حدیث نمبر: 29663
٢٩٦٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا سعيد عن قتادة عن سليمان بن يسار أن رسول اللَّه ﷺ قال: "شاهدان من غيركم" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے علاوہ دو گواہ ضروری ہیں۔
حدیث نمبر: 29664
٢٩٦٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا المسعودي عن القاسم قال: انطلق رجلان من أهل الكوفة إلى عمر بن الخطاب فوجداه قد صدر عن البيت (فقالا) (١): يا أمير المؤمنين إن ابن عم لنا قتل ونحن (إليه شرع) (٢) سواء في الدم، وهو ساكت عنهما (فقال) (٣): شاهدان (ذوا) (٤) عدل تجيئان (به) (٥) على من قتله فنقيدكم منه (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مسعودی فرماتے ہیں کہ حضرت قاسم نے ارشاد فرمایا : دو آدمی کوفہ سے حضرت عمر بن خطاب کے پاس آئے ان دونوں نے آپ کو بیت اللہ سے جاتے ہوئے پایا۔ وہ دونوں کہنے لگے، اے امیرالمومنین ! ہمارے چچا کے بیٹے کو قتل کردیا گیا ہے اس حال میں کہ ہم اس کے خون میں بالکل برابر ہیں اور آپ ان دونوں سے خاموش رہے اور فرمایا : تم دونوں دو عادل گواہ لاؤ اس شخص کے خلاف جس نے اسے قتل کیا پس میں تمہیں اس سے قصاص دلوادوں گا۔
حدیث نمبر: 29665
٢٩٦٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحيم عن الحسن بن عمرو عن فضيل عن إبراهيم قال: شاهدان على الدم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت فضیل فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : خون پر دو گواہوں کا ہونا ضروری ہے۔
حدیث نمبر: 29666
٢٩٦٦٦ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (١) ابن أبي عدي عن (أشعث) (٢) عن الحسن قال: لا يجوز في القود إلا شهادة أربعة] (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اشعث فرماتے ہیں کہ حسن بصری نے ارشاد فرمایا : قصاص میں جائز نہیں مگر چار لوگوں کی گواہی۔
حدیث نمبر: 29667
٢٩٦٦٧ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن مطرف عن الشعبي قال: شاهدان] (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مطرف فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا : دو گواہ ہیں۔