کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: ان روایات کا بیان جو چور کی سفارش کرنے کے بارے میں منقول ہیں
حدیث نمبر: 29931
٢٩٩٣١ - [حدثنا أبو محمد عبد اللَّه بن يونس قال: حدثني بقي بن مخلد قال: حدثنا عبد اللَّه بن محمد بن أبي شيبة قال] (١): حدثنا حفص بن غياث عن جعفر عن أبيه أن النبي ﷺ قال لأسامة: "يا أسامة! لا تشفع في حد" وكان إذا شفع شفعه (٢).
حدیث نمبر: 29932
٢٩٩٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن واصل عن أبي وائل عن كعب قال: لا تشفع في حد (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو وائل فرماتے ہیں کہ حضرت کعب نے ارشاد فرمایا : حد کے بارے میں ہرگز سفارش نہیں کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 29933
٢٩٩٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن هشام بن عروة عن عبد اللَّه بن عروة عن الفرافصة الحنفي قال: مروا على (الزبير بسارق فتشفع) (١) له (قالوا) (٢): (أتشفع) (٣) (لسارق)؟ (٤) فقال: نعم، ما لم يؤت به إلى الإمام، فإذا أتي به إلى ⦗٣٣٢⦘ الإمام فلا عفى اللَّه عنه (إن عفى عنه) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فرافصہ حنفی فرماتے ہیں کہ لوگ ایک چور کو لے کر حضرت زبیر کے پاس سے گزرے تو آپ نے اس کی سفارش فرمائی اس پر لوگ کہنے لگے : کیا آپ ایک چور کی سفارش کررہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں ! جب تک اسے امام کے پاس نہ لے جایا گیا ہو جب اسے امام کے پاس لے گئے تو اللہ بھی اسے معاف نہیں کرے گا اگر امام نے اسے معاف کردیا۔
حدیث نمبر: 29934
٢٩٩٣٤ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن عن هشام عن عبد اللَّه بن عروة عن الفرافصة عن الزبير مثله] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فرافصہ سے حضرت زبیر کا مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔
حدیث نمبر: 29935
٢٩٩٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حميد بن عبد الرحمن الرواسي عن هشام عن أبي (حازم) (١) أن عليًا شفع لسارق (فقيل) (٢) له: تشفع لسارق؟ (فقال) (٣): نعم، إن ذلك يفعل ما لم يبلغ (به) (٤) الإمام، [فإذا بلغ (به) (٥) الإمام] (٦) فلا أعفاه اللَّه [(إن) (٧) عفاه] (٨) (٩).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حازم فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ایک چور کی سفارش کی تو آپ سے پوچھا گیا : کیا آپ چور کی سفارش کر رہے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں ! بیشک ایسا کیا جاسکتا ہے جب کہ اسے امام تک نہ پہنچا دیا گیا ہو اور جب امام کے پاس پہنچ جائے تو اللہ بھی اسے معاف نہیں کریں گے اگر اس نے اسے معاف کردیا ۔
حدیث نمبر: 29936
٢٩٩٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سعيد (بن) (١) عبيد عن سليمان ⦗٣٣٣⦘ ابن أبي (كبشة) (٢) أن سارقا مر به على سعيد بن جبير وعطاء فشفعا له فقيل لهما: وتريان ذلك؟ فقالا: نعم، ما لم يؤت به (إلى) (٣) الإمام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن ابی کبشہ فرماتے ہیں کہ ایک چور کو حضرت سعید بن جبیر اور حضرت عطاء کے پاس سے گزارا گیا تو ان دونوں نے اس کی سفارش کی ان دونوں حضرات سے پوچھا گیا : آپ دونوں کی یہ رائے ہے ؟ ان دونوں نے فرمایا : جی ہاں ! جب تک اس کو امام کے پاس نہ لے جایا گیا ہو۔
حدیث نمبر: 29937
٢٩٩٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة عن يحيى بن سعيد عن عبد الوهاب عن ابن عمر قال: من حالت شفاعته دون حد من حدود اللَّه فقد (ضاد) (١) اللَّه في خلقه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالوہاب فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : جس شخص نے اپنی سفارش کو اللہ کی سزاؤں میں سے سزا کے لیے حائل کیا تو تحقیق اس نے اللہ کی اس کے حکم میں مخالفت کی۔
حدیث نمبر: 29938
٢٩٩٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن عروة عن عائشة أن النبي ﷺ كلم في شيء فقال: "لو كانت فاطمة ابنة محمد لأقمت عليها الحد" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی چیز کے بارے میں بات کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر وہ فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ہوتی تو میں ضرور اس پر سزا جاری کرتا۔
حدیث نمبر: 29939
٢٩٩٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير قال: حدثنا محمد بن إسحاق عن محمد بن طلحة عن أمه عائشة بنت مسعود بن الأسود عن أبيها مسعود قال: لما سرقت المرأة تلك القطيفة من بيت رسول اللَّه ﷺ أعظمنا ذلك وكانت المرأة (من) (١) قريش، ⦗٣٣٤⦘ فجئنا إلى النبي ﷺ نكلمه وقلنا: نحن نفديها بأربعين أوقية، قال [رسول اللَّه ﷺ (٢): "تطهر خير لها"، فلما سمعنا لين قول رسول اللَّه ﷺ أتينا أسامة فقلنا: كلم رسول اللَّه ﷺ، فلما رأى رسول اللَّه ﷺ ذلك قام خطيبا فقال: "ما إكثاركم علي في حد من حدود اللَّه وقع على أمة من إماء اللَّه، والذي نفسي بيده لو كانت فاطمة بنت رسول اللَّه ﷺ نزلت بالذي [نزلت (به) (٣)] (٤) لقطع محمد يدها" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسعود فرماتے ہیں کہ جب اس عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر سے چادر چوری کی تو ہم نے اس بات کو بہت بڑا سمجھا، اور اس عورت کا تعلق قریش سے تھا پس ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بات چیت کرنے کے لیے آئے اور ہم نے عرض کی : ہم اس عورت کا چالیس اوقیہ چاندی فدیہ دیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : وہ پاک ہوجائے یہ اس کے لیے بہت رہے۔ جب ہم لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نرم بات سنی تو ہم حضرت اسامہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آئے اور ہم نے کہا : آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس بارے میں بات کریں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ معاملہ دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے کھڑے ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم اللہ کی سزاؤں میں سے ایک سزا کے بارے میں مجھ پر کیوں اپنی تعداد کو بڑھا رہے ہو جو اللہ کی بندیوں میں سے ایک بندی پر ثابت ہوچکی ہے ؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے اگر فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اس مقام پر اترتی جس مقام پر آج یہ عورت اتری ہے تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ضرور اس کا ہاتھ کاٹ دیتے۔