کتب حدیثمصنف ابن ابي شيبهابوابباب: اس آدمی کا بیان جس نے اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو پایا پس اس نے اسے قتل کردیا
حدیث نمبر: 29709
٢٩٧٠٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة عن يحيى بن سعيد عن سعيد بن المسيب أن رجلًا من أهل الشام يقال: له ابن خيبري -وجد مع امرأته رجلًا (فقتلها) (١) -أو قتلهما- فرفع إلى معاوية فأشكل عليه القضاء في ذلك، فكتب إلى أبي موسى: أن سل عليًا (في) (٢) ذلك، فسأل أبو موسى عليًا فقال: إن هذا لشيء ما هو بأرضنا، عزمت عليك لتخبرني، فأخبره فقال علي: أنا، أبو حسن، إن لم يجئ بأربعة شهداء فليدفعوه برمته (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن مسیب نے ارشاد فرمایا : شام کے باشندوں میں سے ایک شخص جس کا نام ابن خیبری تھا اس نے اپنی بیوی کے پاس ایک آدمی کو پایا تو اس نے بیوی کو یا ان دونوں کو قتل کردیا یہ معاملہ حضرت معاویہ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ پر اس بارے میں فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا۔ آپ نے حضرت ابو موسیٰ کو خط لکھا کہ وہ اس کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھیں۔ پھر حضرت ابو موسیٰ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا : بیشک یہ معاملہ ہماری زمین میں پیش نہیں آیا میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم ضرور مجھے اس بارے میں بتلاؤ۔ تو حضرت ابو موسیٰ نے آپ کو اس بارے میں بتلادیا۔ پس حضر ت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر وہ چار گواہ نہ لائے تو تم اس کو مکمل طور پر حوالہ کردو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29709
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29709، ترقيم محمد عوامة 28458)
حدیث نمبر: 29710
٢٩٧١٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أسباط عن الشيباني عن سلمة قال: رفع إلى مصعب رجلٌ وجد مع امرأته رجلا فقتله فأبطل دمه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسلمہ فرماتے ہیں کہ حضرت مصعب کے سامنے ایک ایسے آدمی کو پیش کیا گیا جس نے اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو پایا تھا تو اس نے اسے قتل کردیا آپ نے اس کا خون رائیگاں قراردیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29710
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29710، ترقيم محمد عوامة 28459)
حدیث نمبر: 29711
٢٩٧١١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أبي عاصم عن الشعبي قال: كان رجلان أخوان من الأنصار يقال لأحدهما: أشعث، فغزا في جيش من جيوش المسلمين، قال: فقالت امرأة أخيه لأخيه: هل لك في امرأة أخيك معها رجل يحدثها؟ فصعد فأشرف عليه وهو معها على فراشها، وهي تنتف له دجاجة: وهو يقول: ⦗٢٧٠⦘ وأشعث غرة الإسلامُ منى … خلوت بعرسه ليل التمام أبيت على حشاياها ويمسي … على دهماء لاحقة الحزام كأن مواضع الربلات منها … (فئام) (١) قد جمعن إلى (فئامي) (٢)
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عاصم فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا : دو انصاری آدمی آپس میں بھائی تھے ان میں سے ایک کا نام اشعث تھا وہ مسلمانوں کے لشکروں میں سے کسی لشکر میں جہاد کرنے گیا۔ تو اس کے بھائی کی بیوی اس کے بھائی کو کہنے لگی : تمہارے بھائی کی بیوی کے ساتھ کوئی آدمی ہے کیا تم اس کا کچھ کرسکتے ہو ؟ پس پیچھے رہنے والا آدمی چھت پر چڑھا اور اس نے اپنے بھائی کے گھر میں جھانکا تو اس نے ایک آدمی کو اپنے بھائی کی بیوی کے ساتھ بسترپر دیکھا اور وہ عورت اس کے لیے مرغی کی کھال اتار رہی تھی اور وہ شخص یہ شعر پڑھ رہا تھا۔ ترجمہ :” اشعث کو اسلام نے میرے بارے میں دھوکہ دیا۔ میں نے اس کی دلہن کے ساتھ رات گزاری۔ میں اس کی بیوی کے ساتھ لپٹ کر رات گزار رہا تھا جبکہ وہ موت کی مصیبت میں شام کر رہا تھا۔ اس کی بیوی کے جسم کا گوشت ایسے ہے جیسے پالکی کے گدے ایک دوسرے کے اوپر ڈالے گئے ہوں۔ “ یہ سن کر وہ بھائی اس پر کود پڑا اور اس نے تلوار سے وار کر کے قتل کردیا پھر اس کو پھینک دیا اس مقتول نے مدینہ میں صبح کی تو حضرت عمر نے فرمایا : میں اللہ کی قسم دیتا ہوں اس آدمی کو جس کے پاس اس کے بارے میں کچھ علم ہو مگر یہ کہ وہ کھڑا ہوجائے وہ شخص کھڑا اور اس نے واقعہ کی آپ کو خبر دی اس پر آپ نے فرمایا : یہ شخص برباد اور ہلاک ہوگیا۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29711
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29711، ترقيم محمد عوامة 28460)
حدیث نمبر: 29712
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29712
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29712، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 29713
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29713
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29713، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 29714
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29714
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29714، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 29715
٢٩٧١٥ - [*] قال: فوثب إليه الرجل فضربه بالسيف حتى قتله ثم ألقاه فأصبح قتيلًا بالمدينة، فقال عمر: أنشد اللَّه رجلًا كان عنده من هذا علم إلا قام به، فقام الرجل فأخبره بالقصة فقال: سحق وبعد (١).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29715
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29715، ترقيم محمد عوامة ---)
حدیث نمبر: 29716
٢٩٧١٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: قلت لعطاء: الرجل يجد على امرأته رجلا فيقتله (١)، أيهدر دمه؟ قال: ما من أمر إلا بالبينة، قلت: إذا شهد عليه أنه (زانٍ) (٢) في أهلي قال: وإن أشهد، لا أمر إلا بالبينة، (لا أمر إلا بالبينة) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے دریافت کیا اس آدمی کے متعلق جو اپنی بیوی کے ہمراہ کسی آدمی کو پائے اور اسے قتل کردے تو کیا اس کا خون رائیگاں جائے گا ؟ آپ نے فرمایا : کوئی معاملہ نہیں ہوگا مگر گواہی کے ساتھ میں نے عرض کی اگر اس شخص کے خلاف گواہی دے دی گئی کہ اس نے میرے گھر میں زنا کیا آپ نے فرمایا : اگر چہ گواہی دے کوئی حکم نہیں ہوگا مگر گواہی کے ساتھ کوئی حکم نہیں ہوگا مگر گواہی کے ساتھ۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29716
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29716، ترقيم محمد عوامة 28461)
حدیث نمبر: 29717
٢٩٧١٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة عن عبد اللَّه قال: بينا نحن ليلة (١) في المسجد إذ جاء رجل فقال: لو أن رجلًا وجد مع امرأته رجلًا فقتله قتلتموه؟ أو تكلم (٢) جلدتموه؟ لأذكرن ذلك ⦗٢٧١⦘ للنبي [صلى اللَّه (عليه وسلم) (٣)] (٤) فأتاه فذكر ذلك فسكت عنه، فنزلت آية اللعان، فدعاه النبي ﷺ فقرأها عليه، فجاء الرجل بعد يقذف امرأته، فلاعن رسول اللَّه ﷺ بينهما وقال: "عسى أن تجيء به أسود جعدًا"، فجاءت به أسود جعدًا (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا : اس درمیان کہ ایک رات ہم مسجد میں تھے کہ اچانک ایک آدمی آیا اور کہنے لگا ؟ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے ہمراہ کسی مرد کو پائے اور اسے قتل کردے تو تم اس کو قتل کردو گے یا وہ اس پر تہمت لگائے تو تم اسے کوڑے مارو گے ؟ میں ضرور یہ معاملہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کروں گا۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو اس شخص نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے یہ بات ذکر کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش ہوگئے اتنے میں لعان کی آیت نازل ہوئی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کو بلایا اور اس پر یہ آیات تلاوت فرمائیں پس اس کے بعد وہ شخص آیا اور اس نے اپنی بیوی پر تہمت لگائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں کے درمیان لعان کرنے کا فیصلہ فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : قریب ہے کہ یہ عورت کالا سکڑا ہوا بچہ لائے پس وہ عورت کالا سکڑا ہوا بچہ ہی لائی۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29717
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٤٩٥)، وابن حبان (٢٠٦٨)، وأبو داود (٢٢٥٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29717، ترقيم محمد عوامة 28462)
حدیث نمبر: 29718
٢٩٧١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن عبد الملك عن ورّاد عن المغيرة قال: بلغ النبي ﷺ (١) أن سعد بن عبادة يقول: لو وجدت معها رجلا لضربته بالسيف غيرمصفح قال: فقال النبي ﷺ (٢): "أتعجبون من غيرة سعد، فواللَّه لأنا أغير من سعد، واللَّه أغير مني، ومن أجل غيرة اللَّه (حرم) (٣) (اللَّه) (٤) الفواحش ما ظهر منها وما بطن" (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خبر پہنچی کہ حضرت سعد بن عبادہ یوں فرماتے ہیں کہ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پاؤں تو میں اسے تلوار کی دھار سے ضرب لگاؤں گا۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تم سعد کی غیرت سے تعجب کرتے ہو ؟ پس اللہ کی قسم ! میں سعد سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ رب العزت مجھ سے زیادہ غیرت مند ہیں اور اسی وجہ سے اللہ نے بری باتوں کو حرام کیا جن کا تعلق ظاہر سے ہو یا باطن سے ہو۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29718
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٤٨٤٦)، ومسلم (١٤٩٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29718، ترقيم محمد عوامة 28463)
حدیث نمبر: 29719
٢٩٧١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سفيان عن المغيرة بن النعمان عن هانئ بن (حرام) (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مالک بن انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ھانئِ بن حزام نے ارشاد فرمایا : ایک آدمی نے اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو پایا تو اس نے اسے قتل کردیا اس بارے میں حضر ت عمر کو خط لکھا گیا تو حضرت عمر نے اس بارے میں دو خط لکھے : ایک اعلانیہ خط کہ اس آدمی کو قتل کردیا جائے اور ایک پوشیدہ خط کہ اس سے دیت لی جائے۔
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29719
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29719، ترقيم محمد عوامة 28464)
حدیث نمبر: 29720
٢٩٧٢٠ - زاد فيه يحيى بن آدم عن مالك بن أنس عن هانئ بن (حرام) (١) أن رجلًا وجد مع امرأته رجلًا فقتلها، فكتب فيه إلى عمر، فكتب فيه عمر كتابين: كتاب في العلانية يقتل، وكتاب في السر تؤخذ الدية (٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الديات / حدیث: 29720
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 29720، ترقيم محمد عوامة ---)