کتب حدیث ›
مصنف ابن ابي شيبه › ابواب
› باب: اس آدمی کا بیان جس کے لیے قصاص لیا جارہا ہے کیا اس کو قید کیا جائے گا؟
حدیث نمبر: 29766
٢٩٧٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا معاذ بن معاذ عن عوف قال: شهدت عبد الرحمن بن أذينة أقص رجلًا (حرصتين) (١) في رأسه ثم حبس المقتص له، حتى ينظر المقتص منه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عوف فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبدالرحمن بن أذینہ کے پاس حاضر تھا کہ انہوں نے ایک آدمی سے کسی کے لیے قصاص لیا اس کے سر میں دو معمولی سے زخم مار کر پھر آپ نے اس کو روک لیاجس کے لیے قصاص لیا جا رہا تھا یہاں تک کہ وہ دیکھ لے اس شخص کو جس سے قصاص لیا گیا ہے۔ راوی کہتے ہیں : حضرت ابن سیرین نے اس روکنے کو ناپسند کیا۔
حدیث نمبر: 29767
٢٩٧٦٧ - قال: وكان ابن سيرين ينكر هذا الحبس.
حدیث نمبر: 29768
٢٩٧٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: قال عطاء: (للجروح) (١) قصاص، وليس للإمام أن يضربه ولا أن يحبسه، إنما هو القصاص، ما كان اللَّه نسيًا، لو شاء لأمر بالسجن والضرب.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء نے ارشاد فرمایا : زخموں میں بھی قصاص ہے اور امام کے لیے اختیار نہیں ہے کہ وہ اس کو مارے یا اس کو قید کرلے بیشک یہ تو قصاص ہے اور اللہ رب العزت کوئی بات بھولنے والا نہیں ہے اگر وہ چاہتا تو جیل اور مارنے کا حکم دے دیتا۔