کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اس چور کے بیان میں جس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ہو کیا چوری شدہ چیز بھی واپس لی جائے گی؟
حدیث نمبر: 29996
٢٩٩٩٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن الشيباني عن الشعبي (في) (١): الرجل يسرق فتقطع يده، ليس عليه شيء إلا أن (يوجد) (٢) معه شيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شیبانی فرماتے ہیں ک حضرت شعبی سے ایسے شخص کے بارے میں مروی ہے جس نے چوری کی پس اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ آپ نے فرمایا : اس چور پر کوئی چیز لازم نہیں ہوگی مگر وہ چیز جو اس کے پاس پائی جائے اور حضرت حماد نے فرمایا : وہ چیز واپس کی جائے گی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 29996
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29996، ترقيم محمد عوامة 28717)
حدیث نمبر: 29997
٢٩٩٩٧ - [وقال حماد: يتبع بها.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 29997
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29997، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 29998
٢٩٩٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن الشيباني عن الشعبي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی اور حضرت ابن سیرین ان دونوں حضرات نے ارشاد فرمایا : جب چور کا ہاتھ کاٹ دیا گیا تو اس پر کوئی چیز لازم نہیں ہوگی مگر وہ چیز جو بعینہ اس کے پاس پائی جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 29998
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29998، ترقيم محمد عوامة 28718)
حدیث نمبر: 29999
٢٩٩٩٩ - وأشعث عن ابن سيرين قالا: ليس عليه شيء إذا قطعت يده إلا أن يوجد شيء] (١) بعينه.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 29999
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29999، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 30000
٣٠٠٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن الشيباني عن الشعبي (أنه) (١) قال في السارق: إن وجدت السرقة عنده (بعينها) (٢) أخذت منه وقطعت يده، وإن كان قد استهلكها قطعت يده ولا ضمان عليه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شیبانی فرماتے ہیں کہ بیشک امام شعبی نے چور کے بارے میں ارشاد فرمایا : اگر چوری شدہ چیز بعینہ اس کے پاس پائی گئی تو وہ اس سے لے لی جائے گی اور اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا اور اگر اس نے وہ چیز خرچ کردی تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا اور اس پر کسی قسم کا ضمان نہیں ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30000
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30000، ترقيم محمد عوامة 28719)
حدیث نمبر: 30001
٣٠٠٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم.
مولانا محمد اویس سرور
مذکورہ ارشاد بعینہ ابراہیم اور حضرت ابن سیرین سے بھی منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30001
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30001، ترقيم محمد عوامة 28720)
حدیث نمبر: 30002
٣٠٠٠٢ - وأشعث عن ابن سيرين مثله.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30002
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30002، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 30003
٣٠٠٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الضحاك بن مخلد عن ابن جريج عن عطاء قال: لا يغرم السارق بعد قطع يمينه إلا أن توجد السرقة بعينها فتؤخذ منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء نے ارشاد فرمایا : چور کو اس کا دایاں ہاتھ کاٹنے کے بعد ضامن نہیں بنایا جائے گا مگر اس چوری شدہ مال کا جو بعینہٖ اس کے پاس موجود تھا اس سے لے لیا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30003
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30003، ترقيم محمد عوامة 28721)
حدیث نمبر: 30004
٣٠٠٠٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (سهل) (١) بن يوسف عن عمرو عن الحسن أنه كان يضمن السارق بعد ما يقطع.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو فرماتے ہیں کہ حسن بصری چور کو اس کا ہاتھ کاٹ دئیے جانے کے بعد کسی چیز کا ضامن نہیں بناتے تھے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30004
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30004، ترقيم محمد عوامة 28722)
حدیث نمبر: 30005
٣٠٠٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد وليس بالأحمر عن قريش بن حيان العجلي عن مطر الوراق قال: سئل سعيد بن جبير عن الرجل يسرق السرقة فتقطع يده، أيغرم السرقة، قال: كفى بالقطع غرما.
مولانا محمد اویس سرور
حضر ت مطر ورآق فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر سے ایسے آدمی کے متعلق سوال کیا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا تو کیا اس کو چوری شدہ مال کی ادائیگی کا ذمہ دار بھی بنایا جائے گا ؟ آپ نے فرمایا : اس کا ہاتھ کاٹنا ضمان کے طور پر کافی ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 30005
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 30005، ترقيم محمد عوامة 28723)