حدیث نمبر: 29682
٢٩٦٨٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثني ابن أبي ليلى عن عطاء أن الناس أجلوا عن قتيل في الطواف فوداه من بيت المال.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء نے فرمایا : ایک آدمی دورانِ طواف کچلا گیا تو حاکم نے اس کی دیت بیت المال سے ادا کی۔
حدیث نمبر: 29683
٢٩٦٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا وهب بن عقبة و (مسلم) (١) بن يزيد بن مذكور سمعاه (من) (٢) يزيد بن مذكور أن الناس ازدحموا ⦗٢٦٢⦘ في المسجد الجامع بالكوفة يوم الجمعة، (فأفرجوا) (٣) عن قتيل (فوداه) (٤) علي بن أبي طالب من بيت المال (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت وھب بن عقبہ اور حضرت مسلم بن یزید بن مذکور فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت یزید بن مذکور کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ جمعہ کے دن کوفہ کی جامع مسجد میں لوگوں کا رش لگ گیا جب رش ختم ہوا تو وہاں ایک آدمی قتل ہوا پڑا تھا تو پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ابو طالب نے بیت المال سے اس کی دیت ادا کی۔
حدیث نمبر: 29684
٢٩٦٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا شعبة عن الحكم عن إبراهيم أن رجلًا قُتل في الطواف، فاستشار عمر الناس فقال علي: ديته على المسلمين، أو في بيت المال (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حکم فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : کہ ایک شخص کو طوا ف کے دوران قتل کردیا گیا تو حضرت عمر نے اس بارے میں لوگوں سے مشورہ طلب کیا اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کی دیت مسلمانوں پر یا بیت المال میں لازم ہوگی۔
حدیث نمبر: 29685
٢٩٦٨٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج عن عطاء قال: (أتى) (١) حجر (عائر) (٢) في إمرة مروان، فأصاب ابن نسطاس (بن) (٣) عامر ابن عبد اللَّه ابن نسطاس لا يعلم من صاحبه فقتله، فضرب مروان ديته على الناس.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت عطاء نے ارشاد فرمایا : مروان کی حکومت میں ایک نامعلوم پتھر آیا اور ابن نسطاس بن عامر بن عبداللہ بن نسطاس کو جا لگا اس کا پھینکنے والا معلوم نہیں تھا پس اس پتھر نے اسے مار دیا تو مروان نے اس کی دیت لوگوں پر ڈال دی۔
حدیث نمبر: 29686
٢٩٦٨٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد ابن أبي عدي عن أشعث عن الحسن في قوم تناضلوا فأصابوا إنسانًا، لا يدرى أيهم أصابه قال: الدية عليهم كلهم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ تیر اندازی کا مقابلہ کررہے تھے کہ انہوں نے ایک شخص کو تیر مار دیا یہ معلوم نہیں تھا کہ ان میں سے کس نے اس کو تیر مارا ہے حسن بصری نے ارشاد فرمایا : اس کی دیت ان سب پر لازم ہوگی۔