی؟
حدیث نمبر: 30059
٣٠٠٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن الأعمش عن القاسم (بن عبد الرحمن عن أبيه قال: كنت قاعدًا عند علي (فجاء رجل) (١) فقال: يا أمير المؤمنين! إني قد سرقت، فانتهره، ثم عاد الثانية فقال: إني قد سرقت، فقال له علي: قد شهدت على نفسك شهادتين، قال: فأمر به فقطعت يده، فرأيتها معلقة -يعني في عنقه (٢) -.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا ! اے امیرالمومنین ! بیشک میں نے چوری کی ہے پس آپ نے اس کو خوب جھڑک دیا، وہ دوسری مرتبہ پھر لوٹا اور کہنے لگا بیشک میں نے چوری کی ہے اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا : تحقیق تو نے اپنے خلاف دو مرتبہ گواہی دے دی ہے۔ راوی کہتے ہیں : پس آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا میں نے اس کے ہاتھ کو لٹکے ہوئے دیکھا اس کی گردن میں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30059
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30059، ترقيم محمد عوامة 28774)
حدیث نمبر: 30060
٣٠٠٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن حسن بن صالح عن غالب أبي الهذيل قال: سمعت سبيعًا أبا سالم يقول: شهدت الحسن بن علي وأتي برجل أقر بسرقة، فقال له الحسن: فلعلك اختلسته لكي يقول: لا، حتى أقر عنده مرتين أو ثلاثًا فأمر به فقطع (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سبیع ابو سالم فرماتے ہیں کہ میں حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھا اس حال میں ایک آدمی کو پکڑ کر لایا گیا جس نے چوری کا اقرار کیا تھا اس پر حضرت حسن نے فرمایا شاید تو نے چھین لیا ہوتا کہ وہ کہہ دے نہیں۔ یہاں تک کہ اس شخص نے آپ کے پاس دو یا تین مرتبہ اقرار کرلیا پس آپ کے حکم سے اس کا ہاتھ کاٹ دیا گاا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30060
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30060، ترقيم محمد عوامة 28775)
حدیث نمبر: 30061
٣٠٠٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: قلت لعطاء: رجل شهد على نفسه مرة واحدة بأنه سرق قال: حسبه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے دریافت کیا کہ ایک آدمی نے اپنے خلاف ایک مرتبہ گواہی دی کہ تحقیق اس نے چوری کی ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس کے لیے کافی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30061
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30061، ترقيم محمد عوامة 28776)