کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اللہ رب العزت کے ارشاد کی تفسیر کا بیان ’’پس جو شخص معاف کردے تو وہ کفارہ ہے اس کے گناہوں کا‘‘
حدیث نمبر: 29833
٢٩٨٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن قيس بن مسلم عن طارق بن شهاب عن الهيثم بن الأسود عن عبد اللَّه ابن عمرو ﴿فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ﴾ [المائدة: ٤٥]، قال: هدم (عنه) (١) من ذنوبه مثل ذلك (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہیثم بن اسود فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمرو نے اللہ رب العزت کے قول : { فَمَنْ تَصَدَّقَ بِہِ فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَہُ } کی تفسیر یوں بیان فرمائی : اس شخص سے اس جیسا گناہ ختم کردیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 29834
٢٩٨٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (هشيم) (١) عن مغيرة عن إبراهيم ﴿فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ﴾ قال: للمجروح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت کے قول { فَمَنْ تَصَدَّقَ بِہِ فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَہُ } ترجمہ :۔ جو شخص معاف کردے تو وہ کفارہ ہے اس کے گناہوں کا اس کے بارے میں ابراہیم نے فرمایا : زخمی کے لیے حکم ہے اور حضرت مجاہد نے فرمایا : زخم پہنچانے والے کے لیے حکم ہے۔
حدیث نمبر: 29835
٢٩٨٣٥ - وقال مجاهد: للجارح.
حدیث نمبر: 29836
٢٩٨٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن منصور عن إبراهيم ومجاهد (قالا) (١): كفارة للجارح، وأجر الذي أصيب على اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور فرماتے ہیں کہ ابراہیم اور حضرت مجاہد نے ارشاد فرمایا : گناہوں کا کفارہ ہوگا زخم پہنچانے والے کے لیے اور جس کو تکلیف پہنچی تھی اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 29837
٢٩٨٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن سفيان بن حسين عن الحسن ﴿فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ﴾، قال: للمجروح.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان بن حسین فرماتے ہیں کہ حضرت حسن بصری نے اللہ رب العزت کے قول { فَمَنْ تَصَدَّقَ بِہِ فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَہُ } کے بارے میں ارشاد فرمایا : یہ زخمی کے لیے حکم ہے۔
حدیث نمبر: 29838
٢٩٨٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن زيد بن أسلم، قال: سمعته يقول: إن عفا عنه، أو اقتص منه، أو (قبل) (١) منه الدية فهو كفارة (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت زید بن اسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا : اگر وہ اس کو معاف کردے یا اس سے قصاص لے لیے یا اس سے دیت قبول کرلے تو یہ گناہوں کا کفارہ ہے۔
حدیث نمبر: 29839
٢٩٨٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم ومجاهد قال: كفارة (للذي) (١) تصدق عليه، وأجر الذي أصيب على اللَّه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور فرماتے ہیں کہ ابراہیم اور حضرت مجاہد ان دونوں حضرات نے ارشاد فرمایا : گناہوں کا کفارہ اس شخص کے لیے ہوگا جس کو معاف کردیا گیا ہے اور جس کو تکلیف پہنچی تھی اس کا ثواب اللہ کے ذمہ ہے۔
حدیث نمبر: 29840
٢٩٨٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل بن دكين ويحيى بن آدم عن سفيان عن عطاء بن السائب عن سعيد بن جبير عن ابن عباس ﴿فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ﴾ قال: للجارح (وأجر المتصدق على اللَّه) (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت { فَمَنْ تَصَدَّقَ بِہِ فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَہُ } کی تفسیر یوں بیان فرمائی یہ حکم زخم پہنچانے والے کے لیے ہے اور معاف کرنے والے کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔
حدیث نمبر: 29841
٢٩٨٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة عن عمارة عن أبي عقبة عن جابر بن زيد ﴿فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَهُ﴾، قال: (للجارح) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عقبہ فرماتے ہیں کہ حضرت جابر بن زید نے آیت { فَمَنْ تَصَدَّقَ بِہِ فَہُوَ کَفَّارَۃٌ لَہُ } کی تفسیر یوں بیان فرمائی گناہوں کے کفارے کا حکم زخم پہنچانے والے کے لیے ہے۔
حدیث نمبر: 29842
٢٩٨٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن أبي إدريس عن عبادة بن الصامت عن النبي ﷺ أنه قال: (تبايعوني) (١) على أن لا تشركوا باللَّه شيئًا، ولا تزنوا، ولا تسرقوا، فمن أصاب من ذلك شيئًا فعوقب به، فهو كفارته) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبادہ بن صامت فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میرے سے بیعت کروتم اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراؤ گے تم زنا نہیں کرو گے، چور ی نہیں کرو گے، پس جس شخص نے اس میں سے کوئی کام کیا سو اسے اس کی سزا دی جائے گی اور وہی اس کے گناہوں کا کفارہ ہوگی۔
حدیث نمبر: 29843
٢٩٨٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن زكريا عن الشعبي قال: للذي تصدق به.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زکریا فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا : یہ حکم اس کے لیے ہے جو معاف کردے۔