حدیث نمبر: 29544
٢٩٥٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن عيينة عن ابن أبي نجيح عن كردم أن رجلًا سأل ابن عباس وأبا هريرة (وابن عمر) (١) عن رجل قتل مؤمنًا، فهل له من توبة؛ فكلهم قال: يستطيع أن يحييه؟ يستطيع أن يبتغي نفقًا في الأرض؟ أو سلمًا في السماء؟ يستطيع أن لا يموت؟ (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت کردم فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ، حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایسے آدمی کے متعلق دریافت کیا جس نے کسی مومن کو قتل کردیا ہو کیا اس کی توبہ قبول ہوگی ؟ ان سب حضرات نے فرمایا : کیا وہ طاقت رکھتا ہے کہ وہ اسے زندہ کردے ؟ کیا وہ اس بات کی طاقت رکھتا ہے کہ وہ زمین میں کوئی سرنگ تلاش کرلے یا آسمان میں سیڑھی ؟ کیا وہ طاقت رکھتا ہے کہ اس کو موت نہ آئے ؟
حدیث نمبر: 29545
٢٩٥٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن (فضيل) (١) عن أبي نصر ويحيى الجابر عن سالم بن أبي الجعد عن ابن عباس قال: أتاه رجل فقال: يا أبا عباس أرأيت رجلًا قتل (٢) متعمدًا ما جزاؤه؟ قال: ﴿(جَزَآؤُهُ و) (٣) جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيْهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ﴾ [النساء: ٩٣] الآية، قال: أرأيت إن تاب وآمن وعمل صالحًا ثم اهتدى؟ فقال: وأنى له التوبة ثكلتك أمك، إنه يجيء يوم القيامة آخذا برأسه تشخب أوداجه حتى (يقف) (٤) به عند (العرش) (٥) فيقول: يا رب سل هذا ⦗٢٢٦⦘ (فيم) (٦) قتلني (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم بن ابو الجعد فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا : اے ابو عباس ! آپ کی کیا رائے ہے اس شخص کے بارے میں جس نے جان بوجھ کر قتل کردیا ہو اس کی سزا کیا ہے ؟ آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : ترجمہ :۔ اس کا بدلہ جہنم ہے ہمیشہ رہے گا اس میں اور اس پر اللہ کا غصہ ہے اس آدمی نے پوچھا ؟ آپ کی کیا رائے ہے اگر وہ توبہ کرلے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے پھر اس کو ہدایت مل جائے ؟ آپ نے فرمایا : اس کی توبہ کہاں قبول ہوسکتی ہے ؟ تیری ماں تجھے گم پائے ؟ بیشک مقتول شخص قیامت کے دن آئے گا اس حال میں کہ اس نے اپنا سر پکڑا ہوا ہوگا اور اس کی رگوں سے خون نکل رہا ہوگا یہاں تک کہ وہ عرش کے پاس ٹھہر جائے گا اور کہے گا : اے پروردگار ! اس سے پوچھیے کیوں اس نے مجھے قتل کیا ؟
حدیث نمبر: 29546
٢٩٥٤٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن مطرف عن أبي السفر عن (ناجية) (١) عن ابن عباس قال: هما المبهمتان: الشرك والقتل (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ناجیہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : یہ دونوں سنگین گناہ ہیں شرک اور قتل۔
حدیث نمبر: 29547
٢٩٥٤٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا (حريث) (١) بن السائب عن الحسن قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "ما نازلت ربي في شيء ما نازلته في قاتل المؤمن فلم يجبني" (٢).
مولانا محمد اویس سرور
حسن بصری فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے پروردگار سے کسی چیز کے بارے میں بار بار نہیں پوچھا : جتنا میں نے اس سے مومن کو قتل کرنے والے کے با رے میں پوچھا : پس اس نے میری بات کا جواب نہیں دیا۔
حدیث نمبر: 29548
٢٩٥٤٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سفيان عن هارون بن سعد عن أبي الضحى قال: كنت مع ابن عمر في فسطاطه فسأله رجل عن رجل قتل مؤمنًا متعمدًا، قال: فقرأ عليه ابن عمر: ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيْهَا﴾ إلى آخر الآية، فانظر من قتلت (١).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الضحی فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ان کے خیمہ میں تھا کہ ایک آدمی نے آپ سے ایسے آدمی کے متعلق دریافت کیا جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کردیا ہو ؟ تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس پر یہ آیت تلاوت فرمائی : جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کردے تو اس کی سزا جہنم ہے رہے گا اس میں ہمیشہ پس تم غور کرو جو تم نے قتل کیا ہو !
حدیث نمبر: 29549
٢٩٥٤٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سلمة بن نبيط عن الضحاك قال: ليس لقاتل المؤمن توبة.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ بن نبی ط فرماتے ہیں کہ حضرت ضحاک نے ارشاد فرمایا : مومن کو قتل کرنے والے کیلئے توبہ نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 29550
٢٩٥٥٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبد الأعلى عن يونس عن الحسن قال: قال أبو موسى: ما من خصم يوم القيامة أبغض إلي من رجل قتلته، تشخب أوداجه دما فيقول: يا رب سل هذا علام قتلني (١)؟.
مولانا محمد اویس سرور
حسن بصری فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ نے ارشاد فرمایا میرے نزدیک قیامت کے دن سب سے مبغوض جھگڑالو وہ آدمی ہوگا جس کو میں نے قتل کیا ہوگا اس کی رگوں سے خون نکل رہا ہوگا وہ کہے گا : اے پروردگار اس سے پوچھو کہ کس وجہ سے اس نے مجھے قتل کیا ؟
حدیث نمبر: 29551
٢٩٥٥١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سلمة بن نبيط عن الضحاك ابن مزاحم قال: لأن أتوب من الشرك أحب إلي من أن أتوب من قتل مؤمن.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ بن نبی ط فرماتے ہیں کہ حضرت ضحاک بن مزاحم نے ارشاد فرمایا : میرے نزدیک شرک سے توبہ کرنے سے زیادہ پسندیدہ یہ ہے کہ میں مومن کے قتل سے توبہ کروں
حدیث نمبر: 29552
٢٩٥٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا سلمة بن نبيط عن الضحاك ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيْهَا﴾ قال: ما (نسخها) (١) شيء منذ نزلت.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلمہ بن نبی ط فرماتے ہیں کہ حضرت ضحاک بن مزاحم نے اس آیت کے بارے میں فرمایا : ترجمہ :۔ اور جس نے جان بوجھ کر مومن کو قتل کردیا تو اس کا بدلہ جہنم ہے رہے گا اس میں ہمیشہ۔ جب سے یہ آیت اتر ی ہے اس کا کچھ حصہ بھی منسوخ نہیں ہوا۔
حدیث نمبر: 29553
٢٩٥٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا إسماعيل (عن) (١) عبد الرحمن بن عائذ عن عقبة بن عامر الجهني قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "من لقي اللَّه (لا) (٢) يشرك به شيئًا لم (يند) (٣) بدم حرام دخل الجنة" (٤).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ بن عامر جہنی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اللہ سے ملا اس حال میں کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہرایا اور حرام خون نہیں بہایا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔
حدیث نمبر: 29554
٢٩٥٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا الأعمش عن إبراهيم قال: قال عبد اللَّه: لا يزال الرجل في فسحة من دينه ما (نقيت) (١) كفه من الدم، فإذا ⦗٢٢٨⦘ غمس يده في دم حرام نزع حياؤه (٢).
مولانا محمد اویس سرور
ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا : آدمی مسلسل دین کی کشادگی میں رہتا ہے جب تک کہ اس کا ہاتھ خون سے صاف ہو۔ پس جب وہ اپنا ہاتھ حرام خون میں ڈبو لیتا ہے تو اس کی حیا سلب کرلی جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 29555
٢٩٥٥٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن (شمر) (١) عن شهر بن حوشب عن أبي الدرداء قال: يجيء المقتول يوم القيامة (فيجلس) (٢) على (الجادة) (٣) فإذا مر به القاتل قام إليه فأخذ بتلبيبه فيقول: يا رب سل هذا (فيم قتلني) (٤) قال: فيقول أمرني [(فلان) (٥) قال: فيؤخذ القاتل] (٦) والآمر فيلقيان في النار (٧).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت شھر بن حوشب فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الدرداء نے ارشاد فرمایا : مقتول شخص قیامت کے دن آئے گا اور راستہ کے بیچ میں بیٹھ جائے گا جب قاتل اس کے پاس سے گزرے گا تو وہ کھڑا ہو کر اس کے گریبان کو پکڑ لے گا اور کہے گا : اے پروردگار ! اس سے پوچھ کہ کس وجہ سے اس نے مجھے قتل کیا ! تو وہ شخص کہے گا کہ مجھے فلاں نے حکم دیا تھا۔ آپ نے فرمایا : قاتل اور حکم دینے والے دونوں کو پکڑ لیا جائے گا اور جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔
حدیث نمبر: 29556
٢٩٥٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا أبو الأشهب قال: سمعت مزاحم الضبي [يحدث] الحسن عن ابن عباس قال: بينما رجل قد سقى في حوض (له) (١) ينتظر (٢) (ذودًا) (٣) (يرد) (٤) عليه، إذ جاءه رجل راكب ظمآن مطمئن، قال: أرد؟ قال: (لا) (٥)، قال: فتنحى، فعقل راحلته، فلما رأت الماء دنت من الحوض، ⦗٢٢٩⦘ ففجرت الحوض، قال: فقام (صاحب) (٦) الحوض فأخذ سيفًا من عنقه، ثم (ضربه) (٧) به حتى قتله، قال: فخرج يستفتي، فسأل (رجالًا) (٨) من أصحاب محمد لست أسميهم، فكلهم (يؤيسه) (٩) حتى أتى رجلًا منهم فقال: هل تستطيع (أن تصدره كما أوردته؟ قال: لا، قال: فهل تستطيع) (١٠) أن تبتغي (نفقًا) (١١) في الأرض أو سلما في السماء؟ فقال: لا، قال: فقام الرجل، فذهب غير بعيد، فدعاه فرده فقال: هل لك من والدين؟ (فقال) (١٢): نعم، أمي حية، قال: احملها وبرها، فإن (دخل) (١٣) (الآخر) (١٤) النار فأبعد اللَّه من أبعده (١٥).
مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الاشھب فرماتے ہیں کہ حضرت مزاحم ضبی نے حسن بصری کو بیان کیا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : ایک آدمی اپنے حوض میں سیراب کرنے کے لیے اپنے اونٹوں کا انتظار کررہا تھا جو اس حوض پر اترنے والے تھے کہ اس کے پاس ایک پیاسا سوار شخص اطمناین کے ساتھ آیا اور کہنے لگا : کیا میں پانی کے پاس آجاؤں ؟ اس نے جواب دیا : نہیں۔ پس وہ شخص دور ہوگیا۔ اس نے اپنی سواری کو باندھا جب اس کی سواری نے پانی دیکھا تو وہ حوض کے قریب ہوگئی اور حوض میں گھس گئی پھر وہ حوض کا مالک اٹھا اس نے اپنی تلوار پکڑی اور اس آدمی کو مارڈالا۔ راوی کہتے ہیں : پس وہ شخص فتوی لینے کے لیے نکلا پس اس نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اصحاب میں سے چند لوگوں سے سوال کیا میں ان کے نام نہیں بتلاؤں گا وہ سب اس کو مایوس کر رہے تھے یہاں تک کہ وہ ایک صحابی کے پاس گیا، انہوں نے اس آدمی سے کہا : کیا تو طاقت رکھتا ہے کہ تو اس زمین کی ہر چیز فدیہ میں دے دے یا آسمان تک سیڑھی بنا لے ؟ اس نے کہا نہیں۔ پھر و ہ آدمی تھوڑا دور ہی گیا تھا کہ اسے بلا کر اس سے پوچھا کہ کیا تیرے والدین ہیں ؟ اس نے کہا میری والدہ زندہ ہیں۔ ان صحابی نے ان سے کہا کہ جا ان کی خدمت کر اور ان کی فرماں برداری کر۔ اگر دوسرا شخص جہنم میں داخل ہوا تو اللہ دور کرے اس شخص کو جو اسے دور کرے گا۔
حدیث نمبر: 29557
٢٩٥٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى بن آدم قال: حدثنا (سلام) (١) بن مسكين قال: حدثنا سليمان بن علي عن أبي سعيد (٢) قال: قيل له في هذه الآية: ﴿مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا﴾ [المائدة: ٣٢]، ⦗٢٣٠⦘ أهي (لنا) (٣) كما كانت لبني إسرائيل؟ قال: فقال: إي، والذي لا إله إلا هو.
مولانا محمد اویس سرور
حضرت سلیمان بن علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سعید خدری سے پوچھا گیا اس آیت کے بارے میں۔ ترجمہ :۔ جس نے قتل کیا کسی انسان کو بغیر اس کے کہ اس نے کسی کی جان لی ہو یا فساد مچایا ہو زمین میں تو گویا اس نے قتل کرڈالا سب انسانوں کو کیا اس آیت کا حکم ہمارے لیے بھی وہی ہے جو بنی اسرائیل کے لیے تھا ؟ آپ نے فرمایا : ہاں قسم ہے ! اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔