کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس غلام کا بیان جو کوڑوں کا اقرار کرلے: کیا یہ کوڑے مارنا اس پر جائز ہوگا؟
حدیث نمبر: 30045
٣٠٠٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن أبي حرة عن الحسن قال: يجوز إقرار العبد فيما أقر به من حد يقام عليه، و (ما) (١) أقر به مما تذهب [(فيه) (٢) (رقبته) (٣) فلا يجوز] (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حرہ فرماتے ہیں کہ حسن بصری نے ارشاد فرمایا : غلام کا اقرار ان معاملات میں درست ہے جن میں اس پر حد قائم ہو۔ البتہ جن معاملات میں اس کی جان جائے ان میں اس کا اقرار درست نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 30046
٣٠٠٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عياش عن الأعمش عن أبي إسحاق أن عبدًا (أقر) (١) عند شريح بالسرقة فلم يقطعه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اعمش فرماتے ہیں کہ حضرت ابو اسحاق نے ارشادفرمایا : ایک غلام نے حضرت شریح کے سامنے چوری کا اقرار کیا تو آپ نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔
حدیث نمبر: 30047
٣٠٠٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان (عن) (١) جابر وعبد اللَّه بن (عيسى) (٢) عن الشعبي أنه قال: ليس على العبد يقر بالسرقة قطع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر اور حضرت عبداللہ بن عیسیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا : اس غلام پر جو چوری کا اقرار کرلے ہاتھ کاٹنے کی سزا جاری نہیں ہوگی۔
حدیث نمبر: 30048
٣٠٠٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الضحاك بن مخلد عن ابن جريج عن سليمان بن موسى قال: لا يجوز اعتراف العبد إلا ببينة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت سلیمان بن موسیٰ نے ارشاد فرمایا : غلام کا اعتراف کرنا جائز نہیں ہوگا مگر گواہوں کے ساتھ۔
حدیث نمبر: 30049
٣٠٠٤٩ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الضحاك بن مخلد عن ابن جريج عن عطاء قال: لا يجوز اعتراف العبد] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء نے ارشاد فرمایا : غلام کا اعتراف کرنا جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 30050
٣٠٠٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن أبي الضحى والشعبي قالا: لا يقام على (العبد) (١) حد باعتراف إلا ببينة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الضحی اور حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا : غلام کے اعتراف کی وجہ سے اس پر حد قائم نہیں کی جائے گی مگر جبکہ وہ بینہ کے ساتھ ہو۔
حدیث نمبر: 30051
٣٠٠٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معاذ عن أشعث عن الحسن أنه كان يقول: لا يجوز إقرار العبد على نفسه إذا بلغ النفس في خطأ ولا عمد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ حسن بصری فرمایا کرتے تھے : کسی ایسے ارادی اور غیر ارادی جرم میں غلام کا اقرار معتبر نہیں ہے جس میں اس کی جان جاتی ہو۔
حدیث نمبر: 30052
٣٠٠٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن أبي مالك الأشجعي قال: حدثني أهل (هرمز) (١) والحي عن هرمز أنه أتى عليًا فقال: إني أصبت حدًا، (فقال) (٢): تب إلى اللَّه واستتر، قال: يا أمير المؤمنين طهرني، قال: (قم) (٣) يا قنبر فاضربه الحد، (وليكن هو يعد) (٤) لنفسه، فإذا نهاك فانته، وكان مملوكًا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مالک اشجعی فرماتے ہیں کہ اہل ھرمز اور حی بیان کرتے ہیں کہ ھرمز حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا : بیشک میں نے حد کو پا لیا ہے آپ نے فرمایا : اللہ سے توبہ کرو اور اور اپنے گناہ کو چھپاؤ اس نے کہا اے امیرالمومنین ! آپ مجھے پاک کردیں۔ آپ نے فرمایا : اے قنبر ! کھڑے ہوجاؤ اور اس پر حد لگاؤ اور یہ خود ہی اپنی سزا شمار کرے گا پس جب یہ تمہیں روک دے تو رک جانا اور ھرمز ایک غلام تھا۔