حدیث نمبر: 29828
٢٩٨٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد السلام بن حرب عن الحارث بن (حصيرة) (١) عن زيد بن وهب أن عليًا لما رجم المرأة قال لأوليائها: هذا ابنكم ترثونه (ويرثكم) (٢)، وإن جنى (جناية) فعليكم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زید بن وھب فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب عورت کو سنگسار کرتے تو اس کے سرپرستوں سے فرماتے : یہ تمہارا بیٹا ہے تم اس کے وارث بنو گے اور یہ تمہارا وارث بنے گا اور اگر اس نے کوئی قابل سزا غلطی کی تو اس کا ضمان تم پر لازم ہوگا۔
حدیث نمبر: 29829
٢٩٨٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا لاعن الرجل امرأته فرق بينهما ولا يجتمعان أبدًا، وألحق الولد بعصبة أمه (يرثونه) (١) ويعقلون عنه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : جب آدمی نے اپنی بیوی سے لعان کیا تو ان دونوں کے درمیان تفریق کردی جائے گی اور وہ دونوں کبھی اکٹھے نہیں ہوسکیں گے اور اس بچہ کو اس کی ماں کے عصبہ رشتہ داروں سے ملادیاجائے گا وہ ہی اس بچہ کے وارث ہوں گے اور اس کی طرف سے دیت ادا کریں گے۔
حدیث نمبر: 29830
٢٩٨٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن عمر عن حماد عن إبراهيم قال: ميراثه كله لأمه ويعقل (عنه) (١) عصبتها، كذلك ولد الزنى، وولد النصراني وأمه مسلمة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حماد فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : بچہ کی ساری کی ساری وراثت اس کی ماں کے لیے ہوگی اور اس کی طرف سے دیت اس کی ماں کے عصبی رشتہ دار ادا کریں گے یہ ہی حکم ولد زنا کا ہوگا اور عیسائی کے بچہ کا جبکہ اس کی ماں مسلمان ہو۔