حدیث نمبر: 29558
٢٩٥٥٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان (عن) (١) ابن أبي نجيح عن مجاهد قال: لقاتل المؤمن توبة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی نجیح فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے ارشاد فرمایا : مومن کو قتل کرنے کی توبہ قبول ہے۔
حدیث نمبر: 29559
٢٩٥٥٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن منصور عن مجاهد قال: كان يقال: توبة القاتل إذا ندم.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت منصور فرماتے ہیں کہ حضرت مجاہد نے فرمایا کہ یوں کہا جاتا تھا : قاتل کی توبہ اس صورت میں ہے جب وہ شرمندہ ہو۔
حدیث نمبر: 29560
٢٩٥٦٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن أبي حصين عن سعيد بن جبير قال: لا أعلم لقاتل (المؤمن) (١) توبة إلا الاستغفار.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو حصین فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر نے ارشاد فرمایا : میں مومن کے قاتل کی توبہ کو استغفار کے سوا کسی میں نہیں جانتا۔
حدیث نمبر: 29561
٢٩٥٦١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا الفضل عن الصباح بن ثابت عن عكرمة قال: للقاتل توبة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت صباح بن ثابت فرماتے ہیں کہ حضرت عکرمہ نے ارشاد فرمایا : قاتل کی توبہ قبول ہے۔
حدیث نمبر: 29562
٢٩٥٦٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو بكر بن عياش عن أبي إسحاق قال: جاء رجل إلى عمر فقال: إني قتلت فهل لي من توبة؟ قال: نعم، فلا (تيأس) (١) (وقرأ) (٢) عليه من حم المؤمن: ﴿غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ شَدِيدِ الْعِقَاب﴾ (٣) [غافر: ٣].
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت عمر کے پاس آیا اور کہنے لگا : میں نے قتل کیا تھا کیا میری توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں تم مایوس مت ہو اور آپ نے اس پر سورة حم مومن کی یہ آیت تلاوت فرمائی۔
حدیث نمبر: 29563
٢٩٥٦٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا بن سعيد عن التيمي عن أبي مجلز: ﴿فَجَزَآؤُهُ جَهَنَّمُ﴾ قال: هي جزاؤه فإن شاء أن يتجاوز عن جزائه فعل.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت تیمی فرماتے ہیں کہ حضرت ابو مجلز نے { فَجَزَاؤُہُ جَہَنَّمُ } کے بارے میں ارشاد فرمایا : جہنم اس کی سزا ہے پس اگر وہ اس کی سزا سے تجاوز کرنا چاہے تو وہ ایسا کرسکتا ہے۔
حدیث نمبر: 29564
٢٩٥٦٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عمرو بن محمد عن شعبة عن (سيار) (١) عن أبي صالح نحوه.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سیار نے حضرت ابو صالح سے مذکورہ ارشاد اس سند سے نقل کیا ہے۔
حدیث نمبر: 29565
٢٩٥٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن عبد الكريم عن زياد بن أبي مريم عن ابن (معقل) (١) قال له: أسمعت أباك يقول: سمعت عبد اللَّه يقول: سمعت النبي ﷺ يقول: (الندم توية) (٢)، قال: نعم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت زیاد بن ابو مریم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن معقل سے پوچھا : کیا تم نے اپنے والد کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت عبداللہ کو سنا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : توبہ ندامت کا نام ہے ؟ انہوں نے جواب دیا ہاں۔
حدیث نمبر: 29566
٢٩٥٦٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان الثوري عن عبد الكريم عن زياد بن أبي مريم عن عبد اللَّه بن (معقل) (١) أن أباه (معقل) (٢) بن مقرن المزني قال لابن مسعود: أسمعت النبي ﷺ يقول: "التوبة ندم"، قال: نعم (٣).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبداللہ بن معقل فرماتے ہیں کہ میرے والد حضرت معقل بن مقرن مزنی نے حضرت ابن مسعود سے دریافت کیا ! کہ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے ہوئے سنا کہ توبہ ندامت کا نام ہے ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں
حدیث نمبر: 29567
٢٩٥٦٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا أبو مالك الأشجعي عن (سعد بن) (١) عبيدة قال: جاء رجل إلى ابن عباس فقال: لمن قتل مؤمنًا توبة؟ قال: لا، (إلا) (٢) النار، فلما ذهب قال له جلساؤه: ما هكذا كنت تفتينًا، كنت تفتينًا أن لمن قتل مؤمنًا توبة مقبولة، فما بال (هذا) (٣) اليوم؟ قال: إني أحسبه (رجلًا مغضبًا) (٤) يريد أن يقتل مؤمنًا، قال: فبعثوا في أثره فوجدوه كذلك (٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن عبیدہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضر ت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا : کیا مومن کو قتل کرنے والے کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، سوائے جہنم کے پس جب وہ شخص چلا گیا۔ آپ کے ہم نشینوں نے آپ سے کہا : آپ ہمیں ایسے تو فتویٰ نہیں دیتے تھے۔ آپ تو ہمیں یوں فتویٰ نہیں دیتے تھے کہ یقینا مومن کو قتل کرنے والے کی توبہ قبول ہوتی ہے تو آج اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا میرا خیال ہے یہ شخص غصہ میں ہے اور کسی مومن کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے راوی نے کہا : پس وہ لوگ اس آدمی کے پیچھے گئے انہوں نے اسے ایسا ہی پایا۔