کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جو قابل سزا غلطًی کرے اور اس کا کوئی سرپرست نہ ہو
حدیث نمبر: 29783
٢٩٧٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا ربيعة بن عثمان التيمي عن (سعد) (١) بن إبراهيم أن أبا موسى كتب إلى عمر أن (الرجل) (٢) يموت قبلنا وليس له رحم ولا (ولي) (٣) قال: فكتب إليه عمر: إن ترك ذا رحم فالرحم، وإلا (فالولاء) (٤)، وإلا فبيت المال يرثونه ويعقلون عنه (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعدبن ابرہیم فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ نے حضرت عمر کو خط لکھا : بیشک ہمارے ہاں ایک آدمی مرگیا اور اس کا نہ تو کوئی رشتہ دار ہے اور نہ ہی کوئی ولی۔ حضرت عمر نے آپ کو جواب لکھا : اگر اس نے کوئی رشتہ دار چھوڑا ہے تو رشتہ دار حقدار ہے ورنہ اس کے سرپرست اگر وہ بھی نہیں ہیں تو بیت المال اس کا وارث بنے گا اور وہ ہی اس کی طرف سے دیت ادا کرے گا۔
حدیث نمبر: 29784
٢٩٧٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن مطرف عن الشعبي.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی اور حسن بصری نے ایسے شخص کے بارے میں جو اسلام لایا اور اس کا کوئی رشتہ دار نہیں۔ ان دونوں نے یوں فرمایا : اس کی وراثت مسلمانوں کو ملے گی اور اس کی دیت بھی ان پر ہی لازم ہوگی۔
حدیث نمبر: 29785
٢٩٧٨٥ - وعن يونس عن الحسن في الرجل يسلم وليس له مولى (قالا) (١): ميراثه للمسلمين وعقله عليهم.
حدیث نمبر: 29786
٢٩٧٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن إبراهيم قال: إذا أسلم الرجل على (١) (يد) (٢) الرجل فله ميراثه (يعقل) (٣) عنه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : جب آدمی نے دوسرے آدمی کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تو اس کو ہی اس کی وراثت ملے گی اور وہ شخص ہی اس کی طرف سے دیت ادا کرے گا۔