کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جو سواری کو تیز دوڑانے کے لیے نوکیلی چیز چبھوئے اور اسے مار دے تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 29801
٢٩٨٠١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا المسعودي عن القاسم بن عبد الرحمن قال: أقبل رجل (بجارية) (١) من القادسية، فمر على (رجل) (٢) واقف على دابة، فنخس (الرجل) (٣) (الدابة) (٤)، فرفعت الدابة رجلها، فلم تخطئ عين الجارية، فرفع إلى [سلمان] بن ربيعة (الباهلي) (٥) فضمن الراكب، فبلغ ذلك ⦗٢٩٣⦘ ابن مسعود فقال: عليَّ الرجل، إنما يضمن الناخس (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ ایک آدمی قادسیہ سے ایک باندی لے کر آیا، اس کا گزر کسی آدمی پر ہوا جو سواری پر کھڑا تھا پس اس آدمی نے سواری کو تیز دوڑانے کے لیے اس کی سرین پر کیل چبھو د ی تو سواری کے جانور نے اپنی ٹانگیں اٹھا لیں اس سے باندی کی آنکھ کا نشانہ خطا نہ گیا۔ یہ معاملہ حضرت سلمان بن ربیعہ باھلی کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے اس سوار کو ضامن بنایا یہ خبر حضرت ابن مسعود تک پہنچی تو آپ نے فرمایا، اس آدمی کو میرے پاس لاؤ اس لیے کہ کیل چبھونے والے کو ضامن بنایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 29802
٢٩٨٠٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن جابر عن عامر قال: سألته عن رجل نخس دابة رجل، قال: يضمن الناخس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عامر شعبی سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا : جس نے کسی آدمی کے جانور کو سرین پر کیل چبھودی ہو ؟ آپ نے فرمایا : کیل چبھونے والے کو ضامن بنایا جائے گا۔
حدیث نمبر: 29803
٢٩٨٠٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن مجالد عن الشعبي عن شريح قال: إلا أن ينخسها إنسان فيضمن الناخس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت شریح نے ارشاد فرمایا : مگر یہ کہ کسی انسان نے اس جانور کو سرین پر تیز دوڑانے کے لیے کیل چبھوئی ہو پس اس کیل چبھوے والے کو ضامن بنایا جائے گا۔