کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: جس وجہ سے مسلمان کا خون حلال ہوجاتا ہے
حدیث نمبر: 29738
٢٩٧٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الوهاب الثقفي عن أيوب (١) عن أبي قلابة قال: ما قتل على عهد رسول اللَّه ﷺ ولا أبي بكر ولا عمر رجل من المسلمين إلا (من) (٢) زنا أو قتل أو حارب اللَّه ورسوله.
مولانا محمد اویس سرور
ایوب فرماتے ہیں کہ حضرت ابو قلابہ نے ارشاد فرمایا : مسلمانوں میں سے کوئی آدمی قتل نہیں کیا گیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں نہ ہی ابوبکر کے زمانے میں اور نہ ہی حضرت عمر کے زمانے میں مگر زنا کے معاملہ میں یا قتل کے معاملہ میں یا وہ شخص جس نے اللہ اور اس کے رسو ل (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنگ کی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29738
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29738، ترقيم محمد عوامة 28479)
حدیث نمبر: 29739
٢٩٧٣٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن عبد اللَّه بن مرة عن مسروق عن عبد اللَّه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يحل دم امرئ يشهد أن لا إله إلا اللَّه وأني رسول اللَّه إلا أحد ثلاثة نفر: النفس بالنفس، والثيب الزاني، والتارك لدينه المفارق للجماعة" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس آدمی کا خون حلال نہیں ہوسکتا جو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور بیشک میں اللہ کا رسول ہوں مگر تین میں سے ایک شخص کا، جان کے بدلے جان ہو اور شادی شدہ زنا کرنے والا، اور اپنے دین کو چھوڑنے والا جماعت سے علیحدگی اختیار کرنے والا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29739
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٦٨٧٨)، ومسلم (١٦٧٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29739، ترقيم محمد عوامة 28480)
حدیث نمبر: 29740
٢٩٧٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن أبي إسحاق عن عمرو بن غالب عن عائشة قالت: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا يحل دم امرئ مسلم، إلا رجل قتل فقتل، أو رجل زنى بعد ما أحصن، أو رجل ارتد بعد إسلامه" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کسی مسلمان آدمی کا خون حلال نہیں ہے مگر وہ شخص جس نے قتل کردیا تو اس کو بھی قتل کردیا جائے گا یا وہ شخص جس نے شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کیا یا وہ شخص جو اپنے اسلا م لانے کے بعد مرتد ہوگیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29740
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ عمرو بن غالب ثقة، أخرجه أحمد (٢٤٣٠٤)، ومسلم (١٦٧٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29740، ترقيم محمد عوامة 28481)
حدیث نمبر: 29741
٢٩٧٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن عمرو بن غالب عن عائشة عن النبي ﵇ (١) مثله (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مذکورہ ارشاد اس سند سے بھی منقول ہے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29741
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٦٧٦)، وأحمد (٢٥٧٩٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29741، ترقيم محمد عوامة 28482)
حدیث نمبر: 29742
٢٩٧٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير بن عبد الحميد عن منصور (عن إبراهيم) (١) عن أبي (معمر) (٢) عن مسروق عن عائشة قالت: ما حل دم أحد من أهل هذه القبلة إلا من استحل ثلاثة أشياء: قتل النفس بالنفس، والثيب الزاني، والمفارق جماعة المسلمين أو الخارج من جماعة المسلمين (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسروق فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا : اس قبلہ کی طرف رخ کرنے والوں میں سے کسی ایک کا بھی خون حلال نہیں ہے مگر وہ شخص جو ان چیزوں کو حلال سمجھے۔ جان کے بدلہ جان کا قتل کرنا اور شادی شدہ زانی، اور مسلمانوں کی جماعت سے عیحدے گی ہونے والا یا یوں فرمایا : مسلمانوں کی جماعت سے نکلنے والا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29742
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه الحاكم (٤/ ٣٥٤)، والدارقطني (٣/ ٨٣) وفي العلل (٥/ ٢٥٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29742، ترقيم محمد عوامة 28483)
حدیث نمبر: 29743
٢٩٧٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا (محمد بن قيس) (١) عن أبي حصين أن عثمان أشرف على الناس يوم الدار فقال: أما علمتم أنه لا يحل دم امرئ مسلم إلا أربعة: رجل قتل فقتل، أو رجل زنى بعد ما أحصن، أو رجل ارتد بعد إسلامه، أو رجل عمل عمل قوم لوط (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حصین فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان نے یوم الدار والے دن لوگوں پر جھانکا اور فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ کسی مسلمان شخص کا خون حلال نہیں ہے مگر چار آدمیوں کا ایک وہ شخص جس نے قتل کیا پس اس کو بھی قتل کیا جائے گا یا وہ شخص جس نے شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کیا یا وہ شخص جو اپنے اسلام لانے کے بعد مرتد ہوگیا یا وہ شخص جس نے قوم لوط والا عمل کیا یعنی لواطت۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29743
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29743، ترقيم محمد عوامة 28484)