کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: الرَّجُلُ وَالْغُلاَمُ یَقِفَانِ فِی الْمَوْضِعِ لاَ یُدْرَی
حدیث نمبر: 29808
٢٩٨٠٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مغيرة عن إبراهيم قال: سألته عن غلام كان يطيّر حمامًا فوق بيت، ورجل فوق بيت، فوقع الغلام، فقال إبراهيم: لعلهم يقولون: لعله أمره بشيء.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے سوال کیا کہ ایک بچہ چھت پر کبوتر اڑا رہا تھا اور ایک آدمی بھی چھت پر تھا۔ پھر وہ بچہ گرگیا تو ابراہیم نے فرمایا کہ اس آدمی نے اسے کسی کام کا کہا ہوگا۔
حدیث نمبر: 29809
٢٩٨٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا عمران بن (حدير) (١) عن أبي مجلز قال: (لو) (٢) قلت لرجل -وهو على مقتلة ⦗٢٩٥⦘ (يعني) (٣) مهلكة: (جسرًا) (٤) أو (حائطًا) (٥) -: (باعد، اتقه) (٦)، فصرع غرمته.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ اگر تم نے ہلاکت خیز مقام پر کھڑے کسی آدمی سے کہا کہ بچو اور وہ گرگیا تو تم ضمان دو گے۔
حدیث نمبر: 29810
٢٩٨١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: قلت لعطاء: (رجل) (١) نادى صبيًا استأخر (فخر) (٢) فمات، قال: (يروون) (٣) عن علي أنه يغرمه، يقولون: (أفزعه) (٤) (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ اگر ایک آدمی کسی بچے سے کہے کہ پیچھے ہٹ اور بچہ گر کر مرجائے تو کیا حکم ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ اسے ضامن بناتے تھے۔ کیونکہ اس نے اسے ڈرایا تھا۔ میں نے ان سے پوچھا اگر کسی نے بڑے کو اس طرح کہا تو حضرت عطاء نے فرمایا کہ پھر بھی یہی حکم ہے۔
حدیث نمبر: 29811
٢٩٨١١ - قلت: (فنادى [كبيرًا]) (١)، قال: ما أراه إلا مثله، فراددته، فكان يرى أن يغرم.