حدیث نمبر: 29621
٢٩٦٢١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن ابن أبي (ذئب) (١) أن عمر بن عبد العزيز أمر (أن) (٢) (تعقل) (٣) الموضحة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابو ذئب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے سر میں زخم لگانے والے کو دیت ادا کرنے کا حکم دیا۔
حدیث نمبر: 29622
٢٩٦٢٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الرحمن بن مهدي عن سفيان عن ابن أبي ذئب عن رجل عن سعيد بن المسيب قال: لا تعقل العاقلة إلا الثلث فما زاد.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابو ذئب کسی آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت سعید بن مسیب نے ارشاد فرمایا : عاقلہ دیت ادا نہیں کرے گی مگر تہائی یا اس سے زائد۔
حدیث نمبر: 29623
٢٩٦٢٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن مهدي عن سفيان عن عمر بن عبد الرحمن السهمي عن رجل أن رجلًا أتى عمر بن الخطاب في موضحة فقال: إنا لا نتعاقل (المضغ) (١) بيننا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر بن عبدالرحمن سہمی ایک آدمی سے نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر بن خطاب کے پاس سر کے زخم کے بارے میں آیا تو آپ نے فرمایا، ہم اپنے درمیان باہم طور پر گوشت کے چیتھڑوں کی دیت ادا نہیں کرتے۔
حدیث نمبر: 29624
٢٩٦٢٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا عيسى عن الشعبي قال: ليس فيما دون الموضحة عقل.
مولانا محمد اویس سرور
عیسیٰ فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا : سر کے زخم سے کم میں دیت نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 29625
٢٩٦٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن بكر عن ابن جريج قال: قلت لعطاء: متى يبلُغُ العقلُ أن (تَعقلَه) (١) العاقلةُ عامة (أجمعون) (٢) إذا بلغ الثلث؟ قال: ⦗٢٤٥⦘ نعم (أخال) (٣) (ولا أشك) (٤) أنه قال: وما لم يبلغ الثلث فعلى قوم الرجل خاصة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے دریافت کیا کہ دیت اتنی مقدار کو کب پہنچتی ہے کہ عاقلہ والے سب اس دیت کو ادا کریں جب ثلت کو پہنچ جائے اس وقت ؟ آپ نے فرمایا : ہاں میرا خیال ہے اور مجھے شک نہیں کہ انہوں نے یوں بھی کہا اور جب تک وہ ثلت کو نہ پہنچے پس اس وقت اس آدمی کی خاص قوم پر لازم ہوگی۔
حدیث نمبر: 29626
٢٩٦٢٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا زيد بن حباب عن عبد اللَّه بن مؤمل قال: حدثني عمر بن عبد الرحمن السهمي عن عطاء بن أبي رباح عن أبي أمية [(الأخنسي) (١) قال: كانت عند عمر بن الخطاب جالسًا، فجاء رجل من بني غفار، فقال: إن (ابني) (٢) شج، فقال (عمر) (٣): إن (هذه) (٤) المضغ] (٥) لا يتعاقلها أهل القرى (٦).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو امیۃ اخنس فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن خطاب کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ قبیلہ بنو غفار سے ایک آدمی آیا اور کہنے لگا یقینا میرے بیٹے کے سر میں چوٹ لگ گئی ہے تو آپ نے فرمایا، بیشک ان گوشت کے ٹکڑوں کے لیے بستی والے دیت ادا نہیں کرتے۔