کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اس آدمی کا بیان جس کو قتل کرنا ثابت ہوچکا پس ان کو اولیاء کے حوالہ کردیا جائے گا
حدیث نمبر: 29730
٢٩٧٣٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة قال: حدثنا ابن جريج قال: أخبرني (عمرد) (١) أن (حيي) (٢) بن يعلى أخبره أنه سمع يعلى يخبر أن رجلًا أتى ⦗٢٧٥⦘ يعلى فقال له: (قاتلي) (٣) هذا (٤)، فدفعه إليه يعلى فجدعوه بسيوفهم حتى (رأوا) (٥) أنهم قتلوه وبه رمق، فأخذه أهله فداووه حتى بَرَأ، فجاء يعلى فقال: (٦) أو (لست) (٧) قد دفعت إليك (٨)، فأخبره خبره، فدعاه يعلى فوجده قد (شلل) (٩) فحُسبت جروحُه فوجدوا فيه الدية، فقال له يعلى: إن شئت فادفع إليه ديته فاقتله، وإلا فدعه، فلحق بعمر (فاستأدى) (١٠) على يعلى، فاتفق عمر وعليٌ على قضاء يعلى أن يدفع إليه الدية ويقتله، أو يدعه فلا يقتله، وقال عمر ليعلى: إنك لقاض، ثم رده إلى عمله (١١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حیی بن یعلی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت یعلی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور آپ سے کہا مجھے مارنے والا یہ شخص ہے تو حضرت یعلی رضی اللہ عنہ نے وہ آدمی اس کے حوالہ کردیا ان لوگوں نے اس کو اپنی تلواروں سے خوب مارا یہاں تک کہ وہ سمجھے کہ انہوں نے اس کو ماردیا ہے حالانکہ اس میں زندگی کی رمق باقی تھی پس اس کے گھر والوں نے اس کو لے لیا اور اس کا علاج کروایا یہاں تک کہ وہ تندرست ہوگیا۔ حضرت یعلی رضی اللہ عنہائے اور فرمایا : کیا میں نے اسے تمہارے حوالہ نہیں کردیا تھا ؟ تو اس نے آپ کو اس کے بارے میں خبر دی حضرت یعلی رضی اللہ عنہ نے اس کو بلایا تو آپ کو اس کے جسم پر زخموں کے نشان پائے اور اس کے زخم سفید ہوچکے تھے پھر ان لوگوں نے اس میں دیت لینا چاہی تو حضرت یعلی رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے کہا : اگر تو چاہے تو اس کو اس کی دیت ادا کردے اور اسے قتل کردے وگرنہ اس کو چھوڑ دو پس وہ شخص حضرت عمر سے ملا اور حضرت یعلی رضی اللہ عنہ کے خلاف آپ سے مدد چاہی لیکن حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہان دونوں حضرات نے حضرت یعلی رضی اللہ عنہ کے فیصلہ پر اتفاق کیا کہ اس بچنے والے کو پہلے دیت ادا کی جائے اور اس کو قتل کردیا جائے یا اس کو چھوڑ دو اور قتل مت کرو۔ اور حضرت عمر نے حضرت یعلی رضی اللہ عنہ سے فرمایا : یقینا تم تو قاضی ہو پھر آپ نے ان کو ان کے کام کی طرف واپس لوٹا دیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29730
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29730، ترقيم محمد عوامة 28471)