حدیث نمبر: 29813
٢٩٨١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (خليفة) (١) بن خياط عن عمرو ابن شعيب عن أبيه عن جده (عن) (٢) النبي ﷺ أنه قال: في خطبته (وهو) (٣) مسند ظهره إلى الكعبة قال: "المسلمون تتكافأ دماؤهم، يسعى بذمتهم أدناهم، وهم يد على من سواهم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کعبہ سے ٹیک لگائے ہوئے تھے : مسلمانوں کے خون آپس میں برابر و یکساں ہیں ان میں ادنی شخص بھی ان کے عہدوپیمان کے لیے کوشش کرتا ہے اور وہ غیروں کے مقابلہ میں متحد ہیں۔
حدیث نمبر: 29814
٢٩٨١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأشهب عن الحسن قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "المسلمون تتكافأ دماؤهم، يسعى بذمتهم أدناهم، (وهم) (١) يد على من سواهم" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن بصری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : مسلمانوں کے خون آپس میں برابر و یکساں ہیں، ان کا ادنی شخص بھی ان کے عہدو پیماں کے لیے کوشش کرتا ہے وہ غیروں کے مقابلہ میں ایک ہیں متحد ہیں۔
حدیث نمبر: 29815
٢٩٨١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبيد اللَّه بن موسى عن علي بن صالح عن سماك عن عكرمة عن ابن عباس قال: (كانت) (١) قريظة والنضير، ⦗٢٩٧⦘ و (كانت) (٢) النضير أشرف من قريظة [(فكان) (٣) إذا قتل رجل من قريظة] (٤) رجلًا من النضير قُتل به، وإن قَتل رجل من النضير رجلًا من قريظة (وداه) (٥) مئة وسق من تمر، فلما بعث النبي ﷺ قتل رجل من النضير (رجلًا) (٦) من قريظة، قال: ادفعوه إلينا نقتله، فقالوا: بيننا وبينكم النبي ﷺ فأتوه فنزلت: ﴿وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ﴾ [المائدة: ٤٢]، فالقسط: النفس بالنفس، ثم نزلت: ﴿أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ﴾ (٧) [المائدة: ٥٠].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : قریظہ اور نضیر دو قبیلے تھے اور قبیلہ نضیر قریظہ والوں سے زیادہ معزز تھے۔ پس جب قبیلہ قریظہ کا کوئی آدمی قبیلہ نضیر کے کسی آدمی کو قتل کردیتا تو بدلہ میں اسے بھی قتل کردیا جاتا۔ اور اگر قبلہر نضیر کا کوئی آدمی قبیلہ قریظہ کے کسی آدمی کو قتل کردیتا تو وہ اسے سو و سق کھجور دیت میں ادا کردیتا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت ہوئی تو قبیلہ نضیر کے ایک آدمی نے قریظہ کے ایک آدمی کو قتل کردیا، انہوں نے کہا تم اس قاتل کو ہمارے حوالہ کردو تا کہ ہم اسے قتل کردیں، ان لوگوں نے جواب دیا۔ ہمارے اور تمہارے درمیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فیصلہ کریں گے۔ پس وہ سب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آگئے۔ پس یہ آیت نازل ہوئی ترجمہ :۔ اور اگر آپ حکم بنیں تو ان کے درمیان انصاف سے فیصلہ کریں۔ قسط سے مراد۔ جان کے بدلے جان ہے۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی ترجمہ :۔ تو کیا پھر یہ لوگ زمانۂ جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 29816
٢٩٨١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عمرو عن مجاهد عن ابن عباس قال: كان في بني إسرائيل القصاص ولم تكن فيهم الدية، فقال اللَّه لهذه الأمة: ﴿كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ﴾ (١)، فالعفو أن (تقبل) (٢) ⦗٢٩٨⦘ الدية في (العبد) (٣) ﴿ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ﴾، قال: فعلى هذا أن يتبع بالمعروف، وعلى (ذاك) (٤) أن يؤدي ﴿إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ (٥) [البقرة: ١٧٨].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : بنی اسرائیل میں قصاص کا حکم تھا اور ان میں دیت مشروع نہیں تھی۔ اللہ رب العزت نے اس امت کے لیے ارشاد فرمایا : ترجمہ :۔ فرض کردیا گیا ہے تم پر مقتولوں کا قصاص لینا آزاد کو قتل کیا جائے گا آزاد کے بدلے میں اور غلام کو غلام کے بدلے میں اور عورت کو عورت کے بدلے میں سو وہ شخص جس کو معاف کردیا جائے اس کے بھائی کی طرف سے قصاص میں کچھ تو لازم ہے اس پر پیروی کرنا معروف طریقے کی اور ادا کرنا مقتول کے ورثاء کو احسن طریقے سے۔ سو آیت میں عفو سے مراد یہ ہے کہ قتل عمد میں دیت قبول کرلی جائے۔ آیت ترجمہ : یہ رعایت ہے تمہارے رب کی طرف سے اور رحمت ہے۔ آپ نے فرمایا : سو اسی بنیاد پر لازم ہے کہ پیروی کرے معروف طریقے کی اور اس پر لازم ہے کہ مقتول کے ورثاء کو احسن طریقے سے ادا کردے۔ آیت ترجمہ : پھر جو زیادتی کرے اس کے بعدتو اس کے لیے درد ناک عذاب ہے۔
حدیث نمبر: 29817
٢٩٨١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: قلت لعطاء: ما قوله: ﴿الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ﴾، قال: العبد يقتل عبدًا مثله فهو به قود، وإن كان القاتل (أفضل) (١) لم يكن إلا قيمة المقتول.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا : اللہ رب العزت کے قول : آزاد کے بدلے میں آزاد اور غلام کے بدلے میں غلام اس کا مطلب کیا ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا : غلام اپنے جیسے کسی غلام کو قتل کردیتا ہے تو بدلے میں اس کو بھی قصاصاً قتل کیا جائے گا۔ اور اگر قاتل مقتول سے افضل ہو تو مقتول کے ورثاء کو صرف مقتول کی قیمت ملے گی۔
حدیث نمبر: 29818
٢٩٨١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن سفيان بن حسين عن ابن أشوع عن الشعبي قال: كان بين حيين من العرب قتال، فقتل من هؤلاء و (١) من هؤلاء، فقال: (أحد) (٢) الحيين: لا نرضى حتى يقتل بالمرأة الرجل، وبالرجل الرجلين، قال: فأبى عليهم الآخرون، فارتفعوا إلى النبي ﷺ، قال: فقال النبي ﷺ (٣): "القتل (بواء) (٤) " أي سواء، قال: فاصطلح القوم بينهم على الديات، قال: فحسبوا للرجل دية الرجل، وللمرأة دية المرأة، وللعبد دية العبد فقط (لأحد) (٥) الحيين على الآخرين، قال: فهو قوله: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ ⦗٢٩٩⦘ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى﴾ (٦) [البقرة: ١٧٨].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن اشوع فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا : عرب کے دو قبیلوں کے درمیان لڑائی تھی۔ سو اس قبیلہ کے کچھ افراد قتل ہوئے اور اس قبیلہ کے بھی کچھ افراد قتل ہوگئے۔ ان قبیلوں میں سے ایک نے کہا : ہم راضی نہیں ہوں گے یہاں تک کہ ہم عو رت کے بدلے مں ف آدمی کو اور آدمی کے بدلے میں دو آدمیوں کو قتل کریں : دوسرے قبیلے والوں نے اس بات کا انکار کردیا، پھر انہوں نے یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کردیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : قتل کا معاملہ برا بری کا ہے۔ سو لوگوں نے اپنے درمیان دیتوں کی اصطلاح قائم کرلی۔ انہوں نے آدی کے لیے آدمی کی دیت عورت کے لیے عورت کی دیت اور غلام کے لیے غلام کی دیت کو کافی سمجھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں قبیلوں میں سے ایک کے لیے دوسرے پر یوں فیصلہ فرمایا : راوی کہتے ہیں وہ فیصلہ اللہ رب العزت کا یہ قول ہے : ترجمہ :۔ اے ایمان والو ! فرض کردیا گیا ہے تم پر مقتولوں کا قصاص لینا قتل کیا جائے آزاد کو آزاد کے بدلے میں ، اور غلام کو غلام کے بدلے میں اور عورت کو عورت کے بدلے میں۔ حضرت سفیان بن حسن نے فرمایا : آیت : سو وہ شخص جس کو معاف کردیا جائے اس کے بھائی کی طرف سے قصاص میں سے کچھ۔ آپ فرمایا : مراد یہ ہے کہ جس نے اپنے بھائی پر کچھ اس مں فضل کردیا تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو معروف طریقہ سے ادائیگی کرے۔ اور طالب احسن انداز میں اس کی پیروی کرے اللہ رب العزت کے قول { عَذَابٌ أَلِیمٌ} تک۔
حدیث نمبر: 29819
٢٩٨١٩ - قال: سفيان: ﴿فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ﴾ قال: فمن فضل له على أخيه شيء فليؤده بالمعروف وليتبعه الطالب ﴿بِإِحْسَانٍ﴾ إلى (قوله) (١): ﴿عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾.