حدیث نمبر: 29693
٢٩٦٩٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن شعبة قال: سألت الحكم وحمادًا عن رجل رمى بنار في دار قوم فاحترقوا، قال: ليس عليه قود، (١) لا يقتل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد ان دونوں حضرات سے ایسے آدمی کے متعلق دریافت کیا جس نے چند لوگوں کے گھر میں آگ پھینکی پس وہ لوگ جل گئے تو اس کا کای حکم ہے ؟ ان دونوں حضرات نے فرمایا اس پر قصاص نہیں ہوگا اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 29694
٢٩٦٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن عبد العزيز بن حصين عن يحيى ابن يحيى الغساني قال: أحرق رجل (تبنا) (١) في (قراح) (٢) له، فخرجت شرارة من نار حتى أحرقت شيئًا لجاره قال: فكتبت فيه إلى عمر بن عبد العزيز فكتب إليّ أن رسول اللَّه ﷺ قال: "العجماء (٣) جبار"، وأرى أن النار جبار (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبدالعزیز بن حصین فرماتے ہیں کہ حضرت یحییٰ بن یحییٰ غسانی نے ارشاد فرمایا کہ ایک آدمی نے اپنی کھلی زمین میں بھوسا جلا یا پس آگ کا شعلہ نکلا یہاں تک کہ اسنے پڑوسی کی کوئی چیز جلا دی آپ فرماتے ہیں کہ میں نے اس بارے میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کو خط لکھا تو آپ نے مجھے جواب لکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : چوپایہ کے زخم پر کوئی تاوان نہیں اور میری رائے یہ ہے کہ آگ کے نقصان پر بھی کوئی تاوان نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 29695
٢٩٦٩٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو داود عن شعبة قال: سألت الحكم ⦗٢٦٥⦘ وحمادا عن رجل أحرق دارًا، فأحرق فيها قومًا (قالا) (١): لا يقتل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت حکم اور حضرت حماد سے ایسے آدمی کے متعلق دریافت کیا جس نے گھر کو آگ لگائی اور اس میں موجود لوگوں کو جلا دیا ؟ ان دونوں حضرات نے ارشاد فرمایا : اس شخص کو قتل نہیں کیا جائے گا۔