کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: بھگوڑے غلام کا بیان جو چوری کرلے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا؟
حدیث نمبر: 30006
٣٠٠٠٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مبارك عن معمر عن الزهري قال: دخلت على عمر بن عبد العزيز فسألني عن العبد الآبق السارق يقطع؟ فقلت: ما بلغني فيه شيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زہری فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس داخل ہواتو آپ نے مجھ سے بھگوڑے چور غلام کے متعلق سوال کیا کہ اس کا ہاتھ کاٹاجائے گا ؟ میں نے عرض کی، مجھے اس بارے میں کوئی روایت نہیں پہنچی۔ پس جب میں مدینہ منورہ آیا تو میں حضرت سالم بن عبداللہ سے ملا پس، آپ نے مجھے خبردی کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے اپنے ایک غلام کا ہاتھ کاٹا تھا جو چور اور بھگوڑا تھا۔
حدیث نمبر: 30007
٣٠٠٠٧ - فلما قدمت المدينة لقيت سالم بن عبد اللَّه فأخبرني أن عبد اللَّه بن عمر قطع عبدا له سارقًا آبقًا (١).
حدیث نمبر: 30008
٣٠٠٠٨ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن حجاج عن نافع عن ابن عمر في العبد الآبق يسرق، قال: يقطع] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسے بھگوڑے غلام کے بارے میں مروی ہے جو چوری کرے آپ نے فرمایا : اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔
حدیث نمبر: 30009
٣٠٠٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عامر قال: يقطع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ حضرت عامر نے ارشاد فرمایا : اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 30010
٣٠٠١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل بن دكين عن حسن بن صالح عن إبراهيم بن عامر أن عمر بن عبد العزيز سأل عروة عنه؟ فقال: يقطع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراہیم بن عامر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے حضرت عروہ سے اس بارے میں سوال کیا ؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا : اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 30011
٣٠٠١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أسود بن عامر عن حماد بن سلمة عن يحيى بن سعيد أن عمر بن عبد العزيز والقاسم قالا: العبد الآبق إذا سرق قطع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز اور حضرت قاسم ان دونوں حضرات نے ارشادفرمایا : بھگوڑا غلام جب چوری کے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 30012
٣٠٠١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محبوب القواريري عن سفيان عن خالد الحذاء عن الحسن: سئل عن العبد الآبق يسرق، (تقطع) (١) يده؟ قال: نعم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت خالد حذائ فرماتے ہیں کہ حسن بصری سے ایسے بھگوڑے غلام کے متعلق سوال کیا گیا جس نے چوری کی تھی کہ کیا اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں۔