کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: چور کی پردہ پوشی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 29940
٢٩٩٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن (حرب) (١) بن شداد عن يحيى بن أبي كثير عن محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان عن (زييد) (٢) بن الصلت قال: سمعت أبا بكر الصديق يقول: لو أخذت (شاربا) (٣) لأحببت أن يستره اللَّه، ولو أخذت سارقًا لأحببت أن يستره اللَّه (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیید بن الصلت فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوبکر کو یوں فرماتے ہوئے سنا : اگر میں کسی شرابی کو پکڑ لوں تو یہ میرے نزدیک پسندیدہ ہے کہ اللہ رب العزت اس کی پردہ پوشی کریں گے اور اگر میں کسی چور کو پکڑ لوں تو میرے نزدیک پسندیدہ ہے کہ اللہ رب العزت اس کی پردہ پوشی کریں گے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 29940
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ زييد بن الصلت صدوق، أخرجه ابن سعد ٥/ ١٣، والخرائطي كما في المنتقى (٢٢٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29940، ترقيم محمد عوامة 28664)
حدیث نمبر: 29941
٢٩٩٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا شريك عن سعيد بن مسروق عن عكرمة قال: (سرقت) (١) عيبة لعمار بالمزدلفة فوضع في أثرها (جفنة) (٢) ودعا القافة فقالوا: حبشي، (واتبعوا) (٣) أثره حتى انتهى إلى (حائط) (٤) وهو يقلبها، فأخذها وتركه، فقيل له فقال: استر عليه، لعل اللَّه أن يستر علي (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمار کی مزدلفہ میں زنبیل چوری ہوگئی تو آپ نے اس کے پیچھے ایک بڑا پیالہ رکھ دیا اور قیافہ شناس کو بلایا : پس وہ لوگ کہنے لگے : کہ کوئی حبشی ہے انہوں نے اس کے نشان کا پیچھا کیا : یہاں تک کہ وہ ایک باغ تک پہنچے اور وہ حبشی اسے الٹ پلٹ کر رہا تھا آپ نے اپنی زنبیل لے لی اور اس حبشی کو چھوڑ دیا تو آپ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : میں نے اس کی پردہ پوشی کی شاید اللہ مجھ پر بھی پردہ پوشی فرما دے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 29941
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29941، ترقيم محمد عوامة 28665)
حدیث نمبر: 29942
٢٩٩٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن عاصم عن عكرمة (أن) (١) ابن عباس و (عمارًا) (٢) والزبير أخذوا سارقًا فخلوا سبيله، فقلت لابن عباس: بئسما صنعتم حين خليتم سبيله، فقال: (لا) (٣) أم لك، أما لو كنت أنت لسرك أن يخلى سبيلك (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضر ت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما حضرت عمار اور حضرت زبیر نے ایک چور کو پکڑا پھر انہوں نے اس کو جانے دیا۔ میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا : آپ سب نے برا کیا جب آپ نے اس کا راستہ خالی چھوڑا ! اس پر آپ نے فرمایا ! تیری ماں مرے، اگر اس کی جگہ تو ہوتا تو ضرور خواہش کرتا کہ تیرا راستہ خالی چھوڑ دیا جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحدود / حدیث: 29942
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29942، ترقيم محمد عوامة 28666)