حدیث نمبر: 29914
٢٩٩١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن المجالد قال: حدثني عريف لجهينة أن النبي ﷺ أوتي بأسير في الشتاء، فقال لأناس من جهينة: "اذهبوا به (فأدفوه) (١) " قال: (فكان) (٢) (الدفو) (٣) بلسانهم عندهم: القتل فذهبوا به فقتلوه، فسألهم النبي ﷺ بعد، فقالوا: يا رسول اللَّه! ألم تأمرنا أن نقتله؟ (فقال) (٤): "وكيف قلت لكم؟ " (قالوا) (٥): قلت (لنا) (٦) اذهبوا به فأدفوه، قال: فقال: "قد شركتكم إذًا (اعقلوه) (٧) وأنا شريككم" (٨).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ قبیلہ جھینہ میں ایک نگران نے مجھے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سردیوں میں ایک قیدی لایا گیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبیلہ جھینہ کے چند لوگوں سے فرمایا : تم اسے لے جاؤ اور اسے گرم لباس پہناؤ۔ راوی فرماتے ہیں کہ دف کا لفظ ان کی زبان میں قتل کے معنی میں استعمال ہوتا تھا۔ پس وہ اس شخص کو لے گئے اور انہوں نے اسے قتل کردیا سو بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا ؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں اسے قتل کرنے کا حکم نہیں دیا تھا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میں نے تمہیں کیسے کہا تھا ؟ تم اسے لے جاؤ اور اسے قتل کردو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تحقیق تب میں تمہارے ساتھ شریک ہوگیا۔ تم اس کی دیت ادا کرو اور میں تمہارا شریک ہوں۔ راوی کہتے ہیں : پس میں نے یہ حدیث حضرت عامر کو بیان کی آپ نے فرمایا : اس سچ کہا : اور آپ نے حدیث کو پہچان لیا۔
حدیث نمبر: 29915
٢٩٩١٥ - قال: فحدثت هذا الحديث عامرًا، قال: صدق، وعرف الحديث (١).