حدیث نمبر: 29627
٢٩٦٢٧ - حدثنا أبو محمد عبد اللَّه بن يونس قال: حدثنا أبو عبد الرحمن بقي بن مخلد قال: حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى بن عبد الأعلى عن معمر عن الزهري عن سعيد بن المسيب أن القسامة كانت في الجاهلية، فأقرها النبي ﷺ (١) في ⦗٢٤٦⦘ قتيل من الأنصار وجد في (جب) (٢) (لليهود) (٣) قال: فبدأ رسول اللَّه ﷺ باليهود فكلفهم قسامة خمسين، فقالت اليهود: لن (نحلف) (٤) (٥) فقال رسول اللَّه ﷺ للأنصار: " (أفتحلفون) (٦) فأبت الأنصار أن تحلف"، فأغرم رسول اللَّه ﷺ اليهود (ديته) (٧)؛ لأنه قتل بين أظهرهم (٨).
حدیث نمبر: 29628
٢٩٦٢٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن معمر عن الزهري قال: دعاني عمر بن عبد العزيز فسألني عن القسامة فقال: قد بدا لي أن أردها، إن الأعرابي يشهد والرجل الغائب يجيء فيشهد، فقلت: يا أمير المؤمنين، إنك لن تستطيع ردها، قضى بها رسول اللَّه ﷺ والخلفاء بعده (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معمر فرماتے ہیں کہ حضرت زہری نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے مجھے بلا کر مجھ سے قسامت کے شرعی حکم کے متعلق سوال کیا ؟ تو آپ نے فرمایا : تحقیق میرے لیے یہ بات ظاہر ہوئی کہ میں اس کو رد کردوں اس لیے کہ دیہاتی گواہی دیتا ہے اور غائب آدمی آتا ہے پس گواہی دے دیتا ہے میں نے کہا : اے امیرالمومنین ! آپ اس کو رد نہیں کرسکتے اس لیے کہ رسو ل اللہ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد خلفاء راشدین نے اس کا فیصلہ فرمایا ہے۔
حدیث نمبر: 29629
٢٩٦٢٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بشر قال: حدثنا سعيد عن قتادة أن سليمان بن يسار (حدث) (١) أن عمر بن عبد العزيز قال: ما رأيت مثل القسامة قط أقيد بها واللَّه يقول: ﴿وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ﴾ [الطلاق: ٢]، وقالت الأسباط: ﴿وَمَا شَهِدْنَا إِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كنا لِلْغَيْبِ حَافِظِينَ﴾ [يوسف: ٨١]، وقال اللَّه: ﴿إِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ﴾ [الزخرف: ٨٦].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ارشاد فرمایا : میں نے کبھی قسامت جیسا قانون نہیں دیکھا جس کے ذریعہ میں قصاص لے لوں اللہ رب العزت فرماتے ہیں۔ ترجمہ :۔ اور گواہی دیں تم میں سے دو عادل شخص اور فرمایا ترجمہ :۔ اور ہم بیان نہیں کر رہے مگر وہ جو ہم جانتے ہیں اور ہم غیب کی باتوں کے نگہبان نہیں ہیں۔ اور اللہ رب العزت نے فرمایا : مگر جو شہادت دے حق کی اور وہ جانتے بھی ہوں۔ حضرت سلیمان بن یسار نے فرمایا : قسامت برحق ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا فیصلہ فرمایا اس درمیان کہ انصار کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ان میں سے ایک آدمی چلا گیا پھر وہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے چلے گئے پس ان لوگوں نے اپنے ساتھی کو خون میں لت پت پایا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس واپس لوٹے اور کہنے لگے، یہود نے ہمیں مار دیا اور انہوں نے یہود میں سے ایک آدمی کا نام لیا حالانکہ ان کے پاس شہادت نہیں تھی پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا : تمہارے علاوہ دو گواہ گواہی دے دیں تو میں اس شخص کو مکمل تمہارے حوالہ کردوں گا پس ان کے پاس شہادت نہیں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم پچاس قسموں کے ذریعہ حقدار بن جاؤ۔ میں اس شخص کو مکمل تمہارے حوالے کردوں گا، ان لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ! ہم ناپسند کرتے ہیں کہ ان دیکھی بات پر قسم اٹھائیں پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہود کے پچاس افراد سے قسم لینے کا ارادہ کیا۔ تو انصار کہنے لگے : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہود قسم کی پروا نہیں کرتے ہم کب یہ بات ان سے قبول کرسکتے ہیں ایسے تو وہ ہمارے دوسرے لوگوں کے ساتھ بھی یہی معاملہ کریں گے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے پاس سے اس کی دیت ادا فرمائی۔
حدیث نمبر: 29630
٢٩٦٣٠ - وقال سليمان بن يسار: القسامة (حق) (١) قضى بها رسول اللَّه ﷺ (٢) بينما الأنصار عند رسول اللَّه ﷺ (إذ) (٣) خرج رجل منهم، ثم خرجوا من عند رسول اللَّه ﷺ، فإذا هم بصاحبهم (يتشحط) (٤) في دمه، فرجعوا إلى رسول اللَّه ﷺ فقالوا: قتلتنا اليهود -وسموا رجلًا منهم ولم تكن (لهم) (٥) بينة-، فقال لهم رسول اللَّه ﷺ: "شاهدان من غيركم حتى أدفعه اليكم برمته"، (فلم تكن لهم بينة فقال: ("استحقوا بخمسين قسامة أدفعه اليكم برمته") (٦)، (فقالوا) (٧): يا رسول اللَّه إنا نكره أن نحلف على غيب، فأراد نبي اللَّه ﷺ أن يأخذ قسامة اليهود بخمسين منهم، فقالت الأنصار: يا رسول اللَّه إن اليهود لا يبالون الحلف، (متى) (٨) (ما) (٩) نقبل هذا منهم يأتون على آخرنا، فوداه رسول اللَّه ﷺ من عنده (١٠).
حدیث نمبر: 29631
٢٩٦٣١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو خالد عن حجاج عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن حويصة ومحيصة (ابني) (١) مسعود وعبد اللَّه وعبد الرحمن (ابني) (٢) ⦗٢٤٨⦘ فلان (خرجوا) (٣) يمتاوون بخيبر، فعدي على عبد اللَّه فقتل، قال: (فذكر) (٤) ذلك (للنبي) (٥) ﷺ فقال النبي ﷺ (٦): "تقسمون (بخمسين) (٧) فتستحقون"، قالوا: يا رسول اللَّه كيف نقسم ولم شهد؟ قال: "فتبرئكم يهود"، -يعني يحلفون-، قال: فقالوا: يا رسول اللَّه إذن تقتلنا (يهود) (٨) قال: فوداه (رسول) (٩) اللَّه ﷺ من عنده (١٠).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ حویصہ بن مسعود، محیصہ بن مسعود، عبداللہ اور عبدالرحمن یہ چاروں سفر میں نکلے تو ان کا گزر خیبر کے پاس سے ہوا تو عبداللہ پر حملہ ہوا اور اسے مار دیا گیا راوی کہتے ہیں پس یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر کی گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم پچاس قسمیں اٹھاؤ گے تو تم حقدار بن جاؤ گے۔ انہوں نے کہا : یار سول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم کیسے قسم اٹھا سکتے ہیں حالانکہ ہم لوگ وہاں موجود نہیں تھے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ یہود کو بری کردو یعنی یہود قسم اٹھالیتے ہیں انہوں نے کہا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تب تو یہود ہمیں قتل کردیں گے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی دیت اپنے پاس سے ادا فرمائی۔ (٢٨٣٨٦ م) حضرت ابن یسار نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایسا ہی نقل کیا ہے مگر یوں فرمایا : عبدالرحمن مقتول کا بھائی بات کرنے گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : بلاؤ، بڑے کو بلاؤ پس ان کے بڑے نے بات کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم پچاس قسمیں اٹھا لو تم حقدار بن جاؤ یا وہ تمہارے لیے پچاس قسمیں اٹھالیں ؟ راوی کہتے ہیں انہوں نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کیسے کفار لوگوں کی قسمیں قبول کرسکتے ہیں ؟ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی دیت اپنے پاس سے ادا فرمائی۔
حدیث نمبر: 29632
٢٩٦٣٢ - (و) (١) قال (أبو خالد) (٢): أخبرني يحيى بن سعيد عن (ابن) (٣) يسار عن النبي ﷺ (٤) نحو هذا إلا أنه قال: ذهب عبد الرحمن أخو المقتول يتكلم، فقال النبي ﷺ: "الكبر الكبر"، فتكلم (الكُبر) (٥)، فقال رسول اللَّه ﷺ: "تقسمون بخمسين ⦗٢٤٩⦘ يمينًا فتستحقون، أو تقسم لكم بخمسين"، قال: فقالوا: (يا رسول) (٦) اللَّه كيف (نقبل) (٧) أيمان قوم كفار، قال: فوداه النبي ﷺ من عنده (٨).
حدیث نمبر: 29633
٢٩٦٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا المسعودي عن القاسم بن عبد الرحمن قال: انطلق رجلان من أهل الكوفة إلى عمر بن الخطاب فوجداه قد صدر عن البيت عامدًا إلى منى، فطافا بالبيت ثم أدركاه (فقصا) (١) عليه قصتهما (فقالا) (٢): يا أمير المؤمنين (إن) (٣) ابن عم لنا قتل نحن إليه شرع سواء في الدم وهو ساكت عنهما لا يرجع إليهما شيئًا، حتى ناشداه اللَّه، فحمل عليهما، ثم ذكراه اللَّه فكف عنهما، ثم قال: عمر ويل لنا إذا لم نذكر باللَّه، وويل لنا إذا لم نذكر اللَّه، فيكم شاهدان (ذوا) (٤) عدل تجيئان بهما على من قتله (فنقيدكم) (٥) منه، و (إلا) (٦) حلف من يدرأكم باللَّه: ما قتلنا ولاعلمنا قاتلًا، فإن نكلوا حلف منكم خمسون، ثم كانت لكم الدية (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت قاسم بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ دو آدمی کوفہ سے حضرت عمر بن خطاب کے پاس چل کر آئے انہوں نے آپ کو بیت اللہ سے منی کی طرف لوٹتا ہوا پایا ان دونوں نے بیت اللہ کا طواف کیا پھر انہوں نے آپ کو پا لیا تو انہوں نے آپ سے اپنا واقعہ بیان کیا انہوں نے کہا کہ اے امیرالمومنین ! ہمارا بھتیجا قتل ہوگیا ہے۔ حضرت عمر نے پہلے تو ان کی بات کی طرف توجہ نہ دی پھر ان سے فرمایا کہ دو عادل آدمی اس کے قاتل کے خلاف گواہی دے دیں۔ اگر وہ گواہی نہ دیں تو پچاس آدمی گواہی دیں کہ نہ ہم نے اس کو قتل کیا اور نہ اس کے قاتل کو جانتے ہیں پھر تمہیں دیت ملے گی۔
حدیث نمبر: 29634
٢٩٦٣٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن أبي إسحاق أن قتيلًا وجد في بني سلول فجاء الأولياء فابرأوا بني (سلول) (١) وادعوا على حي آخر، وأتوا شريحا ببني (سلول) (٢) وسألهم البينة على المدعى (عليهم) (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سفیان فرماتے ہیں کہ حضرت ابو اسحاق نے ارشاد فرمایا : ایک مقتول قبیلہ بنو سلول کے محلہ میں پایا گیا اس کے سرپرست آئے اور انہوں نے بنو سلول والوں کو سبکدوش کردیا اور دوسرے محلہ والوں کے خلاف دعوی کردیا وہ قبیلہ والے بنو سلول کو لیکر حضرت شریح کے پاس آئے تو آپ نے ان سے مدعی علیھم کے خلاف گواہی کے متعلق سوال کیا۔
حدیث نمبر: 29635
٢٩٦٣٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع قال: حدثنا) (١) سفيان عن مغيرة عن إبراهيم قال: إذا وجد قتيل في حي أخذ منه خمسون رجلًا، فيهم المدعى (عليهم) (٢)، وإن كانوا أقل من خمسين ردت عليهم الأيمان، الأول فالأول.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ ابراہیم نے ارشاد فرمایا : جب کسی محلہ میں کوئی مقتول پایا گیا تو ان میں پچاس لوگوں سے قسم لی جائے گی جس میں مدعی علیہم شامل ہوں گے اور اگر وہ لوگ پچاس سے کم ہوں تو ان پر دوبارہ قسم کو لوٹایا جائے گا اول فالا ول کے اعتبار سے۔
حدیث نمبر: 29636
٢٩٦٣٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسرائيل عن أبي إسحاق عن الحارث بن (الأزمع) (١) قال: وجد قتيل باليمين بين وادعة (وأرحب) (٢)، فكتب عامل عمر بن الخطاب إليه، فكتب إليه عمر: أن قس ما بين الحيين، (فإلى) (٣) أيهما كان أقرب فخذهم به، قال: فقاسوا فوجدوه أقرب إلى وادعة، (قال) (٤): فاخذنا وأغرمنا وأحلفنا، فقلنا: يا أمير المؤمنين أتحلفنا وتغرمنا؟ قال: نعم، قال: فأحلف ⦗٢٥١⦘ منا خمسين رجلًا (باللَّه) (٥) ما فعلت ولا علمت قاتلًا (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت حارث بن أزمع نے ارشاد فرمایا : یمن میں قبیلہ وادعہ اور ارحب کے درمیان ایک شخص مردہ حال میں پایا گیا تو حضرت عمر بن خطاب کے گورنر نے آپ کو اس بارے میں خط لکھا : حضرت عمر نے اس کو جواب میں لکھا کہ تم دونوں قبیلہ والوں کے درمیان پیمائش کرو کہ یہ مقتول دونوں میں سے کس قبیلہ کے زیادہ نزدیک ہے ان کو پکڑ لو راوی کہتے ہیں : انہوں نے پیمائش کی اور اس میں مقتول کو قبیلہ وادعہ کے زیادہ قریب پایا۔ راوی کہتے ہیں پس اس گورنر نے ہمارے قبیلہ والوں کو پکڑ لیا اور ہمیں ادائیگی کا ذمہ بنایا اور ہم سے قسم اٹھوائی ہم نے عرض کی اے امیرالمومنین ! کیا آپ ہم سے قسم اٹھوائیں گے اور ہمیں جرمانہ کی ادائیگی کا ذمہ دار بنائیں گے ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں ؟ راوی کہتے ہیں : پس ہم میں سے پچاس آدمیوں نے اللہ کی قسم اٹھائی : نہ ہم نے قتل کیا اور نہ ہی ہم قاتل کو جانتے ہیں۔
حدیث نمبر: 29637
٢٩٦٣٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا ابن أبي ليلى عن الشعبي أن قتيلًا وجد باليمين بين حيين قال: فقال عمر: انظروا أقرب الحيين إليه فأحلفوا منهم خمسين رجلًا باللَّه: ما قتلنا ولا علمنا قاتلًا، ثم تكون عليهم الدية (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی لیلیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا : یمن میں دو محلوں کے درمیان ایک شخص مردہ حالت میں پایا گیا تو حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : غور کرو کہ یہ مقتول دونوں محلوں میں سے کس کے زیادہ قریب ہے پس تم ان میں سے پچاس آمیوں سے اللہ کی قسم اٹھواؤ اس طرح کہ وہ کہیں ہم نے قتل نہیں کیا اور نہ ہی ہمیں قاتل معلوم ہے پھر ان پر دیت لازم ہوگی۔
حدیث نمبر: 29638
٢٩٦٣٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن معمر (أن) (١) الزهري سئل عن قتيل وجد في دار رجل فقال رب الدار: إنه طرقني ليسرقني فقتلته، وقال أقول: القتيل أنه دعاه إلى بيته فقتله، فقال: أن أقسم من أهل القتيل خمسون أنه دعاه فقتله (أقيد به) (٢)، وإن نكلوا غرموا الدية.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت معمر فرماتے ہیں کہ امام زہری سے ایسے شخص کے متعلق پوچھا گیا تھا۔ اور گھر کے مالک نے یوں کہا کہ بیشک یہ رات کو میرے پاس آیا تاکہ میرا مال چوری کرلے پس میں نے اسے قتل کردیا اور مقتول کے گھر والوں نے کہا کہ بیشک اس شخص نے ہی اسے اپنے گھر بلایا تھا اور اسے قتل کردیا اس پر آپ نے فرمایا : اگر مقتول کے اہلخانہ میں سے پچاس افراد اس بات پر قسم اٹھا لیں کہ گھر کے مالک نے اسے بلا کر قتل کردیا ہے تو میں اس سے قصاص لوں گا اور اگر یہ لوگ قسم اٹھانے سے انکار کردیں تو یہ دیت کے ذمہ دار ہوں گے۔ امام زہری نے فرمایا : حضرت ابن عفان نے بھی بنو باقرہ کے مقتول کے بارے میں یہی فیصلہ فرمایا تھا جب اس کے اولیاء نے قسم اٹھانے سے انکار کردیا تو حضرت عثمان نے انہیں دیت کی ادائیگی کا ذمہ دار بنادیا۔
حدیث نمبر: 29639
٢٩٦٣٩ - (قال) (١) الزهري: فقضى ابن عفان في قتيل من بني (باقرة) (٢) أبى أولياؤه أن يحلفوا، فأغرمه عثمان الدية (٣).
حدیث نمبر: 29640
٢٩٦٤٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن في القتيل ⦗٢٥٢⦘ (يوجد) (١) غيلة قال: يقسم من المدعى عليهم (خمسين) (٢) يمينًا: ما قتلنا ولا علمنا قاتلًا، فإن حلفوا فقد برأوا، وإن نكلوا أقسم من المدعين خمسون: إن دمنا قبلكم ثم يودى (٣).
مولانا محمد اویس سرور
یونس فرماتے ہیں کہ حسن بصری نے دھوکہ سے قتل ہونے والے مقتول کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا کہ مدعی علیھم میں سے پچاس آدمی یوں پچاس قسمیں اٹھائیں گے کہ نہ ہم نے قتل کیا ہے اور نہ ہمیں قاتل معلوم ہے پس اگر انہوں نے قسم اٹھالی تو وہ بری ہوجائں گے اور اگر انہوں نے قسم اٹھانے سے انکار کردیا تو مدعیوں میں سے پچاس لوگ قسم اٹھائیں گے کہ ہمارا خون تمہاری طرف سے ہوا ہے پھر دیت ادا کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 29641
٢٩٦٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن حماد بن سلمة عن هشام عن أبيه في القسامة لم يزل يعمل بها في الجاهلية والإسلام.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ہشام فرماتے ہیں کہ ان کے والد حضرت عروہ نے قسامت کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا کہ زمانہ جاہلیت اور اسلام میں مسلسل اس پر عمل کیا جاتا رہا ہے۔
حدیث نمبر: 29642
٢٩٦٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل بن دكين عن سعيد بن عبيد عن بشير بن يسار زعم أن رجلًا من الأنصار (يقال) (١) له: سهل بن أبي حثمة أخبره أن نفرا من (قومه) (٢) انطلقوا إلى خيبر فتفرقوا فيها، فوجدوا أحدهم قتيلًا، فقالوا للذين وجدوه عندهم: قتلتم صاحبنا، قالوا: ما قتلنا ولا علمنا، فانطلقوا إلى نبي اللَّه ﷺ فقالوا: يا نبي اللَّه انطلقنا إلى خيبر فوجدنا أحدنا قتيلًا، قال رسول اللَّه ﷺ: "الكبر الكبر"، فقال: "لهم تأتون بالبينة على من قتل"، فقالوا: ما لنا بينة، قال: فيحلفون لكم، قالوا: (٣) لا نرضى بأيمان اليهود، فكره (نبي) (٤) اللَّه ﷺ (أن يبطل دمه فوداه بمائة من إبل الصدقة) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت بشیر بن یسار ایک انصاری شخص جس کا نام سہل بن ابو حثمہ تھا وہ فرماتے ہیں کہ ان کی قوم کی ایک جماعت خیبر کی طرف گئی، وہ وہاں جا کر منتشر ہوگئے پھر انہوں نے اپنے ایک ساتھی کو مردہ حالت میں پایا ۔ انہوں نے جن کے پاس اسے مردہ حالت میں پایا تھا ان سے وہ کہنے لگے تم نے ہمارے ساتھی کو قتل کردیا انہوں نے کہا : ہم نے قتل نہیں کیا اور نہ ہی ہمیں قاتل کا علم ہے پھر یہ لوگ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگئے اور کہنے لگے، یا نبی اللہ ! ہم خیبر گئے تھے تو وہاں ہم نے اپنے ایک ساتھی کو مرا ہوا پایا۔ رسو ل اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بڑے کو بلاؤ بڑے کو بلاؤ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ا ن سے فرمایا : تم لوگ اس شخص کے خلاف گواہی لاؤ جس نے قتل کیا ہے انہوں نے کہا ہمارے پاس گواہ تو نہیں ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : پھر یہودی تمہارے لیے قسم اٹھائیں گے انہوں نے کہا : ہم یہود کی قسم سے راضی نہیں ہوں گے پس اللہ کے نبی نے اس کے خون کے رائیگاں جانے کو ناپسند سمجھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی دیت سو اونٹ ادا کی صدقہ کے اونٹوں میں سے۔