حدیث نمبر: 29613
٢٩٦١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن الزهري عن القاسم عن عبيد بن عمير أن رجلًا أضاف إنسانا من هذيل، فذهبت جارية منهم تحتطب، ⦗٢٤٢⦘ فأرادها على نفسها فرمته بفهر فقتلته، فرفع إلى عمر بن الخطاب (قال) (١): فذلك قتيل اللَّه، لا يؤدى أبدًا (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبید بن عمیر فرماتے ہیں کہ آدمی نے قبیلہ ہذیل کے ایک شخص کی دعوت کی پس ان میں سے ایک باندی لکڑیاں کاٹنے جا رہی تھی۔ پس اس شخص نے اس باندی سے غلط کا م کا ارادہ کیا تو اس باندی نے پتھر مار کر اسے قتل کردیا پھر یہ معاملہ حضرت عمر بن خطاب کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا : وہ اللہ کا مقتول ہے اس کی کبھی دیت ادا نہیں کی جائے گی۔
حدیث نمبر: 29614
٢٩٦١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا حفص عن محمد بن يوسف عن السائب بن يزيد أن رجلًا أراد امرأة على نفسها، فرفعت حجرًا فقتلته، فرفع ذلك إلى عمر فقال: ذاك قتيل اللَّه (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سائب بن یزید فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی عورت سے غلط کام کا ارادہ کیا تو اس نے اسے پتھر اٹھا کر مارا اور اسے قتل کردیا پس یہ معاملہ حضرت عمر کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ نے فرمایا : وہ اللہ کا مقتول ہے۔
حدیث نمبر: 29615
٢٩٦١٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عائذ بن حبيب عن يحيى بن سعيد عن سليمان بن (يسار) (١) أن امرأة بالشام أتت الضحاك بن قيس فذكرت له أن إنسانًا استفتح عليها بابها وأنها استغاثت فلم يغثها أحد، وكان الشتاء، ففتحت له الباب وأخذت رحى فرمته بها فقتلته، فبعث معها (وإذا) (٢) لص من اللصوص وإذا معه متاع فأبطل دمه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن یسار فرماتے ہیں کہ شام کی ایک عورت حضرت ضحاک بن قیس کے پاس آئی اور ان کے سامنے ذکر کرنے لگی کہ ایک شخص نے اس کا دروازہ کھلوایا اس عورت نے مدد مانگی پس کسی نے اس کی مدد نہیں کی اور وہ سردیوں کے دن تھے پس اس نے اس کے لیے دروازہ کھول دیا اور چکی اٹھا کر اسے ماردی پس وہ آدمی مرگیا پھر حضرت ضحاک نے اس عورت کے ساتھ کسی کو بھیج دیا تو وہ چوروں میں سے ایک چور نکلا اور اس کے پاس سامان بھی تھا پس آپ نے اس کا خون باطل قرار دیا۔