حدیث نمبر: 29568
٢٩٥٦٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة بن سليمان، عن مجالد، عن الشعبي، عن ابن عباس أنه نظر إلى الكعبة فقال: ما أعظم حرمتك وما أعظم حقك، و (المسلم) (١) أعظم حرمة منك، حرم اللَّه ماله، وحرم دمه، وحرم عرضه وأذاه، وأن يظن به ظن سوء (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کعبۃ اللہ کی طرف نظر دوڑائی اور ارشاد فرمایا : تیری عزت و حرمت بہت زیادہ ہے اور تیرا حق بہت زیادہ اور یقینا مسلمان حرمت و عزت میں تجھ سے بڑھا ہوا ہے اللہ رب العزت نے اس کا مال حرام کردیا اور اس کو تکلیف پہنچانا حرام کردیا اور یہ کہ اسکے متعلق براخیال رکھا جائے۔
حدیث نمبر: 29569
٢٩٥٦٩ - [حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع، حدثنا سفيان عن يعلى بن عطاء، عن أبيه، عن عبد اللَّه بن عمرو قال: قتل المؤمن أعظم عند اللَّه ⦗٢٣٣⦘ من زوال الدنيا] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عطاء فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے ارشاد فرمایا : مومن کو قتل کرنا اللہ کے نزدیک دنیا کے ختم ہونے سے زیادہ بڑا گناہ ہے۔
حدیث نمبر: 29570
٢٩٥٧٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان (عن خصيف) (١) عن مجاهد عن ابن عباس ﴿فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا﴾ قال: من أوبقها، ﴿وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا﴾ [المائدة: ٣٢]، قال: من كف عن قتلها (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے { فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیعًا } ترجمہ :۔ گویا کہ اس نے پوری انسانیت کو قتل کردیا۔ آپ نے فرمایا : جس نے اس کو ہلاک کردیا۔ { وَمَنْ أَحْیَاہَا فَکَأَنَّمَا أَحْیَا النَّاسَ جَمِیعًا } اور جس نے اسے زندہ رکھا گویا وہ پوری انسانیت کو قتل کرنے سے رک گیا۔
حدیث نمبر: 29571
٢٩٥٧١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن منصور عن مجاهد ﴿وَمَنْ أَحْيَاهَا﴾ قال: [من أنجاها من غرق أو حرق فقد أحياها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے { وَمَنْ أَحْیَاہَا } کا یوں معنی بیان کیا کہ جس نے اس کو ڈوبنے یا جلنے سے بچایا تحقیق اس نے اسے زندہ کیا۔
حدیث نمبر: 29572
٢٩٥٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا (العلاء) (١) بن عبد الكريم قال: سمعت مجاهدا يقول: ﴿وَمَنْ أَحْيَاهَا] (٢) فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا﴾، قال: من كف عن قتلها فقد أحياها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت علاء بن عبدالکریم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت مجاہد کو اس آیت کا معنی یوں بیان فرماتے ہوئے سنا ؟ { وَمَنْ أَحْیَاہَا فَکَأَنَّمَا أَحْیَا النَّاسَ جَمِیعًا } ترجمہ :۔ اور جس نے اسے زندگی بخشی گویا اس نے پوری انسانیت کو زندگی بخشی۔ یعنی جو شخص اس کے قتل سے رک گیا تحقیق اس نے اسے زندہ کیا۔
حدیث نمبر: 29573
٢٩٥٧٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن أبي المقدام عن (حبة) (١) بن جوين الحضرمي عن علي: ﴿رَبَّنَا (أَرِنَا) (٢) اللَّذَيْنِ أَضَلَّانَا مِنَ الْجِنِّ ⦗٢٣٤⦘ وَالْإِنْسِ﴾ [فصلت: ٢٩]، ابن آدم الذي قتل أخاه وإبليس، [الأبالس (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حبہ بن جو ین حضرمی فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آیت ! اے ہمارے رب ! دکھا تو ہمیں وہ دونوں گروہ جنہوں نے گمراہ کیا ہے ہمیں جنوں اور انسانوں کو کا معنی یوں بیان کیا کہ مراد آدم کا بیٹا ہے جس نے اپنے بھائی کو قتل کردیا اور شیطانوں کا سردار مراد ہے۔
حدیث نمبر: 29574
٢٩٥٧٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن سلمة بن كهيل عن مالك بن حصين عن أبيه عن علي قال: ابن آدم الذي قتل أخاه وإبليس] (١) (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت حصین فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : مراد آدم کا بیٹا ہے جس نے اپنے بھائی کو قتل کیا اور شیطان ہے۔
حدیث نمبر: 29575
٢٩٥٧٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عبد اللَّه بن مرة عن مسروق عن عبد اللَّه قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "لا تقتل نفس ظلمًا إلا كان على ابن آدم الأول كفل من دمها؛ لأنه أول من سن القتل" (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کسی بھی نفس کو ظلماً قتل نہیں کیا جاتا مگر آدم کے پہلے بیٹے پر اس کے خون کے گناہ کا بوجھ ہوتا ہے اس لیے کہ اس نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ جاری کیا۔
حدیث نمبر: 29576
٢٩٥٧٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الحسن بن صالح عن إبراهيم (بن مهاجر عن إبراهيم) (١) قال: ما من نفس تقتل ظلمًا إلا كان على ابن آدم الأول والشيطان كفل منها.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابراہیم بن مہاجر فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم نے ارشاد فرمایا کسی بھی نفس کو ظلماً قتل نہیں کیا جاتا مگر یہ کہ آدم کے پہلے بیٹے اور شیطان پر اس کے گناہ کا بوجھ ہوتا ہے۔
حدیث نمبر: 29577
٢٩٥٧٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (وكيع قال: حدثنا) (١) سفيان عن ليث عن مجاهد: ﴿ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَّرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَت أَيْدِى النَّاسِ﴾ [الروم: ٤١]، قال: في البر ابن آدم الذي قتل أخاه، وفي البحر الذي كان يأخذ كل سفينة غصبًا
مولانا محمد اویس سرور
حضرت لیث فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے قرآن کی اس آیت کی تفسیر یوں بیان فرمائی : ترجمہ : فساد برپا ہوگیا خشکی اور تری میں بسبب اس کے جو کماتے ہیں ہاتھ انسانوں کے آپ نے فرمایا : خشکی میں آدم کا بیٹا مراد ہے جس نے اپنے بھائی کو قتل کردیا اور سمندر میں مراد وہ بادشاہ ہے جو ہر کشتی کو غصب کرلیتا تھا۔
حدیث نمبر: 29578
٢٩٥٧٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: (حدثنا) (١) هشيم عن إسماعيل بن سالم عن الشعبي قال: من قتل رجلين فهو جبار وتلا: ﴿أَتُرِيدُ أَنْ ⦗٢٣٥⦘ تَقْتُلَنِي كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًا بِالْأَمْسِ إِنْ تُرِيدُ إِلَّا أَنْ تَكُونَ جَبَّارًا فِي الْأَرْضِ (وَمَا تُرِيدُ أَنْ تَكُونَ مِنَ الْمُصْلِحِينَ) (٢)﴾ [القصص: ١٩].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت اسماعیل بن سالم فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا، جس شخص نے دو آدمیوں کو قتل کردیا تو وہ جبار ہے اور آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : ترجمہ :۔ تم چاہتے ہو کہ قتل کردو مجھے جیسے تم نے قتل کردیا تھا ایک انسان کو کل ؟ نہیں چاہتے ہو تم مگر یہ کہ ہو رہو جبار۔ الخ