کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اس سواری کے جانور اور بکری کا بیان جو کھیتی کو تباہ کردے
حدیث نمبر: 29820
٢٩٨٢٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا غندر عن شعبة قال: سألت الحكم وحمادًا عن غنم سقطت في زرع قوم (١) قال حماد: لا يضمن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے ایسی بھیڑ بکریوں کے متعلق دریافت کیا جو کسی قوم کی کھیتی برباد کردیں ؟ حضرت حماد نے فرمایا : ان کے مالک کو ضامن نہیں بنایا جائے گا اور حضرت حکم نے فرمایا : اس کو ضامن بنایا جائے گا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29820
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29820، ترقيم محمد عوامة 28553)
حدیث نمبر: 29821
٢٩٨٢١ - وقال الحكم: يضمن.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29821
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29821، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 29822
٢٩٨٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن طارق عن الشعبي أن شاة دخلت على نساج فأفسدت غزله، فلم يضمن الشعبي صاحب الشاة بالنهار.
مولانا محمد اویس سرور
) حضرت طارق فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی سے مروی ہے کہ ایک بکری کپڑا بننے والے پر داخل ہوگئی اور اس کے کا تے ہوئے کو خراب کردیا تو امام شعبی نے دن کی وجہ سے بکری کے مالک کو ضامن نہیں بنایا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29822
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29822، ترقيم محمد عوامة 28554)
حدیث نمبر: 29823
٢٩٨٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن سعيد (و) (١) (حرام) (٢) بن سعد أن ناقة للبراء بن عازب دخلت حائط قوم فأفسدت عليهم، فقضى رسول اللَّه ﷺ أن حفظ الأموال على أهلها بالنهار، وأن على أهل ⦗٣٠٠⦘ الماشية (ما أصابت) (٣) الماشية بالليل (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعید اور حضرت حرام سے مروی ہے کہ حضرت براء بن عازب کی ایک اونٹنی کسی قوم کے باغ میں داخل ہوگئی اور ان کے باغ کو تباہ و برباد کردیا۔ اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یوں فیصلہ فرمایا : مالک پر اپنے مال کی دن میں حفاظت کرنا ضروری ہے اور مویشیوں والے پر ضمان ہوگا جب اس کے مویشی رات میں کوئی نقصان پہنچائیں۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29823
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ حرام بن سعيد وسعيد تابعيان، أخرجه أحمد (٢٣٦٩١)، ومالك ٢/ ٧٤٧، والشافعي في المسند ٢/ ١٠٧، وابن ماجه (٢٣٣٢)، وابن الجارود (٧٩٦)، والطحاوي ٣/ ٢٠٣، والدارقطني ٣/ ١٥٦، والبيهقي ٨/ ٢٧٩، وابن المبارك في مسنده (١٣٩)، وابن عبد البر في التمهيد ١١/ ٨٩، وأخرجه بإسناد آخر: أبو داود (٣٥٧٠)، وابن حبان (٦٠٠٨)، والحاكم ٢/ ٤٧، وعبد الرزاق (١٨٤٣٧)، والنسائي في الكبرى (٥٧٨٥)، وابن أبي عاصم في الديات (٢٠٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29823، ترقيم محمد عوامة 28555)
حدیث نمبر: 29824
٢٩٨٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن أيوب عن محمد (١) وإسماعيل بن أبي خالد عن الشعبي أن شاة أكلت عجينًا -وقال الآخر: غزلًا- نهارًا، فأبطله شريح وقرأ [﴿إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ﴾ [الأنبياء: ٧٨]، (فقال) (٢) في حديث إسماعيل: إنما كان النفش في الليل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن ابو خالد فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی سے مروی ہے کہ ایک بکری دن کو کسی کا آٹا کھاگئی اور دوسرے راوی نے یوں فرمایا : کسی کا کاتا ہوا کپڑا کھاگئی۔ تو حضرت شریح نے اس کو باطل قرار دیا اور یہ آیت تلاوت فرمائی۔ ترجمہ :۔ جب جا گھسیں بکریاں اس میں لوگوں کی اور حضرت اسماعیل کی حدیث میں یوں فرمایا : بیشک بکریوں کا گھسنا رات میں ہوگا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29824
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29824، ترقيم محمد عوامة 28556)
حدیث نمبر: 29825
٢٩٨٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا ابن أبي خالد عن عامر قال: جاء رجل إلى شريح] (١) فقال: إن شاة هذا قطعت غزلي، فقال: ليلًا أو نهارا؟ فإن كان نهارًا فقد برئ، وإن كان ليلًا فقد ضمن، وقرأ: ﴿إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ﴾ وقال: إنما كان النفش بالليل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عامر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت شریح کے پاس آیا اور کہنے لگا اس آدمی کی بکری نے میرا کاتا ہوا کپڑا کاٹ دیا آپ نے اس سے پوچھا : دن میں یا رات میں ؟ اگر دن ہواتو شخص بری ہوگا اور اگر رات تھی تو تحقیق وہ شخص ضامن ہوگا اور آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ترجمہ :۔ جب جا گھسیں بکریاں اس میں لوگوں کی اور فرمایا : بیشک بکریوں کا گھسنا رات میں ہو تو ضمان ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29825
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29825، ترقيم محمد عوامة 28557)
حدیث نمبر: 29826
٢٩٨٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن مرة بن شراحيل عن مسروق ﴿إِذْ نَفَشَتْ فِيهِ غَنَمُ الْقَوْمِ﴾ قال: (كان) (١) (كرم) (٢) فدخلت فيه ليلا فما أبقت فيه خضرًا.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مرہ بن شراحیل فرماتے ہیں کہ حضرت مسروق نے قرآن پاک کی آیت {إِذْ نَفَشَتْ فِیہِ غَنَمُ الْقَوْمِ } ترجمہ :۔ جب جا گھسیں اس باغ میں لوگوں کی بکریاں رات کے وقت اس میں داخل ہوئیں اور انہوں نے اس میں کوئی ہریالی نہیں چھوڑی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29826
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29826، ترقيم محمد عوامة 28558)