کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جس کو زخم لگا دیا گیا ہو یا قتل کردیا ہو
حدیث نمبر: 29844
٢٩٨٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد الأحمر عن محمد بن إسحاق عن الحارث بن فضيل عن ابن أبي العوجاء عن أبي شريح الخزاعي قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من أصيب بدم أو (خبل) (١) -و (الخبل) (٢) الجرح- فهو بالخيار بين إحدى ثلاث: فإن أراد الرابعة فخذوا على يديه: أن يقتل أو يعفو (أو) (٣) يأخذ الدية، فمن فعل شيئا من ذلك فعاد فله نار جهنم خالدًا مخلدًا فيها أبدا" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو شریح خزاعی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس شخص کو قتل کردیا گیا یا اس کو زخمی کیا گیا تو اس کو تین باتوں میں سے ایک میں اختیار ہے پس اگر وہ چوتھی بات کا ارادہ کرے تو تم اس کے ہاتھ پکڑ لو وہ کام یہ ہیں : قتل کردے یا وہ معاف کر دے یا وہ دیت لے لے پس جس نے اس میں سے کوئی کام کیا اور پھر دوبارہ لوٹا تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا۔
حدیث نمبر: 29845
٢٩٨٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن عوف عن حمزة (أبي) (١) عمر عن علقمة بن وائل عن أبيه قال: شهدت رسول اللَّه ﷺ حين (أتي) (٢) بالقاتل يجر في نسعته، فقال رسول اللَّه ﷺ: لولي المقتول: "أتعفو عنه؟ "، قال: لا، قال: "أفتأخذ الدية؟ "، قال: لا، قال: "فتقتله؟ "، قال: نعم، فأعاد عليه ثلاثًا فقال له رسول اللَّه ﷺ: "إن عفوت عنه فإنه يبوء بإثمه"، قال: فعفى، فرأيته يجر نسعته قد عفى عنه (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وائل فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر تھا قاتل کو لایا گیا اسے اس کے تسموں میں گھسیٹا جا رہا تھا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقتول کے سرپرست سے فرمایا : کیا تم اسے معاف کروگے ؟ اس نے کہا نہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم دیت لو گے ؟ اس نے کہا نہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم اس کو قتل کرو گے ؟ اس نے کہا جی ہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر اس بات کو تین بار دہرایا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا : اگر تم اس کو معاف کردو گے تو یہ اپنے گناہ کا بوجھ اٹھا کر پھرے گا راوی کہتے ہیں : پس اس شخص نے معاف کردیا اور میں نے اس قاتل کو دیکھا کہ وہ اپنے تسمہ کا ٹکڑا گھسیٹ رہا تھا، تحقیق اسے معاف کردیا گیا تھا۔
حدیث نمبر: 29846
٢٩٨٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن أبي صالح عن أبي هريرة قال: قتل رجل على عهد رسول اللَّه ﷺ فرفع ذلك إلى النبي ﷺ فدفعه إلى ولي المقتول، فقال القاتل: يا رسول اللَّه (١) ما أردت قتله، قال: فقال النبي ﷺ للولي: "أما (٢) إن كان صادقا ثم (قتلته) (٣) دخلت النار"، قال: فخلى سبيله، قال: وكان مكتوفًا بنسعة، قال: فخرج يجر نسعته، قال: فسمي ذا النسعة (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں قتل کردیا سو یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے مقتول کے سرپرست کے حوالہ کردیا قاتل نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! میں نے اس کے قتل کا ارادہ نہیں کیا تھا اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سرپرست سے فرمایا : اگر یہ سچا ہوا پھر تم نے اس کو قتل کردیا تو تم جہنم میں داخل ہوگے۔ راوی کہتے ہیں : اس نے اس کا راستہ خالی کردیا یعنی معاف کردیا اور اس قاتل کی تسمہ سے مشکیں بندھی ہوئی تھیں پس وہ نکلا اس حال میں کہ و ہ اپنے تسمہ کو گھسیٹ رہا تھا اس کا نام ہی تسمہ والا پڑگیا۔