کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: جن حضرات کے نزدیک دس دراھم سے کم کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
حدیث نمبر: 29964
٢٩٩٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن محمد بن إسحاق قال: حدثني أيوب بن موسى عن عطاء عن ابن عباس: لا يقطع السارق في دون ثمن المجن، وثمن المجن عشرة (دراهم) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : ڈھال کی قیمت سے کم میں چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، اور ڈھال کی قیمت دس دراھم ہیں۔
حدیث نمبر: 29965
٢٩٩٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى وعبد الرحيم بن سليمان عن محمد بن إسحاق عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال: كان يقول: ثمن المجن عشرة دراهم (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمرو فرمایا کرتے تھے کہ ڈھال کی قیمت دس دراھم ہیں۔
حدیث نمبر: 29966
٢٩٩٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مبارك ووكيع عن المسعودي عن القاسم عن ابن مسعود أنه قال: لا يقطع إلا في دينار أو عشرة (دراهم) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود نے ارشاد فرمایا : ہاتھ نہیں کاٹا جائے مگر ایک دینار یا دس دراھم کی قیمت میں۔
حدیث نمبر: 29967
٢٩٩٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (حمزة) (١) الريات عن الحكم عن أبي جعفر قال: قيمة المجن دينار، الذي (تقطع) (٢) فيه اليد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضرت ابو جعفر نے ارشاد فرمایا : ڈھال کی قیمت ایک دینار ہے جس میں ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 29968
٢٩٩٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (عبد الرحيم) (١) بن سليمان عن عبد الملك ابن أبي سليمان عن عطاء قال: أدنى ما (يقطع) (٢) فيه السارق ثمن المجن، وكان يقوم (المجن) (٣) في زمانهم دينارا أو عشرة (دراهم) (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالملک بن ابو سلیمان فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء نے ارشاد فرمایا : سب سے کم درجہ کسی چیز میں جس میں چور کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے وہ ڈھال کی قیمت ہے اور ڈھال کی قیمت صحابہ کے زمانے میں ایک دینار یا دس دراھم لگائی جاتی تھی۔
حدیث نمبر: 29969
٢٩٩٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن حماد عن إبراهيم قال: قال عبد اللَّه: لا تقطع اليد إلا في ترس أو حجفة (١).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضر ت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا : ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا مگر ڈھال یا چمڑے کی ڈھال میں راوی کہتے ہیں ! میں نے ابراہیم سے دریافت کیا : اس کی قیمت کتنی ہوتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : ایک دینار۔
حدیث نمبر: 29970
٢٩٩٧٠ - قال: قلت لإبراهيم: كم قيمته؟ قال: دينار.
حدیث نمبر: 29971
٢٩٩٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن هشام بن عروة عن أبيه قال: كان السارق على عهد النبي ﷺ يقطع في ثمن المجن، وكان المجن يومئذ له ثمن، ولم يكن يقطع في الشيء التافه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عروہ نے ارشاد فرمایا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں چور کا ہاتھ ڈھال کی قیمت کے برابر چیز کی چوری میں کاٹا جاتا تھا اور ڈھال کی اس وقت ایک قیمت ہوتی تھی۔ اور اس وقت حقیر اور گھٹیا چیز کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جاتا تھا۔
حدیث نمبر: 29972
٢٩٩٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج عن ابن طاوس عن أبيه قال: يقطع في ثمن المجن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن طاؤس فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت طاؤس نے ارشاد فرمایا : ڈھال کی قیمت میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔
حدیث نمبر: 29973
٢٩٩٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (شريك) (١) عن عطية بن (مقسم) (٢) عن القاسم قال: أتي عمر بسارق فأمر بقطعه، فقال عثمان: إن سرقته لا (تسوى) (٣) عشرة (دراهم) (٤) (قال) (٥): فأمر (به) (٦) عمر فقومت ثمانية (دراهم) (٧) فلم يقطعه (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم فرماتے ہیں کہ حضرت عمر کے پاس ایک چور لایا گیا آپ نے اس کے ہاتھ کو کاٹنے کا حکم جاری فرمایا : اس پر حضرت عثمان کہنے لگے ! بیشک اس کی چوری کردہ چیز کی قیمت دس دراھم کے برابر نہیں، سو حضرت عمر نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اس کی قیمت آٹھ دراھم لگائی گئی پس آپ نے اس کا ہاتھ نہیں کاٹا۔
حدیث نمبر: 29974
٢٩٩٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الثقفي عن المثنى عن عمرو بن شعيب قال: دخلت على سعيد بن المسيب فقلت له: أن أصحابك عروة بن الزبير ومحمد بن مسلم الزهري وابن يسار يقولون: ثمن المجن خمسة (دراهم) (١) فقال: أما هذا فقد مضت فيه سنة رسول اللَّه ﷺ: عشرة (دراهم) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن شعیب فرماتے ہیں کہ میں حضرت سعید بن مسیب کے پاس داخل ہوا اور میں نے ان سے عرض کی ! یقینا آپ کے اصحاب عروہ بن زبیر، محمد بن مسلم زھری اور ابن یسار یہ سب فرماتے ہیں : ڈھال کی قیمت پانچ دراھم ہیں۔ اس پر آپ نے فرمایا : بہر حال اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت گزر چکی ہے وہ دس دراھم ہے۔
حدیث نمبر: 29975
٢٩٩٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم بن سليمان عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت: لم يكن يقطع على (عهد) (١) (رسول اللَّه) (٢) ﷺ في الشيء التافه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں میں حقیر اور گھٹیا چیز کی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جاتا تھا۔